×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خوشامدی پیکیج۔ تمغۂ حسن کارکردگی
Dated: 20-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سر ارنسٹ پین نے کہا تھا کہ مسائل کو ڈھونڈنے انہیں ہر جگہ پا لینے اور ان کو غلط سمجھنے اور ان کا غلط حل تلاش کرنے کے فن کو سیاست کہتے ہیں۔ اس مغربی دانشور نے شاید یہ الفاظ شاید پاکستانی طرز سیاست پر ہی کہے ہوں گے؟ گذشتہ روز یوم آزادی کے دن صدر مملکت نے اس خوشی کے موقع پر مملکت خداداد پاکستان کے ہونہار اور ذہین فطین لوگوں کے لیے سول و ملٹری اعزازات کا اعلان فرمایا۔ جس پر میرے ایک دوست نے تبصرہ کیا کہ پاکستان میں روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے ’’چوسنی‘‘ اور بڑوں کو چپ کرانے کے لیے پرائیڈ آف پرفارمنس دے دیا جاتا ہے۔ 1958ء میں قیام پاکستان کے دس سال بعد پہلی دفعہ پرائیڈ آف پرفارمنس کا اجراء کیا گیا جس میں پہلی دفعہ قومی ترانے کے خالق جناب حفیظ جالندھری اور ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام کو ان اعزازت سے نوازہ گیا اور پھر 50سال سے زائد عرصہ سے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال یہ محفل سجائی جاتی ہے۔ جو ایوارڈز دیئے جاتے ہیں ان میں نشانِ پاکستان، نشانِ جرأت، نشانِ امیتاز،نشانِ قائداعظم، نشانِ خدمت، ستارئہ پاکستان، ستارئہ جرأت، ستارئہ امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمنس، ستارئہ قائداعظم، ستارئہ خدمت ، تمغۂ پاکستان، تمغۂ شجاعت، تمغۂ امتیاز، تمغۂ قائداعظم، تمغۂ خدمت۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں اور اداروں میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سپوتوں کو یہ اعزاز دے کر ان کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ فوج میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر قوم کا سر بلند کرنے والے شہدا کو نشانِ حیدر دیا جاتاہے کیونکہ بقول شاعر : جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے کہتے ہیں جنت میں چراغاں نہیں ہوتا ان ایوارڈز کے علاوہ بھی پوری دنیا میں اپنے سپوتوں باہمت لوگوں کو ایوارڈز دینے کا رواج ہے۔ مثلاً ناروے میں تقریباً صدی قبل مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے اور نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو امن کا، سائنس کا، ادب کا، کلچرل کا، ہیلتھ کا ایوارڈ دیا جاتاہے۔نوبل انعام حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبدالاسلام واحد پاکستانی ہیں۔اسی طرح ہالی وڈ میں ہر سال بہتر پرفارمنس کرنے والی فلموں اور کرداروں اور اداکاروں کو ’’آسکرایوارڈ‘‘ جب کہ فلمی شعبہ میں دوسرا بڑا ایوارڈ "Cannes"ایوارڈ پیرس میں دیا جاتاہے۔ جبکہ دنیا بھر میں میوزک کا عالمی ایوارڈ"Garmmy" کہلاتا ہے۔ جبکہ فٹ بال سپورٹس میں ’’گولڈن بوٹ‘‘ کا ایوارڈ جاتا ہے۔ برازیلن سٹار ’’پلے‘‘ جبکہ ڈیگومیراڈونا، رینالڈو، اور نڈال کو یہ اعزاز حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسی طرح کچھ اعزازات اور خطاب عوامی ہوتے ہیں جیسے ہاکی کے مشہور کھلاڑی سمیع اللہ کو ’’فلائنگ ہارس‘‘ ،حنیف محمد کرکٹر کو ’’لٹل ماسٹر‘‘ کا خطاب ملا۔ شاہد آفریدی کو ’’بوم بوم‘‘ کا خطاب ملا ،اسی طرح فن پہلوانی میں رستم زماں بھولو پہلوان اور رستم ہند گاماں پہلوان نے بڑا نام کمایا۔ سیاست اور عوامی خدمت میں بانی پاکستان محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو ’’قائدملت‘‘ اور محترمہ فاطمہ جناح کو ’’دختر ملت‘‘ کا خطاب۔ جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ’’فخرایشیا، قائدعوام‘‘ اور ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ’’شہید جمہوریت‘‘ کا خطاب ملا جبکہ سابق برطانوی مارگریٹ تھیچر کو ’’آئرن لیڈی‘‘ کا عوامی خطاب ملا۔ جبکہ مرد صحافت جناب مجید نظام کی طرف سے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ’’مردِ حُر ‘‘ کا خطاب ملا۔ پاکستان میں دیئے جانے والے سول و ملٹری ایوارڈز کو ماضی میں بھی سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جیسے آمرانہ دور میں من پسند اور خوشامد پسند صحافیوں اور شعراء اور سنگرز کو یہ ایوارڈ بطور رشوت دیا جاتا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ ایوارڈ اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر موجودہ دور حکومت میں چند عاقبت نااندیش دوستوں کی وجہ سے حکومت کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج مجھے پی پی پی اوورسیز کے چند دوستوں کے فون آئے وہ حیران اور پریشان تھے کہ ہمارے موجودہ وزراء نے کونسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جو تمغۂ حسن کارکردگی کے حق دار ٹھہرے؟ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کومقتل گاہ میں اکیلے چھوڑ کر بھاگ آنے والوں کا یہ انعام ہے کہ ان تمام کرداروں کو تمغوں سے نوازا جائے؟اگر ایسے بھگوڑوں کو اسی طرح نوازا جاتا رہا تو پھر جیالوں کی نسل پیپلزپارٹی میں ناپیدہو جائے گی۔ بھٹو دور کے جیالے تو سزائوں پر ہنستے تھے، قہقہے لگاتے تھے ایک دفعہ جیل کی کوٹھری میں ایک جیالے نے دوسرے سے پوچھا تمہیں کتنی سزا ہوئی۔ دوسرے نے بتایا 3سال تو پہلے نے کہا تم اپنا بستر دروازے کے ساتھ لگا لو کیونکہ مجھے 4سال ہوئی ہے۔ میں تمہارے بعد بستر لگاتا ہوں۔ جیالوں کو جب کوڑے پڑتے تھے تو وہ جئے بھٹو کا نعرہ مستانہ بلند کرکے مزہ لیتے تھے۔ خودسوزیاں کرتے، بھنگڑے ڈالتے جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے، جان آفریں کے سپرد کر دیتے تھے۔ اور ہماری حکومت ان شہدا کے ورثا کو روزگار دینے ، تعلیمی مدد دینے یا گھر پلاٹ دینے سے تو رہی، انہیں تمغے کیا دے گی؟ ایک جیالے نے قمیض اٹھا کر مجھے اپنا سینہ اپنی کمر پر لگے کوڑوں کے نشان دکھائے ،پھر جئے بھٹو کا نعرہ بلند کیا اور بولا دیکھو یہ ہے میرا تمغۂ حسن کارکردگی جو مجھے بھٹو کے صدقے ملا۔میں نے اس جیالے کے سامنے نظریں جھکا لیں میں خود کو شرمندہ خیال کرنے لگا کہ میں مرکزی مجلس عاملہ کا رکن ہونے کے ناطے بھی تمہاری کوئی مدد کرنے کے قابل نہیں۔ پھر میں نے اسے سیلوٹ کیا اسے جپھی ڈالی اور کہا میری طرف سے اسے ہی تمغۂ حسن کارکردگی تصور کر لو۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے پاس سمری آئی اور بہبود آبادی کے وزیر جے سالک کی اقلیتوں کے لیے خدمات کے اعتراف میں کیبنٹ ڈویژن کی طرف سے سفارش کی گئی کہ انہیں تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا جائے۔ جس پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس سمری کو مسترد کرتے ہوئے اس پر اپنا خصوصی نوٹ لکھا کہ کسی بھی وزیر کو تمغے سے نہیں نوازا جا سکتا۔ جبکہ اب وزیراعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی نے اپنے لیے بھی تمغہ حسن کارکردگی حاصل کر لیا ہے۔ حالانکہ رولز کے مطابق سرکاری ملازم اور سیاسی عہدوں پر تعینات لوگوں کو اس اعزاز کے لیے نامزد نہیں کیا جا سکتا۔ اب محترمہ شہید کے بعد ان کے احکامات کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی خاتون اوّل کی پرائیویٹ سیکرٹری بھی ہیں اور تقرر و تبادلہ جیسی ’’ڈیل‘‘ میں ٹریڈ رکا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ بھی ایوارڈ کی حق دار ٹھہریں۔ ایک دوست کہہ رہے تھے سابقہ وزیر بجلی اور موجودہ وزیر بجلی و پانی کو بھی تمغوں سے نوازنا چاہیے تھا کہ ان کی وجہ سے ملک بجلی بچانے کی مہم میں کامیاب ہوا ہے اور سالانہ 10ہزار میگاواٹ بجلی بچا کر قومی خزانے کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ جرمنی سے ایک جیالے کا فون آیا وہ کہہ رہا تھا کل جو لوگ بے نظیر شہید کے قاتل کہلاتے تھے جو برسرعام بی بی شہید کو ملفوظات بکتے تھے، جن سے لڑتے ہوئے درجنوں جیالوں نے جام شہادت نوش کیا۔ آج وہ مسند اقتدار پر بھٹوز کے وارثوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور کلنک کا یہ ٹیکہ بھٹو کے جیالوں کے ماتھے پر شائد مٹایا نہ جا سکے۔ ایک دوست کہہ رہے تھے، ادب پر پرائیڈ آف پرفارمنس ان لوگوں کو دیا گیا ہے جن نے مدتوں سے ادب پر کچھ نہیں لکھا مگر شاید یہ ادب پر ان کا احسان ہے جس کی وجہ سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا ہے؟ مشرف کے دوراقتدار کے ایام تھے۔ لاہور الحمراء ہال میں ایک نیم مذہبی آرگنائزیشن کی طرف سے ایوارڈز تقسیم کی تقریب جاری تھی مجھے ایوارڈ دینے کے لیے بلایا گیا مگر جب میں نے دیکھا کہ مجھے ایوارڈ دینے کے لیے اس وقت کے مشرف کے وزیر کامل علی آغا تشریف لائے ہیں تو میں نے مائیک پر آ کر ان کے ہاتھ سے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا کہ آمر کے دُم چھلے سے میں ایوارڈ وصول نہیں کروں گا کیونکہ بھٹو کے جیالوں کو، بی بی شہید کے بھائیوں کو، کسی ایسے ایوارڈ،کسی ایسے تمغے کی ضرورت نہیں جس سے ان کی پرواز میں کوتاہی کا خطرہ بھی جھلکتا ہو اور بقول شاعر: سجدوں کے عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیں بے لوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مزدور نہیں 20اگست2011ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus