×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجاب کی تقسیم قطعی قابل قبول نہیں
Dated: 07-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہمارے سیاست دان بڑے بااصول ہیں۔ وہ آپس میں لڑتے حب الوطنی کے لیے ہیں، لوٹتے تجارتی اصولوں کے مطابق اور لوگوں کو بے وقوف سامراجی اصولوں کے تحت بناتے ہیں اور انہی کامل اصولوں کے لیے وہ قوم کو متحد نہیں ہونے دیتے اور انہی راہنما اصولوں کی پاداش میں وہ واحدانیت کی بجائے تقسیم کے اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ انگریز کے متعلق مشہور ہے کہ برصغیر کے متعلق وہ لڑائو اور تقسیم کرنے کے اصول پر عمل کرکے برصغیر کے باسیوں کو لڑاتے رہے اور حکومت کرتے رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا موجودہ اقتدار زدہ طبقہ عوام کو اکٹھے نہیں ہونے دیتا۔ کبھی عوام کومذہب کے نام پر، کبھی فرقہ وارایت کے نام پر، کبھی زبان رنگ و نسل کے نام پر۔ سید، چوہدری اور کمی کے نام پر اور جب پھر بھی دل کی بھڑاس کم نہ ہو تو مختلف الخیال طبقہ ہائے فکر اور سیاسی دھڑوں میں تقسیم کرکے عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جاتا ہے۔ اور پھر بھی سخت جان بچ جانے والے لوگوں کو جمہوریت اور کمیونزم، کیپٹل ازم اور سوشلزم کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر حد حکمرانی کو وسیع کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان اس گلدستے کے پھول ہیں۔73ء کے آئین کی اصل روح میں بھی چاروں صوبے اس ملک کی اکائی ہیں۔ صوبوں کو خودمختاری دینا 73ء کے آئین کی روح ہے مگر صوبوں کو توڑ کر نئے صوبے بنانے کے لیے پھر 73ء کے آئین کو جھٹلا کر نیا آئین بناناپڑے گا۔ جس کا کہ یہ وطن عزیز ان لاغر حالات میں متحمل نہیں ہو سکتا۔ 73ء کا آئین بھٹو کا کارنامہ تھا جس نے تمام پارٹیوں کو اکٹھا کرکے، پوری قوم کو اکٹھا کرکے ایک متفقہ آئین بنا یا۔اب اس کو چھیڑا گیا تو یہ شہد کی مکھیوں کی مانند ہوگا، پھر نہ شہد کا چھتا بچے گا، نہ مکھیاں بچیں گی، نہ چھڑنے والا بچے گا، نہ آس پاس کے باسی اور گزرنے والے تک نہ پچ پائے گا۔ پنجاب نے ہمیشہ اپنے جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے خطے میں ایک ممتاز مقام رکھا ہوا ہے۔ یہ خطہ یورپ کے سوئٹزرلینڈ کی طرز پر ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے ایک طرف اٹلی ، دوسری طرف فرانس، تیسری طرف آسڑیا اور چوتھی طرف جرمن کی سرحدیں ہیں۔ جبکہ پنجاب بھی بالکل اسی طرح دیگر صوبوں کے درمیان سنٹرل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ صدیوں سے سوئٹزرلینڈ جو پورے یورپ کی گزرگاہ ہے۔ پنجا ب بھی افغانستان، چین، بھارت جیسے ممالک کے درمیان ایک سنٹرل گزرگاہ کی اہمیت رکھتا ہے۔ سکندراعظم سے لے کر محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی تک انگریزوں ، آریائوں اور ہر اس لشکر اور قوم کی گزر گاہ پنجاب بنا ،جس نے برصغیر کا رخ کیا۔ مغلوں کے دور میں پنجاب کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے تقریباً ہر مغل شہنشاہ نے پنجاب میں قیام کیا۔ کچھ حکمرانوں نے تو پنجاب کو اپنا دارالخلافہ بھی بنایا۔ چاہے وہ مشرقی پنجاب کا دلی ہو یا ہمارے پنجاب کا لاہور ہو۔ اپنے میزبان ہونے کے حق ادا کیا اور تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی میزبان ،مہربان دھرتی ایسی مٹی ہو جس کے باسی ہر آنے والے کے لیے اپنا دامن اپنی بانہیں وا کرکے رکھ دیتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر باہر سے آنے والا یہاں ٹھہر جائے تو وہ مقامی باسی کہلاتا ہے۔ یہاں سے گزر کر کسی اور جگہ سکونت اختیار کرے تو مہاجر کہلاتا ہے۔ سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری پنجاب کی دھرتی ماں پر قدم رکھے تو پنجابی ان کے لیے نظریں فرش راہ بچھائیں۔ وہ یہاں کی زمینیں خریدیں ،یہاں کے مکان خریدیں مگر جب پنجابی کبھی دوسرے صوبوں کا رخ کرے تو وہ وہاں پر (Settler) سیٹلر کہلائے۔ پنجابی کسان، سندھ، بلوچستان کی زمینیں جو بنجر ہوں آباد کرے، وہاں اپنی جوانیاں لٹائے ،وہاں اپنا ہی وطن سمجھ کر اپنی نسلوں کو خدمت کے جذبے کے ساتھ آباد کرے مگر جب سندھ اور بلوچستان کی بنجر زمینیں سونا اگلنا شروع کر دیں تو مقامی ان کو کندن بنانے کے لیے انہی Settler کو بھٹیوں میں ڈال دیں اور میرے گائوں کے ایک آبادکار حجام کی لاش جب تربت سے آئے گی تو پھر میرا پنجاب پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ سب تو میری دھرتی کے سینے پر تمغوں کی طرح سجے رہے اور مجھے ان کی دھرتی پر ذبح کر دیا جائے۔ یہ انصاف نہیں پنجاب کی گندم تو سب کھائیں، پنجاب کے چاول اور دیگر اجناس تو پورے خطے، پورے ملک کی ضروریات پوری کریں مگر پنجاب کو سوئی گیس اور بجلی کے طعنے دیئے جائیں۔ کیا کسی پنجابی نے کبھی کسی دوسرے صوبے کے بھائی کو کبھی طعنہ دیا ہے؟ کیا سندھیوں ،کشمیریوں، بلوچوں کی اکثریت نے کبھی فوج میں جانا پسند کیا ہے؟ کیا اردو بولنے والے بھائی بتائیں گے وانا کی سنگلاخ پہاڑیوں ،سیاچن کے گلشیئر اور کشمیر کی پہاڑیوں اور سندھ کے ریگستانوں میں لڑتی دشمن سے نبردآزما ہماری پاک فوج کے جوانوں اور آفیسروں کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے نہیں؟ تو پھر اس پنجاب کو ہی تقسیم کرنے کی سازشیں اس صوبے کے دیگر بھائی صوبے کیوں کریں۔ پنجاب کی پہلی تقسیم اس وقت ہوئی جب وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آیااور پنجاب کے جسم سے ایک بڑا حصہ علیحدہ ہو کر پنجاب کو معذور بنا دیا گیا۔ وگرنہ اس سے پہلے پنجاب دلی سے لے کر پشاور تک کے علاقے پر محیط تھا۔ پھر تقسیم ہند کے بعد مشرقی پنجاب کو بھارت نے ایک سازش اور مکروہ منصوبے کے تحت تقسیم کرکے ایک نیا صوبہ چنڈی گڑھ بنا دیا۔ اگر رقبے کے لحاظ یا انتظامی طور پر تقسیم ضروری ہے تو بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے باقی تینوں صوبوں سے بڑا ہے کو تقسیم کرکے تین چار صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ کراچی سے کشمور کا فاصلہ بھی اندرون سندھ کم از کم دو نئے صوبوں کے بنانے کی اجازت دیتا ہے۔سرحد کو خیبر پی کے کا نام دے کر دیگر آباد قومیتوں کی توہین کی جاتی ہے، وہاں بھی کم از کم ایک نیا صوبہ ہزارہ بنایا جا سکتا ہے۔ سندھ کے بعد کراچی میں لسانی اور آبادی کے لحاظ سے اردو بولنے والوں کے لیے نیا صوبہ، آباکار پٹھانوں اور پنجابیوں کے لیے بھی صوبے کی ضرورت ہے ۔مگر جب لفظ تقسیم کا ہو تو صرف صرف پنجاب ہی کیوں ہو، بٹوارہ صرف ہماری دھرتی ماں کے سینے کا کیوں ہو ؟ اگر پنجاب کے ہی چوہدری برادران کو کوئی سیاسی تکلیف ہے تو وہ میاں نوازشریف،شہبازشریف سے سیاسی محاذوں پر پنجہ آزمائی کریں۔ اپنی کدورتوں کو جتوانے کے لیے پنجاب پر طالع آزمائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پنجاب نے کبھی محتسب کا کردار ادا نہیں کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج دیگر صوبوں اور ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے حضرات پنجاب میں بڑی بڑی جاگیروں ،زمینوں اور جائیداد کے مالک ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے آدھے سے زائد اراکین اس وقت بھی ماضی قریب اور بعید میں دوسرے صوبوں اور ممالک سے ہجرت کرکے آنے والوں پر مشتمل ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ان کے بھائی میاں نوازشریف جو کشمیری النسل ہیں اور کشمیری کہلوانے میں آج بھی فخر محسوس کرتے ہیں ،دو دو دفعہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے جبکہ قیام پاکستان کے بعد گذشتہ 64سالوں میں شاید چند ہی سال ایسے ہوں گے جب پنجاب پر مقامی پیدائشی وزیراعلیٰ اور گورنر لگائے گئے ہوں۔ اور تو اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے شاید ہی کوئی حکمران ایسا آیا ہو جس نے پنجاب کو گالی نہ دی ہو؟ پنجاب کو گالی دینا سیاسی فیشن بن چکا ہے۔ جاوید ہاشمی جنہیں باغی کہلانے کا جنون ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی لاہور مقیم ہیں اور گذشتہ الیکشن 2008ء میں جنوبی پنجاب والی اپنی سیٹ ہار گئے تھے مگر سنٹرل پنجاب سے 3قومی اسمبلیوں کی سیٹوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ وہ تقسیم پنجاب کی بات کرکے ان حلقوں کے عوام کو اچھا صلہ دے رہے ہیں؟ موصوف شاید سٹھیا گئے ہیں کہ کراچی کو بھی ریاست کا درجہ دلوانے کے سازشی بھارتی خوابوں کی تکمیل چاہتے ہیں؟ جاوید ہاشمی کو اگر کوئی تکلیف میاں برادران یا چوہدری نثار وغیرہ سے ہے تو موصوف گھر کا تنازعہ گھر بیٹھ کر طے کریں نہ کہ بیچ چوراہے شور مچاتے پھریں۔ اس طرح جاوید ہاشمی نہ صرف عزت،مساوات بلکہ سفید بالوں کی حرمت کا بھی خیال کریں۔ پنجابی کی ایک مثال جاوید ہاشمی پر صادق آتی ہے کہ ’’دِگا کھوتے توں تے غصہ کمیار تے‘‘ (یعنی گرا گدھے پر سے مگر غصہ کمہار پر اتارنے کی کوشش) ہاشمی صاحب کو اگر کوئی غصہ شکایت میاں برادران سے ہے تو اس کی سزا پنجاب کو نہ دیں اس کا قصور وار میرے بلھے شاہ کی دھرتی نہیں ہے؟ میری پنجاب کے موجودہ حکمرانوں سے بھی التماس ہے کہ پنجاب دھرتی نے آپ کو غیر پنجابی ہونے کے باوجود متعدد بار مان دیا ہے اب اس کی لاج رکھنا۔ قربانی دے کر بھی کبھی حرمت پنجاب کا سودا نہ کرنا۔ جہاں تک بات پیپلزپارٹی کی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ پنجاب کو مان دیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کبھی تقسیم پنجاب کی بات نہ کی تھی۔ اب کچھ لوگ بھٹوز کے بعد پیپلزپارٹی کو پنجاب سے ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو ان ایام میں کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کرکے ملک کی سیاسی فضاء کو خوشگوار بنا دینا چاہیے۔ اگر پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ نیا صوبہ پنجاب کے اندر بنانا انتظامی بنیادوں پر ضروری ہے تو براہ کرم ابتدا سندھ سے کریں۔ جتنے صوبے آپ نئے سندھ میں بنا دیں گے، اتنے صوبے ہم پنجاب میں بھی بنانے پر رضا بند ہوں گے۔ خدارا پاکستان کو پاکستان ہی رہنے دیں صوبستان نہ بنائیں۔ اگر ہماری دھرتی ماں کو تقسیم کیا گیا تو پھر قلعے، کوڑے کھانے والے جیالے، خودسوزیاں کرنے والے شہدا، پھانسیوں پر لٹکنے والے سورماپیپلزپارٹی کو نہ مل سکیں گے۔ پنجاب کو تقسیم کرنے اور تخت ملتان کو خوش کرنے سے پہلے سوچئے جب بہاولپور صوبہ تھا اوراس نے پاکستان سے الحاق کر لیا تھا تو ون یونٹ بننے پر قائداعظم نے فرمایا تھا کہ اگر کبھی حالات اس قابل ہوئے کہ مالی معاملات کنٹرول میں ہوئے تو بہاولپور کو بھی صوبہ بنایا جائے گا۔ میری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ پنجاب کو توڑا گیا ، پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو ہر گھر سے نظام نکلے گا، دُلا بھٹی نکلے گا، ہر گھر سے وریام نکلے گا اور تقسیم پنجاب کی بات کرنے والوں کی زبان گدّی سے نکال لی جائے گی۔ اور جاوید ہاشمی سے التماس ہے آپ باغی بنے ہمیں منظور ہے مگر پنجاب کے غدار نہ بنیں۔ دھرتی ماں اپنے سینے پر پھر جگہ بھی نہ دے گی۔ ہمیں پاکستان بچانا ہے تو پنجاب پاکستان کی بنیاد ہے۔ خدارا پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا نہ کرو۔ میری پنجاب کے دانشوروں ،لکھاریوں سے التجا ہے کہ سقوطِ پنجاب کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے اور خاموش رہے تو دھرتی ماں تمہیں کبھی معاف نہ کرنے گی یہ بڑے بڑے فارم ہائوسز یہ لمبی لمبی گاڑیاں دھرتی ماں پنجاب کی ہی بدولت ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus