×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خادمِ اعلیٰجی۔ لاہوریئے رُل گئے جے
Dated: 11-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میاں شہباز شریف صاحب آپ کو پنجاب کا چیف منسٹر بننے کا موقع اللہ رب العزت نے تیسری بار عطا کیا ہے اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں اور نہ ہی پنجاب کوئی چھوٹا اور گمنام صوبہ ہے۔ یہ پنجاب کے عوام کا آپ پر اعتماد ہے۔ میں ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے جمہوریت کا داعی ہوں ۔پنجاب کے عوام نے حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے آپ کو یہ حق دیا ہے کہ آپ ان کا خادم اعلیٰ مقرر ہو جائیں تو پھر یہ آپ کا فرض ہے کہ دکھتے دِلوں کی داد رسی بھی کریں۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے 65فیصد پاکستان کا حصہ ہے۔ ہم خصوصاً لاہور میں دیکھا کرتے تھے کہ یہاں پر شہر کے اندر گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا ایسا مربوط نظام تھا کہ شہر کے ہر حصے میں ہر محلے میں سرکاری بسیں بلکہ ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں تب لاہور کی آبادی اب سے کم از کم تین گنا کم تھی مگر آبادی بڑھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام کو سزا دی جائے ،بلکہ بہتر پلاننگ سے عوام کو سہولیات مہیا کرنا ایک تعمیری سوچ رکھنے والی حکومت کا فریضہ ہونا چاہیے۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب کی سڑکوں سے سرخ رنگ کی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی بسیں اس طرح غائب ہونا شروع ہوئیں کہ جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔ ہزاروں افراد جن کا گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سے رزق جڑا تھا اور جو اس کے مستقل ملازم تھے وہ گولڈن شیک ہینڈ دے کر فارغ کر دیئے گئے اور رفتہ رفتہ ٹویاٹا ویگنیں اور نجی ٹرانسپورٹ عوام کو سہولت دینے کی بجائے عوامی اذیت کا سبب بننے لگیں۔ سرکاری بسیں اندرون پنجاب روٹس سے کیا غائب ہوئیں کہ پھر اندرون شہروں سے بھی غائب ہو گئیں۔ پنجاب کے خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا مگر ایسا کیوں ہوا؟ کیا اس کے اسباب جاننے کی کوشش کی گئی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صاحبانِ اقتدار کے اطراف ٹرانسپورٹ مافیا نے حصار قائم کر لیا ہوا ہے؟ آج لاہور،گوجرانوالہ ،راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان سمیت تمام بڑے شہروں کے اندر سفر کرنے کے لیے ماسوائے رکشہ اور چنگ چی کے علاوہ کوئی متبادل نظام نہیں۔ ٹوٹی پھوٹی ویگنیں خوفناک بسیں جن کا جب دل کرتا ہے جہاں دل کرتا ہے کھڑی ہو جاتیں ہیں۔ نہ کوئی روٹس ہیں نہ کوئی ٹائم ٹیبل ہیںاور نہ ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ پہلے سواری کو یہ امید تو ہوتی تھی کہ میں بس سٹاپ پہ گھڑا ہوں جلد بدیر بس ضرور آئے گی۔ صبح سکول جانے والے بچے بسوں میں جایا کرتے تھے۔ اب ہر بچے کو والدین موٹرسائیکل یا کار پر سکول چھوڑنے جاتے ہیں تو اس وقت چھوٹے بڑے شہروں سمیت لاہور کا نقشہ میدان جنگ پیش کر رہا ہوتا ہے ۔ اقوام کی پہچان ڈسپلن سے ہوتی ہے۔ بے ہنگم ٹریفک اور صبح سکول لگنے اور چھٹی کے وقت لاہور جیسا میٹروپولٹن شہر خوفناک منظر پیش کر رہا ہوتا ہے وہ دل ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ لاہور کی کسی سڑک کو دیکھ لیں آدھی سڑک پر تو موٹرسائیکل سٹینڈ اور باقی آدھی سڑک پر پارکنگ مافیا نے گاڑیاں گھڑی کرکے شہریوں کو مجبور ،بے بس اور یرغمال بنایاہوا ہے۔ پارکنگ کے نام پر پرچی مافیا لوگوں سے منہ بولے دام ہتھیا رہے ہوتے ہیں جبکہ ایسے سب اڈے اور جگہیں پارکنگ کے لیے مختص نہیں ہیں۔ دوسری طرف ابھی تک یعنی اکیسویں صدی میں بھی ریڑھی بان سڑکوں کو گندگی کا مسکن بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔چنگ چی والوں نے شہر کے اندر دھواں چھوڑ کر فضاکو آلودہ کیا ہوا ہے۔شہر کا کوئی ایسا محلہ یا گلی نہیں جہاں بھینسوں کے باڑے نہ ہوںاور میٹروپولیٹن شہر لاہور چند گوالوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے پورا شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ شہر کے باہر چند مربعے زمین پر کراچی کی طرز پر بھینس کالونی بنا دی جائے۔ جہاں بھینس گائے رکھنے کے شوقین جگہ لے کر اپنی بھینسیں پالنے کا شوق پورا کر سکیں۔بچپن میں ہم دیکھا کرتے تھے کہ ہوائی جہازوں سے سپرے ہوتی تھی۔ ہر سال کم از کم دو بار گھر گھر بلدیہ کے لوگ پمپوں سے سپرے کرتے تھے ۔ مگر اب تو پچھلے پچیس سالوں سے یہ سب خواب بن کر رہ گیا تھا۔ پھر ہم الزام دیتے ہیں کہ یہ تھائی لینڈ سے پرانے ٹائروں میں مچھر آئے ہیں۔ میاں صاحب کہیں ایسے تو نہیں کچھ سپیئر پارٹس مافیا ملک میں پرانے ٹائروں پر پابندی لگوا کر ٹائر مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہوں؟جیسا کہ ملک میں موجود آٹومینوفیکچر مافیا نے ری کنڈیشن گاڑیوں پر پابندی لگوا کر اب اپنی من پسند قیمت وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ اس لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ وطن عزیز پاکستان کے تاجروں سے کچھ بھی بعید ہے؟ میاں شہبازشریف صاحب آپ ایک بہ صلاحیت ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ خدارا اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا کر ترکی کے موجودہ وزیراعظم طیب اردگان کی طرز پر ہی لے لیں۔ جب طیب اردگان ترکی کے شہر استنبول کا میئر منتخب ہوا تو اس نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ استنبول میں ’’میٹرو‘‘ انڈر گرائونڈ چلانے کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے اور چند سالوں میں ہی یہ ہیوی پراجیکٹ مکمل کر دیا۔ شہر کے اندر ’’ٹرام‘‘ ٹرینوں کا جال بچھا دیا، اس طرح استنبول شہر ٹرانسپورٹ مافیا کے چنگل سے آزاد کروایا۔ آپ بھی طیب اردگان کو Followکریں۔ لاہور کو صرف ڈینگی سے ہی نہیں مافیا کے ڈنگ سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔ شاید چند خاندان جو ویگنوں کے کاروبار سے منسلک ہیں آپ سے ناراض ہو جائیں مگر اس پنجاب کے کروڑوں عوام آپ کو اپنا ہیرو مان لیں گے اور پھر کوئی تحریک انصاف آپ کے ووٹ بینک پر نقب لگانے کی باتیں نہ کر سکے گی۔ آپ کا مقابلہ اپنے مدمقابل سے فلاحی، رفاعی کاموں سے مشروط ہوناضروری ہے۔ وگرنہ لوگ تو مغلوں کو بھی بھول چکے ہیں کہ مغلوں نے محلات اور قلعے تو تعمیر کروائے مگر شیرشاہ سوری نے صرف پانچ سالہ اقتدار میں ہمارے اس خطے کو جدید خطوط پر استوار کرکے جی ٹی روڈ اور ڈاک کی ترسیل کے ایسے نظام سے متعارف کروایا کہ جس سے ہم آج تک مستفید ہو رہے ہیں۔ میاں صاحب خدارااپنے مشیروں پر نظررکھیں تاکہ وہ آپ کو دیگر سازشوں،لڑائیوں میں الجھانے کی بجائے فلاحی کاموں میں لگائیں۔ آپ ’’ہائراینڈ فائر‘‘ کے چکروں میں نہ پڑے رہیں۔ اہل لاہور اہل پنجاب نے آپ کو مینڈیٹ دیا ہے۔ لاہور کی قبضہ مافیا سے جان چھڑائیں، سڑکوں کو موٹر سائیکلوں اور کاروں کی غیرقانونی پارکنگ سے آزاد کروائیں۔ چین، جاپان یا کسی ملک کے ساتھ معاہدے کرکے لاہور سمیت دیگر شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ صوبائی حکومت کی نگرانی میں چلا کر ہڑتال مافیا سے جان چھڑائیں۔ اگر عوام کو بروقت مناسب پبلک ٹرانسپورٹ میسر ہو گئی تو عوام موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو شاید صرف ’’وِیک اینڈ‘‘ پر کہیں آنے جانے کے لیے استعمال کریں گے۔جاب، ڈیوٹی، سکول، کالج کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کریں گے۔دوسری درخواست آپ سے یہ ہے کہ یہ انڈرپاسوں اور فلائی اوور کی بھرمارسے دور رہیں، یہ مسئلے کا دیر پا حل نہیں، شہر میں میٹروسسٹم اور ٹرین اینڈ ٹرام سسٹم متعارف کروائیں۔ اس سسٹم کے آنے سے جو تانگے ،ریڑھی اور چنگ چی والے بے روزگار ہو ں گے ان کو ان نئے سسٹم اور نئے اداروں میں جاب دے کر ان کے بھی چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچائیں۔ میاں صاحب میں آپ کی ایک سیاسی مخالف جماعت سے تعلق رکھتا ہوں مگر پنجابی ہوں، پاکستانی ہوں اس لیے پنجاب سنوارنے کے لیے لاہوریوں کو رُلنے سے بچانے کے لیے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ سیاسی قلابازیوں سے ہٹ کر عوام کی آواز کواور عوامی خواہش کو اور عوامی ضرورتوں کو آپ تک پہنچائوں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اللہ کی جنت ماں کے قدموں میں جبکہ سیاست کی جنت عوام کی خدمت میں ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus