×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قربانی کا تقاضا صرف عوام سے ہی کیوں؟
Dated: 07-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہر سال کی طرح اس سال بھی ہمارے سیاسی راہنماعیدالضحیٰ کے مبارک موقع پر اپنے اپنے تہنیتی پیغامات میں عوام کو قربانی کا درس مختلف طریقوں سے دیتے نظر آئیں گے۔ ملک کا حکمران طبقہ وہ وفاق میں ہو یا صوبوں میں صدر،وزیراعظم، وزراء اعلی، گورنرز تمام قومی و صوبائی وزارتوں کے وزراء کے علاوہ صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران سینٹ کے چیئرمین و اراکین عوام کو قربانی کی فضیلتوں سے متعارف کرواتے نظر آئیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عیدالضحیٰ پر قربانی کی رسم ابراہیمی ،حج کے مناجات کا ایک خصوصی پہلو ہے جو ہمیں ایثار ، جذبہ، محبت اور پھر اللہ کی رضا کے لیے اپنی قیمتی متاع تک کو قربان کر دینے کا درس دیتا ہے اور یہ یہی جذبہ ہے کہ آج اس فلسفے کو سمجھنے والے ڈیڑھ ارب مسلمان سنت ابراہیمی کو اپنے ایمان کالازمی جزو قرار دیتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان کا حصول بھی اسی فلسفے کا تسلسل ہے۔ میں جب یورپ کی زندہ قوموں کو آج ماضی کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو ان کی ترقی اور موجودہ حیثیت پر رشک آتا ہے کہ ان کے بڑے بوڑھوں نے اگر تاریخ میں ان کے لیے Sacrifies نہ کیا ہوتا تو آج یورپ کے حالات شاید پاکستان سے بھی ابتر ہوتے؟ میں نے سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایک سوئس دوست پیٹر گرھارڈ کے والد مسٹر گرھارڈ سے جن کی عمر اس وقت 90سال ہے پوچھا کہ آج کا یورپ ترقی کی منازل کیا آسانی سے طے کر گیا؟ تو مجھے مسٹر گرھارڈ نے جواب دیا کہ نہیں۔ ہم نے یہ ترقی بہت قربانیاں دے کر حاصل کیں۔ ہم نے انیسویں اور بیسویں صدی میں ماضی کے بالکل مخالف سمت چل کر آنے والی نسلوں کو کچھ دینے کا عزم کیا۔ اس راستے میں ہمیں نہ صرف ہمارے مذہبی پیشوا جنہوں نے اس وقت چرچز کو کمائی کا اڈہ بنا لیا ہوا تھا اور چرچ کی مرضی کے مخالف کسی بھی عمل کو چرچ کے علاوہ عوامی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اور ان نامساعد حالات میں آنے والی نسلوں کے لیے کچھ مثبت چھوڑنے کا سوچنا بھی ایک جنگ سے کم تصور نہ ہوتا تھا۔ دراصل پہلی جنگ عظیم اور پھر دوسری جنگ عظیم جو 1945ء کو تقریباً ختم ہو ئیں۔ ان کے اثرات بڑے دیرپا تھے اورآج تک یورپ ان کے اثرات سے باہر نکل نہیں پایا مگر ان دو عظیم جنگوں میں کروڑوں انسانوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ انسانوں پر بڑے انسانیت سوز تجربات کیے گئے اور مذہب اور ترقی اور سوشلزم کے نام پر انسانیت کا استحصال کیا گیا۔ ایسے جنگی جرائم رونما ہوئے جن کی داستانوں سے انسان کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسٹر گرھارڈ نے مجھے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کے دو سال بعد تک ان کے والدین اپنے بچوں کو آلو کا سُوپ دینے کے علاوہ کچھ نہ دے سکے۔ صرف کرسمس پر آلو کے سُوپ کے ساتھ بریڈکا ٹکڑا بھی کھانے کو مل جاتا تھا۔ اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے؟ مسٹر گرھارڈ نے مجھ سے پوچھا؟ تو میں نے سوچا کہ ہمارے حکمران، ہمارے راہنما، ہمارے راہبر اپنی قوم کے ساتھ کتنے مخلص ہیں؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں چند ایک اچھے راہنما بھی ملے ۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو جب انہیں زیارت سے کراچی منتقل کیا جا رہا تھا، ایئرپورٹ سے گورنر جنرل ہائوس تک منتقل کرنے کے دوران ایمبولینس پنکچر ہو گئی۔ جب کہ ڈرائیور کے پاس سپیئر سٹپنی بھی نہیں تھی اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن ملک کاپہلا سربراہ گورنر جنرل حضرت محمد علی جناح جنہیں قوم قائداعظم کا خطاب دے چکی تھی۔ سڑکوں پر ہی رحلت فرما گئے جبکہ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو لیاقت باغ جلسہ کے دوران شہید کر دیا گیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو کو اسی شہر اور ان کی بیٹی دو دفعہ وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا گیا۔ کیا ان سب سربراہان کو مارنے والے غیرملکی تھے؟ یا کہیں نہ کہیں اس کے تانے بانے اپنے ہی لوگوں سے جا ملتے ہیں۔ مگر بدشومئی قسمت ہمارے اکثر راہنمائوں نے قربانیاں دینے کی بجائے قربانیاں لینے کو اپنا وطیرہ اور حق سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم تو ان راہنمائوں کے چونچلوں پر قربان ہو چکی ہے۔ قوم کا حال یہ ہے کہ خون کے عطیے کی اپیل کی جائے تو عوام کی رگوں میں غربت اور مہنگائی نے خون نہیں چھوڑا ،شاید بیس کروڑ عوام اپنے خون سے ہی ان راہنمائوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ وطن عزیز کے پچھلے 64سالوں میں حالات کبھی اتنے دگرگوں یوں تو نہ تھے ہر آنے والے نئے حکمران نے ہماری رگوں کو نچوڑا اور خون کی آخری بوند بھی ڈکار لیے بغیر پی گئے۔ ملک کا کوئی ایک ایسا سابقہ حکمران بتائیں جن کے یورپ، انگلینڈ، لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں کروڑوں، اربوں کے محل نما مکانات نہ ہوں؟ سیاست میں پیسہ بنانے کا رجحان خصوصی طور پر چھانگا مانگاآپریشن کے بعد شروع ہوا اور پھر ایسا شروع ہوا کہ ہماری رگوں میں رچ بس گیا۔ میری 71ء سے77ء تک کی اسمبلی کے ایک سابقہ ممبر قومی اسمبلی سے بات ہوئی کہ اس وقت کی کرپشن اور آج کی کرپشن میں کیا فرق ہے؟ جس پر انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اس لیول پر کرپشن تھی کہ اکثر ممبران اسمبلی اپنے اپنے حلقوں سے اسلام آباد بذریعہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی بسوں پر سفر کرتے تھے جن کے ووچر انہیں ملتے تھے اور ممبران اسمبلی اپنی فیملی کے ووچر کسی دوسرے کو بھی دے دیتے تھے، یہ کرپشن کی ایک صورت تھی ۔میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا کہ آج ہمارے راہنما ایک بسکٹ پر اکتفا نہیں کرتے ، پوری بیکری کھا کر بھی معصوم بنے رہتے ہیں۔ ایک تازہ اعدادوشمار کے مطابق صرف پچھلے چالیس سالوں میں ہمارے حکمران طبقے کے 500ارب ڈالر غیرملکی بینکوں میں جمع ہیں، جن پر انہیں کوئی خاص شرح سود بھی نہیں ملتی جبکہ وہی یورپی و غیرملکی بینک ہمارے اپنوں کے جمع کروائے ڈالرز بعدازاں پاکستان کو بھاری شرح سود پر قرضہ پر دیتے ہیں۔ اس طرح ’’ہمارے جوتے ہمارے ہی سر پر‘‘کے مصداق ہم یہ طرفہ تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے بیشتر راہنمائوں اور حکمرانوں کے ہمسائیہ دشمن ممالک سمیت پوری دنیا میں شوگر ملیں اور فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے مخدوم ، مزاری اور لغاری ہمارے جاگیرداروں کے بیٹے بیٹیاںغیرملکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم اعلیٰ دام دے کر حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان جاگیرداروں کے مزارعے ایک گولی ’’اسپرین‘‘ کے لیے ترس جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کی اشرافیہ غیرملکی مہنگے ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم کے بیٹے کو ڈینگی بخار ہوتا ہے تو خصوصی طور پر برطانیہ بھجوا کر علاج کروایا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں غریب مریض ہسپتالوں میں بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے صرف ایک بیٹے یا بیٹی کی اعلیٰ تعلیم پر آنے والے اخراجات سے پاکستان کے کسی بھی شہر میں ایک نیا کالج کھولا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان کے حکمرانوں کی لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لائی جائے تو پاکستان خطے کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے۔ اس رقم سے 10ہزار ایسی فیکٹریاں لگائی جا سکتی ہیں جس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کو روزگار میسر ہو سکتا ہے۔ جس سے ہمیں اپنے ان تمام ہموطنوں کو جو دیارغیر میں اپنا لہو پسینہ بیچتے ہیں اپنے ہی ملک میں روزگار میسر ہو جائے گا۔ ہمارا ملک زرمبادلہ کے لحاظ سے دوبئی ،کویت ،ابوظہبی اور سعودی عرب سے زیادہ نہیں تو برابری کی سطح پر آ جائے گا۔ 2005ء میں جب زلزلہ آیا تو دنیا نے جی بھر کر پاکستان کی مدد کی پھر پہلی دفعہ سیلاب 2010ء میں آیا تو وہ امداد کم ہوتی چلی گئی جبکہ 2011ء کے سیلاب پر حکمران چیخ چیخ کر بھیگ مانگتے رہے مگر کوئی مدد کو نہ آیا۔ ہم نے کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہوا؟ کیا یورپ اور عالمی دنیا بے حس ہو گئی ہے؟ نہیں یقینا ایسا نہیںہوا پھر وجہ کیا ہے؟ دراصل 2005ء کے زلزلے کی رقوم آپس میں بانٹ لی گئی۔ 2010ء کے سیلاب کی رقوم بھی بندربانٹ کا شکار ہو گئی۔ جبکہ عطیات، کمبل ،ادویات، واٹرکولربعدازاں بازاروں میں بکتے رہے ہیں۔ پھر اب کون ہماری مددکی آواز پر کان دھرے گا؟ جس ملک کا وزیراعظم روزانہ دنیا کے کے مہنگے ترین ٹیلر کے سوٹ زیب تن کرے گا، جس ملک کی وزیر خارجہ ’’گوچی‘‘ کاپرس ،’’آرمانی‘‘ کی عینک اور Channellکے پرفیوم اور ’’بالی‘‘کے جوتے پہن کر امداد مانگنے جائے گی توکیا 2011ء کے اس دور میں عالمی دنیا کو بے وقوف بناناممکن ہے؟ ہمیں قربانیوں کا سفر حکمرانوں سے شروع کرنا ہوگا پھر عوام تقلید کریں گے وگرنہ آہستہ آہستہ سب ختم ہو جائے گا۔ ہماری عوام، ہمارے حکمران ،ہمارے رہنمائوں ، ہمارے جاگیرداروں، تاجروں کو اب اپنا فرض نبھانا ہوگا وگرنہ : یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus