×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے؟
Dated: 07-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بین الاقوامی شہرت یافتہ فوجی دانشور مارٹن وین کے بقول اکیسویں صدی میں افراتفری اور بدنظمی کا دور دورہ ہوگا کوئی ملک دوسرے ملک پر حملہ نہ کرے گا بلکہ ملک کے اندر ہی نسلی ،لسانی، مذہبی پارٹیوں اور تنظیموں کی آپس میں لڑائیاں ہوں گی۔ ’’مارٹن وین‘‘ کی پیشین گوائیاں ثابت ہوئیں آج قوموں کو دشمنوں سے خطرات کم بلکہ اپنوں سے زیادہ ہیں۔ تقریباً ہر ملک جو معاشی طور پر بہت زیادہ مستحکم نہیں ہے خصوصی طور پر جی ایٹ ممالک یا پھر جی ٹونٹی ممالک کے علاوہ تمام ترقی پذیر اور خصوصاً تیسری دنیا کے بیشتر ممالک میں اندرونی خلفشار چاہے وہ مذہبی بنیادوں پر ہو یا پھر لسانی بنیادوں پر موجود ہے۔ ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو جمہوریت کے چمپئین کہلواتے ہیں اور برطانیہ جیسا ملک بھی شامل ہے جس کے مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر آئرلینڈ اور نارتھ آئرلینڈ کے ساتھ چلنے والا مذہبی تنازعہ جو صدیوں پر محیط ہے موجود ہے۔ ماضی بعید میں یورپ کے تقریباً بڑے بڑے ممالک کے مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات تھے۔ جرمن قوم سالوں پر محیط فرانس کے ساتھ جنگ کرتا رہا، پھر اٹلی نے کئی سالوں کی جنگ کے بعد آسٹریا کے ایک بڑے حصے کو چھین لیا ،جو آج بھی اٹلی کے جغرافیے کا حصہ ہے اور جہاں آج بھی اٹالین زبان کی بجائے آسٹریا کی زبان جرض بولی جاتی ہے۔ اسی طرح فرانس کے مونٹے کارلو سوئٹزرلینڈ سے لیٹخن شٹاٹن علیحدہ ہوئے ۔ اسی طرح سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان لسانی اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے علیحدگی ہوئی اور خصوصی طور پر جو بات یہ ہے کہ ان ممالک کو جمہوریت کا پہلے بھی چمپئن مانا جاتا ہے اورآج بھی دنیا کی سب سے بہترین جمہوریت انہی ممالک میں پائی جاتی ہے مگر پاکستان کو بنے 64سال ہونے کو ہیں۔ ہم نے ان 64سالوں میں کیا کھویا کیا پایا کیا ہم اپنی منزل جمہوریت کی طرف آگے بڑھے ہیں یا پھر پیچھے کی طرف سفر کیا ہے۔ گذشتہ 64سالوں میں قریباً آدھ درجن مارشل لائوں کے زخم ابھی تک ہماری تاریخ پر بدنما داغ کی مانند موجود ہیں اور ابھی تک کسی ایک ذمہ دار یا ڈکٹیٹر کو سزا نہیں دی گئی۔ بلکہ تمام ڈکٹیٹروں کو لوٹا ہوا مال غنیمت سمیٹ کر ملک سے بھاگنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ 1967ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر پہلی دفعہ اپنے منشور میں جمہوریت کا عملی آغاز کیا پھر ڈکٹیٹر ایوب خان سے ایک لمبی سردجنگ کے بعد اسے مجبور کیا کہ وہ جمہوری اقدامات کے لیے راستہ دے۔ اسی دوران قوم کو یحییٰ خاں اور بعدازاں ضیاء الحق کے مارشل لائوں اور بھٹو کے اقتدار کے ابتدائی ایام میں سول مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران قوم بٹ گئی سیاسی، لسانی،مذہبی، معاشی اور معاشرتی بنیادوں پر پاکستان تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا ۔ اقتدار پسندوں نے کبھی کسی پارٹی کا دامن تھاما ،کبھی اقتدار کے پارٹنر بننے کے لیے کسی کے دامن میں جا گرے ۔ ہر طالع آزما نے بھی جمہوریت کی آواز لگائی اور ہر موقع پرست نے بھی جمہوریت کی رٹ لگائی اور پچھلے 64سالوں میں قوم کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ جمہوریت کے نام پر وطن عزیز کے کروڑوں عوام کو الّو بنایا گیا۔ طرفہ تماشا تو یہ رہا کہ لوٹنے والا بھی جمہوریت کا علم لیے کھڑا تھا اور لٹنے والا بھی جمہوریت کا شیدائی۔ خصوصاً جمہوریت کا واویلا کرنے والی سیاسی جماعتوں نے ان کارکنان کے جن کے کندھوں پر وہ سوارہو کر آئے، ان کو پس پشت ڈال دیا اور موقع پرستوں کو جمہوریت اور اقتدار کی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ چلتے بنے۔77ء سے 88ء تک پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں جن لوگوں نے قربانیوں کی تاریخیں رقم کیں ،کوڑوں سے اپنے جسموں پر تغمات سجائے، پھانسیوں کی لازوال تاریخ رقم کی، قلعوں اور جیلوں کو اتنا بھر دیا کہ جیلوں میں مزید گنجائش نہ رہی۔ انسانی تاریخ میں درجن بھر انسانوں نے پہلی دفعہ جمہوریت کی بحالی کے لیے خودسوزی کرکے دنیا کی تاریخ کو بدل دیا مگر ان کے لواحقین کو بعدازاں پوچھا تک نہ گیا۔ ایسی ہی ایک خودسوزی کے واقعہ میں جلسنے کے باوجود بچ جانے والے شکرگڑھ کے نوجوان کو میں جانتا ہوں جو آج بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ خودسوزی کے اس قافلے کے مسیحی نوجوان کی فیملی کو بعدازاں خوار ہو کر پہلے شہر پھر ملک چھوڑنا پڑا۔ بے نظیر بھٹو شہید کو پہلی دفعہ اقتدار اور جمہوریت لانے کے صرف 18ماہ بعد پٹری سے اتار دیا گیا اور دوسری دفعہ صرف ساڑھے تین سال بعد ہی جمہوریت کو ڈی ریل کر دیا گیا۔ مگر پھر 96ء نومبر سے لے کر فروری2008ء تک خود محترمہ کی شہادت میاں نوازشریف برادران کی جبری جلاوطنی کے بعد لاکھوں کارکنان کی قربانیوں،جیلوں کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تو دونوں پارٹیوں کے حقیقی کارکنان، سفر جمہوریت کے سینکڑوں کارکنان کو نظرانداز کرکے الیکشن اور ضمنی الیکشن میں ٹکٹیں دیں گئیں۔ آج تقریباً وہ تمام چہرے جو مشرف کے آٹھ سالہ اقتدار کا حصہ تھے، وہی چہرے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے اقتدار کا حصہ بنے بیٹھے ہیں۔ آج پیپلزپارٹی کی وفاقی کابینہ اور سندھ میں صوبائی کابینہ میں وزیر وہی ہیں بس محکمے بدل گئے ہیں، جو مشرف کے آمرانہ دور کا حصہ تھے۔ وہ آج جمہوریت کے چیمپئن بن کر پیپلزپارٹی کے اقتدار کے ہراول دستہ میں شامل ہیں۔ وہی لوگ جو مشرف کے دور میں جمہوریت دشمن تھے آج میاں شہبازشریف کے ساتھی بنے بیٹھے ہیں۔ جمہوریت کو قتل کرنے والے آج جمہوریت کے مدعی بنے بیٹھے ہیں۔ عوام بے حال ہیں ملک خدانخواستہ ٹوٹنے کے قریب تر ہے۔ صوبے بے چین ہیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اپنی انتہائوں کو ہے۔ باقی اگر مارکیٹ میں کچھ دستیاب ہے تو اتنا مہنگا کہ غریب اور متوسط عوام کی پہنچ اور دسترس سے بھی دور ہے۔ غریب پہلے جمہوریت کے لیے خودسوزیاں،خودکشیاں کرتا تھا آج مہنگائی کے ہاتھوں خودکشی کرنے پر مجبور ہے۔ ملکی سطح پر 161ملکی منصوبے ختم کرکے حکومتی اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایوان وزیراعظم کا بجٹ 1.4ارب روپے کا ہے۔2008ء تک وطن عزیز پر 5ہزار ارب کے قرضے تھے جو آج 2011ء میں 11ہزار ارب روپے ہو گئے ہیں۔ عوام کو 234ارب روپے کی جو سبسٹڈی دی جاتی تھی وہ ختم کر دی گئی ہے۔ صرف رینٹل پاور پلانٹ کی خریداری پر60ارب روپے کا غبن کیا گیا اور اس طرح دیگر محکموں زراعت وغیرہ میں سبسٹڈی اور کھاد اور بیج کے نام پر اربوں کا غبن کیا گیا۔ ملک کے حکمرانوں سے عوام پوچھتے ہیں کیا یہی ہماری جدوجہد اور جمہوریت کے ثمرات ہیں۔ کیا یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ جمہوریت کے قافلے کے کارکنان خودکشیاں کریں مگر اس آمرانہ دور کی نشانیاں آج جمہوریت کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کارکنان کا تمسخر اڑائیں۔ ہمیں جمہوریت کے چیمپئنوںا سے پوچھنا ہے کہ اگر یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے ، اگر یہی جمہوریت کا حسن ہے تو ایسی جمہوریت سے ہم باز آئے؟ بس آپ ہمیں ہمارے ایام ماہ و سال لوٹا دیجئے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus