×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستانی ریاست میں آرمی کا کردار
Dated: 05-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com نائن الیون کے بعد 3ستمبر2006ء کو پہلی بار امریکی فوج نے جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ میں قدم رکھا جس پر پاک فوج نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ پاکستانی عوام اور میڈیا نے بھی بھرپور ردِعمل ظاہر کیا تاہم امریکی فوج کا یہ حملہ غیرمتوقع نہ تھا۔ سینئر امریکی حکام پہلے سے انتباہ کر رہے تھے کہ وزیرستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرحد پار افغانستان میں امریکی فوج پر طالبان اور القاعدہ کے حملوں میں شدت آنے اور امریکی افواج کے بڑھتے ہوئے جانی نقصان کے پیش نظر اس قسم کے حملے ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام آئی ایس آئی پر بھی یہ الزام دھرتے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف ناقابل اعتماد انٹیلی جنس پارٹنر ہے بلکہ کابل میں بھارتی سفارت خانہ پر حملے کا منصوبہ بھی اس نے بنایا۔ امریکہ یہ بھی کہتا رہا کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاک فوج موثر کارروائی نہیں کر رہی۔ 2جون کو ڈیلی ٹائمز کے صفحہ اول پر ایک خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی ’’پینٹاگون وزیرستان میں حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘‘ اس خبر کی تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ جوں جوں بش انتظامیہ کے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے امریکہ کا جنون بڑھ رہا ہے ۔ اس سال صدر بش نے 28جون کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کے دوران بھی انہیںیہ پیغام دیا تھا، جبکہ اس سے پہلے انگور اڈہ پر حملہ سے قبل 28اگست کو امریکی طیارہ بردار بحیڑہ ابراہم لنکن پر آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی تھی۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے غیرملکی ارکان اور افغان طالبان موجود ہیں جنہوں نے امریکہ اور پاکستان سمیت اتحادیوں کے خلاف اپنی زندگیاں جہاد کے لیے وقف کر رکھی ہیں اوران سرگرمیوں کا دائرہ افغانستان کے پہاڑوں سے لے کر امریکہ کے ساحلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان قوتوں نے پاکستانی طالبان کو بھی اپنے ساتھ شامل کر رکھا ہے اور ان کے پاکستان اور امریکہ مخالف جہادی اور فرقہ ورانہ تنظیموں اور گروپوں سے بھی رابطے ہیں۔ کیا ان سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کو بزور طاقت صفایا کر دیا جائے؟ مگر مختلف وجوہات کی بناء پر ایسا ناممکن ہے کہ فاٹا کے قبائل میں دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک سیاسی و مذہبی اور عملی حوالے سے یکجا ہے۔ فوجی حملوں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی وجہ سے ان کے اور ہماری سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ ایک اور مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف فوج کی براہ راست کارروائی کسی ناقص پالیسی سے جنم لیتی ہے۔ نیٹ ورک کے بعض عناصر کے ساتھ فوج کے طے پانے والے امن سمجھوتے بھی اس میں اپنا کردار اس لیے نہیں ادا کر پاتے کہ اکثر ایسے امن معاہدے پر عمل نہیں ہو پاتا۔ اس سے قبائلی علاقہ میں روایتی سیاسی نظام پر بھی زد پڑتی ہے جو قبائلی جرگہ اور پولیٹیکل ایجنٹ کے گرد گھومتا ہے، جسے مستقل ریاستی اقتدار کے کسی متبادل ذریعے سے نہیں بدلا جاتا، دہشت گردی کے اس نیٹ ورک نے اس خلاء کو مزید بڑھایا ہے۔ اس کی شاید تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاک فوج کبھی حملہ کرنے اور کبھی چپ رہنے کی پالیسی پر گامزن ہے جس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں اول یہ کہ امریکی فوج نے ہمیشہ افغانستان میں نہیں رہنا، اور نہ وہاں قومی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ہے۔ لہٰذا پاک فوج کی توجہ صرف ایک محدود آپریشن تک رہنی چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی صفوں میں پاکستان کے جو روایتی حلیف موجود ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وقت آنے پر قابل میں جب کبھی کوئی نئی حکومت بنے تو اس میں انہیں ان کا جائز حصہ مل سکے۔لہٰذا پالیسی پر اس حوالے سے نظر ڈالی جائے کہ افغان طالبان ایک اثاثہ ہیں انہیں القاعدہ اور پاکستانی طالبان سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا اپنا کوئی عقیدہ نہیں ہے اور وہ دہشت گردی کے نیٹ ورک اور بھارتی ’’را‘‘ اور اسرائیلی ’’موساد‘‘ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کی ایک وجہ داخلی پالیسی کا موثر نہ ہونا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت و اتحاد اور اپوزیشن دونوں بھارت کے ساتھ مشترکہ ثقافتوں پر مبنی امن کو فروغ دینے، تجارت بڑھانے اور دو ہمسائیوں کے درمیان ایک دوسرے پر اقتصادی انحصار کی پالیسی اپنانے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ ایسی کسی پالیسی سے سب سے زیادہ دھچکا فوج کی سوچ کو لگتا ہے جبکہ گذشتہ برسوں میں پاکستان کے اندر فوجی و عسکری ٹارگٹوں پر حملے بھارت کی جانب سے ہماری پالیسی کی نفی کرتے ہیں، خود بھارت بمبئی حملوں کو بہانہ بنا کر پاکستان کی سالمیت کے پیچھے پڑا ہے جو کہ پاک فوج کے لیے اندرونی پالیسی کے برعکس ایک چیلنج ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ کی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی حملے کے بعد امریکہ کے طرزِ فکر میں جو تبدیلی آئی ہے اس کا علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں امریکی انتظامیہ نے پاک فوج کو اپنے مسائل کا حل سمجھا ہے کبھی مسئلہ نہیں سمجھا لیکن اب امریکی انتظامیہ اور پالیسی میکرز کا رویہ بدل رہا ہے۔ امریکہ آئی ایس آئی کو ہدف تنقید بنا رہا ہے جو کہ فوج کا دایاں بازو ہے اور دنیا کی کسی بھی انٹیلی جنس ایجنسی سے بالحاظ کارکردگی بہتر ہے۔ اور امریکہ اب ہماری سول حکومت پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ ملٹری ایجنسیوں میں اصلاحات لائے۔ اس سے آئی ایس آئی کا فوج سے قدرتی رابطہ کٹ جائے گا اور اس طرح مضبوط پاک فوج سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر آ جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ پاک فوج کی قیادت اپنی سوچ اور حکمت عملی کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے گی؟ یا فوج ایک دفعہ پھر امریکہ مخالف جذبات کا فائدہ اٹھا کر سویلین نظام کو زیر کر لے گی تاکہ اپنی برتری برقرار رکھ سکے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی او رانتہا پسندی کے خلاف جنگ جو اصل میں پاکستان کی جنگ ہے ، کی ہار جیت کا فیصلہ جی ایچ کیوں میں ہوگا۔ پاکستان میں مشرف آمریت کے بعد ایک خوش کن تبدیلی آئی ہے اس سے طالبان کے خطرے سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ سیاسی و فوجی دونوں قیادتوں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے سمیت سیکورٹی کے متعلق تمام امور پر تقریباً ہم آہنگی ہے۔ مثلاً فوج اس پارلیمانی قرارداد کی حامی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی و دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کی جائے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا طریقہ کار کو آزاد خارجہ پالیسی سے آہنگ کیا جائے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کا قبائلی علاقوں کے متعلق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دینا ،اتفاق رائے سے آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدہ ملازمت کو توسیع دینے سمیت سویلین قیادت کو قبائلی علاقوں کے حالات کی مسلسل خبر دینا اس نئی پالیسی کا تسلسل ہے۔ یاد رکھیے فوجیں قوموں کے لیے لڑتی ہیں اور قومیں افواج تشکیل دیتی ہیں اس لیے ایک مضبوط پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج کا ہونا سونے پر سہاگہ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus