×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
5جولائی۔ یومِ سقوطِ جمہوریت
Dated: 05-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 28اپریل1977ء کے دن پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جو فکر انگیز کلمات ادا کیے وہ ہماری تاریخ کا ایک لازوال حصہ بن گئے ہیں۔ اس قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وی آئی پی گیلری میں بیٹھے ہوئے غیرملکی سفارت کار بہت بے چین اور مضطرب تھے،انہیں اپنی نشستوں پر قرار نہیں آ رہا تھا کیونکہ 12اپریل کو انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق دو اعلیٰ امریکی سفارت کار ٹیلی فون پر آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ بس اب پیپلزپارٹی ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ بن گئی ہے۔ حکومت بس جانے ہی والی ہے اور بھٹو کو سبق سکھا دیا جائے گا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بتایا کہ قومی اتحاد کے جنرل سیکرٹری رفیق احمد باجوہ نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر اسلامی شریعت نافذ کردی جائے تو ہم اپنے دیگر مطالبوں سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور جب میں نے ایسا کرنے کی حامی بھری ہے تو پھر اختلافات کیسے؟ پھر ملک میں غیرملکی کرنسی کا سیلاب کیوں آیا ہوا ہے۔ ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں چھ روپے ہو گئی ہے اور یہ روپیہ کس مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ روپیہ استحکام پاکستان کو متزلزل کرنے کے لیے، اذانیں دینے، گرفتاریاں پیش کرنے اور جلسے جلوسوں میں شرکت کے لیے بانٹا جا رہا ہے۔ یہ پیسہ بجلی، گیس،میٹر ریڈروں کے ذریعے گھر گھر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ پیسہ مزدوروں، کسانوں اور انجمنوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو حکومت کے خلاف ترغیب دی جا سکے۔ جناب بھٹو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جن لوگوں نے اپوزیشن کی ایجی ٹیشن کو منظم کرنے کے لیے ایسا کیا ہے انہوں نے ہی ماضی میں ایوب خان کو پیش کش کی تھی کہ اگر اس کے خلاف کوئی انقلاب آئے گا تو وہ ایوب خان کو ایسی امداد دیں گے جن سے جوابی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ایوب خان کو اس سلسلہ میں ایک منصوبہ بھی پیش کیا گیا تھا جس کا ’’کوڈ‘‘ نیم آپریشن پہیہ جام رکھا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایوب خان کو تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات مہیا کی جاتیں۔ جناب بھٹو نے کہا یہ پہیہ جام ہمارے اپنے عوام کی اختراع نہیں یہ غیرملکی سازش ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا پاکستان نے جب ویت نام کی جنگ میں کردار ادا کیا اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے خود جو میں نے کردار ادا کیا اور چین سے تعلقات بہتر بنانے میں ایک کلیدی رول ادا کیا، اس کو انکل سام کیسے بھول سکتا ہے جن کا انتخابی نشان ہی ہاتھی ہے اور ہاتھی کبھی اپنے دشمن کو معاف نہیں کرتا۔ ہاتھی بڑا کینہ پرور جانور ہے وہ بھولتا نہیں اپنے دشمن کو یہی وجہ ہے کہ ہاتھی کو جب موقع ملا اس نے اپنے دشمن کو سزا دینے کے لیے اپنی حرکات شروع کر دیں ہیں۔ 1973ء میں جنگ رمضان کے موقع پر میں نے اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عربوں کی جو اخلاقی ،مادی اور فوجی امداد دی تھی اور تیسری دنیا کے سربراہوں کی کانفرنس کی جو تجویز پیش کی تھی اور اسی ہاتھی نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کا بھی بُرا منایا تھا اور اس پر غصہ کیا تھا۔ پھر ترکی ،یونان اور کوریا کے مسائل کے حل کے لیے پاکستان سے جو اپیل کی گئی تھی ہاتھی اور اس کے ساتھیوں کو کب گوارہ تھا ۔ پھر پاکستان اور فرانس کے درمیان جو ایٹمی ری پراسینگ پلانٹ کاجو معاہدہ ہوا تھا اور ایٹمی توانائی کو ایندھن بنانے کا پاکستان کا جو عزم تھا اس معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔ چونکہ میں نے اس سلسلہ میں دبائو کا مقابلہ کیا ہے بس اسی کو میرا جرم سمجھا گیا ہے۔ بھٹو نے کہا پاکستان کے بارے میں میرا کیا تصور ہے ایک خواب ہے، ایک مشن ہے جسے میں مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے مزدوروں، کسانوں، خواتین کو آزادی دلا کر سرمایہ دارانہ نظام اور اجارہ داریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ میں 1958ء سے افغانستان کے معاملات سے منسلک ہوں اور مجھ سے بہتر افغانستان سے تعلقات کوئی اور استوار نہیں کر سکتا۔ جناب بھٹو نے قومی اتحاد کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا میں حلفاً کہتا ہوں کہ میری حکومت نے پولنگ کے دوران یا اس بارے میں کسی مداخلت کی ہدایات نہیں دی تھیں اور صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے کہا تھاکہ دھاندلیوں کے متعلق شکایات پر کاروائی کے عمل کو یقینی بنائیں اور ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے حکومت کی بدنامی ہو۔اور الیکشن سے دو روز قبل یعنی 5مارچ کو لاہور میں تمام کمشنروں کو بھی اسی طرح کی ہدایات دیں۔ جناب بھٹو نے کہا کہ کراچی میں اپوزیشن نے 9سیٹیں جیتیں، صوبہ سرحد میں اپوزیشن نے اکثریت حاصل کی تو پھر پنجاب اور اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی کی فطری جیت کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھٹو نے کہا جب نکسن انتخابات میں کینیڈی سے ہار گئے تو مشیروں کا خیال تھا کہ کچھ صوبوں میں دھاندلی ہوئی ہے مگر نکسن نے انتخابات کو چیلنج کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا کیوں کہ اس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ مگر پاکستان کی اپوزیشن کو اختلاف الیکشن پر نہیں ہے بلکہ اختلافات کا سبب وہ منصفانہ اور سماجی واقتصادی اصلاحات ہیں جو ان کی حکومت نے ایک خوشحال معاشرے کے قیام کے لیے گذشتہ پانچ سال میں کی ہیں۔ اسلام مذہب کے طور پر ہماری پارٹی کے بنیادی رہنما اصولوں میں سے ایک ہے۔ ان کی حکومت نے اسلام کی جو خدمت کی ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے اور پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور آئین کی دفعات کے مطابق آئندہ سات سالوں میں تمام قوانین کو شریعت کے ڈھانچے میں ڈھال دیا جائے گا مگر اپوزیشن نے ہمیں کافر کہا ، قابل گردن زنی کہامگر ہم نے شراب پر پابندی لگائی ،جوئے، قمارخانوںپر پابندی لگائی، جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا اور سب سے بڑھ کر ہم نے عالم اسلام کے مطالبے پر مرزئیوںکو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ ہم نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ آئیں شریعت کے مطابق قوانین تیار کرنے میں ہماری مدد کیجئے مگر انہوں نے جواب میں ایجی ٹیشن شروع کر دی۔ مجھے مولانا مودودی صاحب نے ایک دفعہ کہا تھا کہ مسئلہ نظام مصطفی کے نفاذکا نہیں مسئلہ پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کا ہے۔ دراصل ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ جیل سے جولائی1978ء کو فرانس کے صدر جسکارڈ کو پھانسی کے سیل سے لکھا گیا بھٹو کا خط تاریخی اہمیت کا ہے، جس میں بھٹو نے عالمی سازشوں کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ دراصل ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کا منصوبہ بہت پہلے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے مشترکہ تعاون سے طے پایا ،پھربھی بھٹو نے جدوجہد جاری رکھی اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد صاحب اور نوابزادہ نصراللہ خان جو ان تحریکوں کے روح رواں تھے، اپنی زندگیوں میں پریس کے سامنے اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو مذاکرات کی رات اپوزیشن کے تقریباً تمام نکات ماننے کے لیے تیار ہو گئے تھے کیونکہ بھٹو جانتے تھے کہ پھر انتخابات کی صورت میں بھی ان کی پارٹی کو انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہو گی کیونکہ اپوزیشن کے پاس کوئی بنیادی نکتہ نہیں تھا۔ دھاندلی کو ایشو بنا کر تحریک نظام مصطفی میں تبدیل کر دیا گیا لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ اس تحریک کے اصل محرکات کچھ اور تھے۔ پھر جب جمی کارٹر نے بھٹو کو مذاکرات کے دوران دھمکی دی کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں اور تمہاری فیملی کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا پھر بھٹو کو خط بھیجا گیا جس پر عوامی بھٹو وہ خط لے کر اپنے عوام کے درمیان راجہ بازار آ گیا اور عوام کو بتایا کہ سفید ہاتھی اس کی جان کے درپے ہے ۔ پروفیسر غفور احمد صاحب کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم پھر مذاکرات کے بعد کیا ہوا؟ ہم تو رات کو ہونے والے مذاکرات میں سب طے پا لیا تھا مگر جیسے ہی ہم واپس گھروں کو آئے تھوڑی دیر بعد ہی فوجی بوٹوں کی آوازیں ہمارے صحنوں میں سنائی دینے لگیں۔ دراصل اس وقت کی ملٹری قیادت کسی قسم کا تصفیہ نہیں چاہتے تھے لہٰذا 4اور 5 جولائی کی درمیانی شپ جمہوریت پر شب خون مار کر سامراج کے مقاصد کی تکمیل کی گئی اور نوزائیدہ وطن عزیز کو اسٹیبلشمنٹ کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ آج 5جولائی کو گزرے 34سال ہو چکے ہیں اور پاکستان 34ہزار سال اپنے مقاصد سے دُور چلا گیا۔ 5جولائی کے نقوش اور اثرات نے بعد میں آنے والے سالوں میں اس ملک کے مستقبل پر جو اثرات چھوڑے ہیں اگر اس پر فکرودانش سے آج بھی طے نہ کیا گیا تو پھر5جولائی کے منحوس سائے ہماری ثقافت،ہمارے مستقبل پر ہمیشہ لہراتے رہیں گے۔ آج بھی ہم 5جولائی 1977ء سے دور نہیں آج بھی وہی سیاسی لڑائیاں ،آج پھر میثاق جمہوریت کا قتل، آج پھر انتخابات میں دھاندلیوں کا شور ، اٹھارہ کروڑ عوام کے کانوں کو سنائی دے رہا ہے ۔ کیا ہم ایک دفعہ پھر 5جولائی 1977ء کی طرف واپس جا رہا ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus