×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اتحاد سے اعتماد تک
Dated: 25-May-2008
خوش قسمتی سے پاکستان کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان ایک کوالیشن قائم ہوا، اسے اردو میں اتحاد یا پارٹنر شپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک انوکھا اور عجیب تجربہ تھا کہ 1988ء سے لے کر 1999ء تک سخت ترین حریف ایک پلیٹ فارم پر آگئے تھے۔اس گیارہ سالہ دور میں دونوں کی طرف سے ایک دوسرے کے ساتھ زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی۔ کسی طرف سے کم اور کسی طرف سے زیادہ ہوئی ہوں گی جن کو دونوں طرف کے قائدین نے بھلا دیا تو ایک دوسرے کے بارے میں پائی جانے والی نفرت کی جگہ احترام نے لے لی۔ یہ احترام بدستور برقرار ہے لیکن بدقسمتی سے دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد متزلزل نظر آتا ہے۔ اس میں عوامی سطح پر پیپلز پارٹی کو موردالزام ٹھہرانے کا تاثر دیا جا رہا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بڑی پارٹی ہونے کی حیثیت سے بڑے پن، بڑے دل گردے اور وسیع النظری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں کی قیادت نے ایک دوسرے کے لیے اچھے جذبات کا اظہار کیا محترمہ جلسوں میں اعلان کرتی تھیں کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دو یا مسلم لیگ (ن) کو، نوازشریف بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے۔ انتخابات کا اے پی ڈی ایم نے بائیکاٹ کیا، ہماری پارٹی کے اہم رہنما جناب اعتزاز احسن نے بھی تمام وکلاء ساتھیوں کے ساتھ بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اے پی ڈی ایم اور وکلاء بائیکاٹ نہ کرتے تو مسلم لیگ (ن) کو ملنے والی سیٹیں تین چار حصوں میں تقسیم ہوتیں۔ اور آج ایک ہنگ پارلیمنٹ وجود میں نہ آتی۔ اگر ہم اے پی ڈی ایم اور اعتزاز احسن کی بات مان لیتے اور بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے تو آج نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ مسلم لیگ (ن) موجود پوزیشنوں پر نظر آتی۔ آج صدر مشرف کی حمایت یافتہ (ق) لیگ اقتدار پوری طرح انجوائے کر رہی ہوتی اور آج کی اتحادی پارٹیاں سڑکوں پر ڈیرے جمائے نظر آتیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے18 فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں، اس کی چاروں صوبوں میں نمائندگی ہے۔ مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہی، پیپلز پارٹی کو مرکز میں نہ صرف ن لیگ کے بغیر حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی بلکہ دبائو بھی تھا، اسے پنجاب میں حکومت بنانے پر بھی مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ملک میں رائج سیاسی کلچر سے کون واقف نہیں، اگر پیپلز پارٹی پنجاب میں حکومت بنانے کا اعلان کر دیتی تو مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں کا رخ کس طرف ہوتا؟ پیپلز پارٹی نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب کی فراخدلی کی حد تو یہاں تک ہے کہ انہوں نے میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کی بار بار پیشکش کی اور یہ پیشکش بدستور موجود ہے۔ پارٹنر شپ ایک ننانوے کی ہو، چالیس ساٹھ کی ہو یا ففٹی ففٹی کی، پارٹنر شپ، پارٹنر شپ ہی ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے معمولی نہیں، غیر معمولی دانش، دانائی اور اہمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعتماد ہو تو پارٹنر شپ لوہے کی طرح مضبوط ہوتی ہے اور کسی طرف سے چالاکی کا مظاہرہ کیا جائے تو یہی کچے دھاگے سے بھی نازک ہو جاتی ہے جس کے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ سیاست میں کسی بات کو حرف آخر قرار نہیں دیا جاتا۔ ہر معاملے میں امکانات کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’سیاست میں جس راستے سے گزرو وہ دروازہ بند نہ کریں ہو سکتا کہ آپ کو واپس آنے کے لیے اسی دروازے کی ضرورت پڑے۔‘‘9 مارچ کو اعلان مری میں تیس دن کی ڈیڈ لائن دی گئی، یہ ڈیڈ لائن مسلم لیگ (ن) کے کہنے پر دونوں پارٹیوں نے دی، پھر نئے سے نیا معاملہ سامنے آنے لگا۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ایسا کچھ کر دیا جائے کہ آئندہ ایسے مسائل سرے سے جنم ہی نہ لیں جن کے باعث پوری قوم ٹینشن کی سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ آئینی پیکیج اسی لیے لایا جا رہا ہے۔ اعلان مری میں ڈیڈ لائن مقرر کرنا ہی مسلم لیگ (ن) کا وزارتوں سے علیحدگی کا سبب اور اتحاد کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوا۔ ججوں کی بحالی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جدوجہد اپنی جگہ لیکن اس سے کون انکار کرے گا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تمام معزول ججوں کی بحالی کے لیے خون کا پہلا قطرہ پیپلزپارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے بہایا اور 12 مئی کو کراچی کے اندر جب خون کی ہولی کھیلی گئی تو تین درجن سے زائد پیپلز پارٹی کے کارکنان نے جام شہادت نوش فرمایا۔ اسی طرح 17 جولائی کو اس وقت بم دھماکے میں پیپلز پارٹی کے 20 کارکنان نے اپنی جانوں کا نذرانہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائی کے لیے پیش کیا۔ اب پیپلزپارٹی جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر معزول ججوں کی بحالی کے کاز سے کیسے پیچھے رہ سکتی ہے؟ لیکن ایسے معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کو جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اگر یہ وزارتوں سے الگ ہوئے ہیں تو اسے سلمان تاثیر کی بطور گورنر تقرری پر ایسا ہی مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، جیسا کہ دوست محمد کھوسہ کی بطور چیف منسٹر تقرری پر پیپلز پارٹی نے اس وقت کیا، جب مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں اقتدار کے پہلے دن ہی تین ہزار پانچ سو ایگزیکٹو آفیسرز کو بیک وقت گھر چلتا کر دیا اور دوسرے دن پانچ ہزار افراد کے تبادلہ سے اپنے ناشتے کا آغاز کیا۔ حالانکہ اس کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی سے جو کہ پنجاب میں کوالیشن پارٹنر ہے ایک دفعہ پوچھنا بھی گوارا نہ کیاگیا۔ کیا مسلم لیگ (ن) کے پاس اکیلے دوتہائی اکثریت تھی کہ وہ ایسے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی؟ پیپلز پارٹی کی مرکز میں حکومت ہے اسے پنجاب میں آئی جی، چیف سیکرٹری اور گورنر کی تقرری کا استحقاق ہے۔ اس کے باوجود آئی جی اور چیف سیکرٹری صاحبان مسلم لیگ (ن)کی مرضی سے لگائے گئے۔ اور اگر گورنرپیپلز پارٹی نے اپنی پارٹی کا ایک سینئر سیاست دان کو لگا لیا تو اس میں اتنا ہنگامہ اور بات کو اخبارات تک لے جانے کا ذمہ دار کون ہے؟ اور وہ بھی تقرری سے پہلے جناب شہباز شریف صاحب کے علم میں یہ ساری بات لائی گئی اگر کوئی اعتراض تھا تو مرکز کو اسی وقت بتا دیا جاتا،اب کون سی قیامت آ گئی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر عہدیداران سلمان تاثیر کی تقرری کو انا کا مسئلہ بنا بیٹھے۔ پریس کانفرنسوں اور ٹی وی اور اخباری بیانات سے واویلا کرنے سے اتحاد مضبوط ہونے کی بجائے اس کی جڑیں مزید کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔ اتحاد ایک ایسی چیز ہے جسے برقرار رکھنا ہر فریق کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب ن لیگ، پیپلزپارٹی کے اندرونی معاملات میں اس حد تک مداخلت کرے کہ ہمیں اپنے وزیراعظم کے لیے کسے نامزد کرنا چاہیے اور کسے نہیں۔ رحمن ملک،فاروق نائیک سمیت دیگر پارٹی رہنمائوں کی تقرریوں پر اعتراض دراصل ن لیگ کی پالیٹکس کا دوہرا معیار ہے۔ جناب محترم نواز شریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کو بھی اپنے ہراول دستے کے ارکان کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی کی اپنی ایک پہچان ہے اور اپنی مینجمنٹ ہے۔ ن لیگ کے سینئر اراکین کی طرف سے ایسے بیانات سے میثاق جمہوریت کی بنیادوں کو دھچکا لگنے کا خطرہ ہر وقت موجود ہے۔مشہور جرمن زبان کے فلاسفر کا قول ہے کہ اگر آپ کو دوستی کرنی ہے تو دونوں دوست دوستی سے پہلے ایک ایک کلو نمک کھا لیں۔ یعنی اتنے کڑوے ہو جائیں کہ دوسرے پارٹنر کی بات کڑوی نہ لگے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تک حالات اس نہج تک نہیں پہنچے کے واپسی کا راستہ گم ہو جائے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کو عوام کی دی ہوئی جمہوریت کے لیے قربانیاں اور اپنے کارکنان کی جانوں کے نذرانے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا اور ٹالرنس کا راستہ ہی جمہوریت کو منزل کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ ابھی بھی خونخوار بھیڑیئے اپنے شکار کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ہمیں وفاق پاکستان اور سالمیت پاکستان کے لیے دلوں سے کدورتوں کو نکال کر محبت کے، اعتماد کے پھول اُگانے ہوں گے جن کی خوشبو سے آنے والی نسلیں استفادہ کر سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus