×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نظامی صاحب۔ میاں نوازشریف کی وضاحت قبول فرمالیں
Dated: 31-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com فن سیاست کوئی ایسا غیرانسانی، غیر جذباتی اور احساس سے مبرا نہیں کہ جس میں غلطی کی گنجائش اور اصلاح کی اجازت نہ ہو۔ سیاست انسان کی خدمت سے مشروط ہے مگر ہم میں سے ہی کچھ ’’میکاولی‘‘ فطرت انسانوں نے اسے فطرت سے دور تر کر دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں جب کسی سیاست دان کی بات ہو رہی ہوتی ہے تو ذہن میں فوراً ایک خاکہ ایسا ابھرتا ہے کہ جیسے سیاست دان مافوق الفطرت چیز ہے۔ برائیوں کا نمائندہ ، کرپشن کا دلدادہ چور، ڈاکو یا پھر ہر چیز روند کر گزر جانے والا قاتل۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ سیاست ایک عبادت کی طرح ہے یہ رب العزت کے اس فرمان کی طرح ہے کہ میں اپنے حقوق تو تمہیں معاف کر سکتا ہوں مگر لوگوں کے حقوق تمہیں لوگ ہی معاف کر سکتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے اپنی پیاری بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’’بیٹی جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے مگر سیاسی جنت عوام کی خدمت سے حاصل کر سکتی ہو۔‘‘ سیاست میں سیاسی رقیبوں سے لے کر سیاسی رفاقتوں اور مخالفتوں کی طرف وقتاً فوقتاً الزامات کی بوچھاڑ کوئی نئی یا انہونی بات نہیں، ہماری انسانی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان بسنے سے پہلے اکثر مذہبی جماعتیں قیام پاکستان کی سخت مخالف تھیں اور بعض تو حضرت قائداعظم محمد علی جناح کو نعوذ باللہ کافراعظم گردانتے تھے۔ آج وہی لوگ بڑی دھٹائی سے پاکستان اور حضرت قائداعظم کے متولی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل قیام پاکستان کے بعد سیاسی افراتفری نے قوم کو پائوں ہی جمانے نہ دیئے اور دو قومی نظریہ پر عمل کی بجائے اس کی روح گردانی کی گئی۔ لیاقت علی خان سے لے کر موجودہ حکمرانوں کو کو معلون کہا جاتا رہا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق مشہور کیا گیا کہ انہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان سے پہلے ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگایا تھا جس کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا۔ حالانکہ چند سال بعد اس اخبار کے ایڈیٹر نے اعتراف کیا کہ بھٹو نے اپنی تقریب میں ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ بھٹو شہید اپنی باقی کی پوری زندگی اس ناکردہ گناہ کی تردید کرتے رہے مگر کروڑوں پاکستانیوں نے دل سے انہیں معاف نہ کیا۔ اسی طرح شہید بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں اسلام آباد سے کشمیر ہائوس کے بورڈ اتارنے کا الزام لگایا گیا جس میں کوئی صداقت نہ تھی مگرپراپیگنڈہ اس قدر شدید تھا کہ محترمہ کو اپنی باقی ساری زندگی اس الزام کو دھونے میں لگ گئی۔ دراصل آج 2011ء میں ہمارا الیکٹرانک میڈیا جس قدر تیزی سے ہماری رگوں میں سرایت کر گیا ہے۔ پہلے خط فلیکس پھر فیکس مگر اب آئی ٹی کے کمال کی وجہ سے خبر منٹو نہیں لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور ہمارے میڈیا کے غیر تربیت یافتہ سٹاف بھی اس میں ایک کردار ادا کرتا ہے اور نمبر گیم میں ایسے ایسے بلنڈر کر جاتے ہیں کہ جس سے کئی دفعہ ملکی سلامتی دائو پر لگ جاتی ہے۔ اجمل قصاب بمبئی حملوں کے کیس میں ہمارے میڈیا نے اپنے غیرذمہ دارانہ رویے سے پاکستان کے لیے وہ حالات پیدا کر دیئے کہ جیسے شہد کی مکھیوں کو چھیڑ لیا جائے یا پھر دوسرے کے گلے میں پھندا اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا جائے۔ اجمل قصاب کے واقعہ کے بعد دراصل حکومت پاکستان دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور کشمیر میں جہاد کشمیر ایسی بُری طرح متاثر ہوا کہ اب کشمیر کاز پر بین الاقوامی محاذ پر بات کرنا بھی پاکستان کے لیے مشکل ہو گیاہے۔اگرہم نے سیاست میں برداشت کی بجائے عدم برداشت کی روش اپنائے رکھی اور ہماری 18کروڑ عوام نے بھی "Tolerate"نہ اپنایا تو پھر یہ معاشرہ خانہ جنگی کا منظر پیش کرے گا۔ سیاست دانوں کو بُرا بھلا کہنے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا اگر کبھی امپورٹڈ سیاست دان لائے گئے تو وہ بھی بُرے ٹھہرے جو گھرمیں موجود ہیں وہ بھی بُرے ہیں تو پھر ہم سیاست دان لائیں کہاں سے؟ ہر شخص کی انگلی دوسرے کی طرف اٹھی ہوئی ہے مگر اسے اپنے ہی ہاتھ کی باقی چار انگلیاں اپنے ہی طرف اٹھی نظر نہیں آتی؟ میاں نوازشریف نے گذشتہ روز ایک غیرملکی سکھ وفد سے ملاقات کے دوران جو الفاظ کہے یا فی البدیح ادا کیے۔ ان کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک ایسا ہنگامہ شروع ہو گیا، لگتا تھا کہ جیسے پورا ملک میاں صاحب کی اس اتفاقیہ حادثاتی غلطی کی ہی تلاش اور انتظار میں بیٹھا تھا ۔ ناقدوں کی انگلیاں میاں نوازشریف کی طرف اٹھ گئیں۔ یہ پاکستان سے شدید محبت کا مظہر تھا کہ صحافت کی دنیا کے چاند جناب مجید نظامی صاحب نے بھی تقریب آزادی پاکستان میں میاں نوازشریف کے متعلق جذباتی تقریر کی۔ یہاں میاں نوازشریف کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ مجید نظامی صاحب کے الفاظ محبتوں اور پیار کی آمیزش سے بھرپورتھے ،وگرنہ کسی غیر کو کیا پڑی ہے کہ میاں صاحب کے ووٹ بنک کے لیے پریشان ہو؟یہ دو بڑوں کے درمیان کمٹ منٹ تھی یہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ سے میاں صاحب اور مرحوم میاں محمد شریف اور جناب مجید نظامی صاحب کی محبتوں کی ہی وجہ تھی کہ انہیں میاں نوازشریف کی غلطی ایسے ہی لگی جیسے اپنا بیٹا غلطی کرے تو باپ اسے سمجھاتا ہے۔ جبکہ دوسری ہی دن اخبارات میں میاںنوازشریف نے اپنی پوزیشن واضح کی اپنے لیٹر ہیڈ پیڈ پر وہ وضاحت دراصل ایک بیٹے کی اپنے باپ کے دوست سے معافی نامہ تھا جو کمال عقیدت سے تحریر کیا گیاتھا ۔میں پاکستان پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر ہوں جس پر مجھے فخر ہے مگر اگر اخلاقیات کو مدنظر رکھ کر سوچا جائے تو میاں نوازشریف کی غلطی جان بوجھ کر نہیں تھی۔ اپنی بات کرتے ہوئے ان کے دل میں دماغ میں یہ بات ضروری تھی کہ وہ رب العالمین ہے وہ صرف مسلمانوں اور پاکستانیوں کا رب ہی نہیں وہ اس دنیا میں بسنے والے 7ارب انسانوں، کیڑوں مکوڑوں،جانورں اور حیوانات ، ہوا پانی ،درختوں کا رب ہے۔ کم از کم میں تو یہی سوچتا ہوں اور سمجھتا ہوں۔ میری جناب مجید نظامی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میاں نوازشریف کی وضاحت کو قبول فرما لیں۔ اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان اس ایشو پر سیاست کرنے کی بجائے اپنے اندر "Tolerate"پیدا کریں۔ عدم برداشت کے فلسفہ کو اب بحیرہ عرب میں پھینک دیں۔ آج قوم کو جس اتحاد، اتفاق اور تنظیم کی ضرورت ہے، شاید اس کی اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج اگر اٹھارہ کروڑ لوگ ہاتھوں میں سنگ پکڑے ایک دوسرے کی طرف اچھالنے کی پوزیشن میں کھڑے ہو گئے تو یقین جانیے احساس سے بنا یہ شیشے کا گھر اپنی ہی سنگ باری سے خدانخواستہ چُور چُور نہ ہو جائے؟ مجھے قوی امید ہے کہ میری اس تحریر سے میرے بہت سے دوستوں کو شاید مایوسی ہو مگر مجھے ہے حکم اذان لا الہ اللہ۔میری اپنی پارٹی کبھی پٹری سے اترنے لگی تو میں نے اصلاح کے لیے سب سے پہلے میرے اپنوں پر تنقید کی اور آج کے دور کا نقاد کہلوایا۔ مگر جب اپوزیشن کی طرف سے اچھی بات سامنے آئی تو پی پی پی کا ممبر بن کر نہیں پاکستانی بن کر اس کی تعریف بھی کی اور ضرورت پڑنے پر اپنے لفظوں کے نشتروں سے ان کی تواضع بھی کی۔میری شہید قائد کے مطابق مفاہمت کی سیاست کا راستہ ہی اصل منزل کا راستہ ہے۔نظامی صاحب آیئے آپ ،میں ہم سب مل کر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا ڈالیں۔ ہم اس ملک کی دوسری بڑی پارٹی اور اس کے قائد کو دیوار سے لگا کر دراصل دشمنان پاکستان کی پھیلائی ہوئی سازشوں کا شکار نہ ہو جائیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus