×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ستاروں پہ کمند سے۔ تاروں پہ ’’کُنڈوں‘‘ تک
Dated: 08-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com چند روز بیشتر میں اپنے ہیئر ڈریسر کے پاس گیا، جس نے کافی دیر بعد ملاقات پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا اور پھر پوچھا کہ بتائیں حکومت کیسی چل رہی ہے؟ پارٹی کے چند دیگر سینئر احباب کا نام لے کر بتایا کہ وہ بھی آتے جاتے رہتے ہیں اور موجودہ بحرانوں سے پریشان ہیں۔ میں نے بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے چھ ملازمین کو فی الحال فارغ کر دیا ہے کہ لوڈشیڈنگ نے کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں۔ شاپ کے اندر جب دیگر گاہکوں نے مالک دکان کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ میرا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے تو پھر رفتہ رفتہ گفتگو کا دائرہ بڑھتا چلا گیا اور پھر غصے سے بھرے جذبات امنڈنا شروع ہو گئے اور بات جب میری پارٹی کو گالیاں پڑنے تک پہنچی تو مجھ سے بھی برداشت نہ ہوا۔ دکان کے اندر شورشرابے سے طوفان کھڑا ہو گیا۔ میرے گارڈ باہر تھے وہ اندر آ گئے اور میں وہاں سے شرمندگی اور خجلت کے ملے جلے احساس کے ساتھ واپس گھر آگیا۔ اس سے ہی ملتا جلتا دوسرا واقعہ کل پیش آیا جب میں ایک ضروری کام سے گجرات اور سیالکوٹ کے لیے گھر سے نکلا۔ جی ٹی روڈ پر مریدکے،کامونکی، ایمن آباد جگہ جگہ ٹائر جلا کر ٹریفک کو تقریبا جام کر دیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ پہنچے تو جگہ جگہ ٹائر جلنے کی بُو سے فضا مکدر تھی۔ سڑک پر جا بجا رکاوٹیں کھڑی تھیں اور بڑے چھوٹے پتھروں کی وجہ سے سڑک کا حلیہ کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ ایک جگہ سینکڑوں کی تعداد میں نو جوانوں کی ٹولیاں جمع تھیں۔ میرے سے آگے بھی کئی گاڑیاں رُکی ہوئی تھیں اور سبھی گاڑیوں کا جیسے گھیرائو کیا گیا تھا۔ میں نے دیکھا وہ لوگ مشتعل ،بے چین اورپریشان حال تھے۔ صدر،وزیراعظم اور وزراء سمیت پیپلزپارٹی کو گالیاں نکال اور نعرے لگا رہے تھے۔ ان میں سے چند چہرے شناسا تھے اور وہ لوگ میرے گوجرانوالہ کسی تقریب یا سیمینار میں آنے پر میرے اوپر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیا کرتے تھے۔ آج وہی لوگ میری گاڑی پر مکے برسا رہے اور ٹانگوں سے ٹھوکریں ما رہے تھے۔ بڑی مشکل سے موٹروے پولیس نے مجھے ان کے چنگل سے بچایا اور ایک حصار بنا کر وہاں سے نکالا۔ مجھے گجرات پہنچنا تھا میں نے فون کرکے اپنے میزبان سے صورت احوال کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ گجرات کا حال بھی گوجرانوالہ سے مختلف نہیں۔ لہٰذا آپ شہر میں نہ آئیں، چناب کے پُل پر کنارا ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر گفتگو کر لیں گے۔ میں جب ان حالات و واقعات کا تجزیہ کرتا ہوں تو ایک بڑی بیانک صورت حال کا عکس میری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ میں سوچتا ہوں خاک بدہن یہ کہیں امریکی منصوبے کی ابتدا تو نہیں کہ پاکستان کو 2012ء تک توڑنے کی سازش پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ بپھر ہوئی عوام ،قانون کی پامالی، چادر اور چاردیواری کے تحفظ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اب تو روٹی بھی عید کے چاند کی طرح نظر آتی ہے۔ میرے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی طرح گزشتہ روز سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن کے ایک مرکزی راہنما اپنے گھر سے نکلے تو دیکھا باہر سڑک پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ گاڑی جلوس کے اندر لے گئے باہر نکل کر عوام سے مخاطب ہونا چاہا تو بپھرے ہوئے عوام نے ان پر حملہ کر دیا کہ آپ بھی اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک رہے ہو۔ موصوف نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی اور بھاگ کر ایک دکان کے اندر پناہ لی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام کو اب اپنے حقوق کا احساس ہو چلا ہے، اب عوام سیاست دانوں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں گے۔ ڈسکہ میں گزشتہ روز میں نے عمائدین شہر کو ایک ظہرانہ دیا، جس میں شہر کے کاروباری، سیاسی و سماجی صحافی اور وکلاء نے شرکت کی۔ تقریب بے شک غیر سیاسی تھی مگر دوستوں نے گلے شکوے کچھ اس تواتر سے کیے کہ لگنے لگا میں نے اپنے ہاتھوں اپنی مرمت کا انتظام کیا ہے؟ پنجاب کا ہر شخص اب یہ کہنے لگا ہے کہ سندھ کے اکثر شہروں اور بیشتر دیہات ،پورا بلوچستان بشمول کوئٹہ 90فیصد دیہات اور شہر بجلی کے کنکشن کی پرواہ نہیں کرتے اور بِل دینے کو اپنی انا کی توہین سمجھتے ہیں۔ پورے ملک میں بجلی کے لائن لاسس 38فیصد ہیں جن میں صرف 5فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ باقی 33 فیصد پورے ملک سے ہے۔ اس سے ثابت یہ ہوا کہ بجلی کی پورے ملک میں چوری کا نزلہ پنجابی جو کہ بِلوں کی ادائیگی کرتا ہے اس پر گِرتا ہے۔ کراچی کے اکثرو بیشتر علاقے میٹروں کی جھنجٹ سے پاک ہیں ۔ صرف چند پوش علاقوں میں میٹر ز اور بلوں کا رواج ہے جبکہ باقی 2کروڑ کی آبادی والے شہر میں ’’کُنڈا‘‘ سسٹم رائج ہے اور بل دینے والے کو بزدل اور بے وقوف سمجھا جاتا ہے جبکہ پنجاب میں کہیں شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے۔ اب بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اگر یہ بہانہ ہے کہ ہم نے PSOکو تیل کے پیسے دینے ہیں؟ یا پھر لائن لاسس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ بجلی چوری ہے تو پھر بِل دینے والے صارفین کا گناہ کیا ہے؟ آج کے ترقی یافتہ دور میں بجلی کے اس طرح کے بحران کا رونما ہو جانا اس بات کا مظہر ہے کہ اس دور کے حکمرانوں سے کہیں غلطیاں ضرور ہوئی ہیں؟ پنجاب جو آبادی کے لحاظ سے ملک کا65فیصد ہے ۔ لوگ اب بانگ دہل یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جب پورا ملک ’’کُنڈا‘‘ ڈال کر بجلی لے رہا ہے تو پھر وہ کیوں نہ ایسا کریں۔اور ایک خطرناک سوچ جو ابھر رہی ہے وہ یہ کہ لوڈشیڈنگ اگر ختم ہو بھی گئی تو تب تک بجلی اس قدر مہنگی ہو چکی ہو گی کہ بِل ادا کرنا ،ریڑھی تانگے والے اور چنگ چی چلانے والے کے بس کی بات نہ ہو گی۔ غریبوں پر بجلی بلوں کی صورت گِر تو سکتی ہے مگر بجلی ویسے نصیب نہ ہو گی کہ بجلی کو تو چھوا بھی نہیں جا سکتا۔ اگر پورے ملک کی طرح پنجاب میں بھی ’’کُنڈا‘‘ سسٹم رائج ہو گیا تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اقبالؒ کے شاہین جو ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کا عزم رکھتے تھے اب تاروں پہ ’’کُنڈا‘‘ ڈالنے کا ارادہ رکھنے لگے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی میں 15ویں صدی کا اندھیرا کہیں پروردگار کی طرف سے ہماری اور ہمارے حکمرانوں کی بداعمالیوں کا خمیازہ تو نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus