×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
محترمہ کی شہادت کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کیوں ضروری؟
Dated: 01-Jun-2008
18اکتوبر 2007ء کو جب امارات ایئر لائنز کا طیارہ کراچی قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر اترا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خلق خدا نے آج ایک عظیم تبدیلی کے لیے فیصلہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کو دی گئی سزا کے نتیجے میں دو سو کے قریب پیپلز پارٹی کے کارکنان جام شہادت نوش کر گئے۔ دراصل محترمہ اس حملے کا ٹارگٹ تھیں۔ 20اکتوبر کو اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے مجرموں اور سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے اس حملے کی تحقیقات بین الاقوامی ایجنسیوں سے کروانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے برملا کہا کہ ہمیں شبہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری تحقیقاتی اداروں کے اندر عسکریت پسند اور مذہبی جنونی شامل ہو چکے ہیں۔ اس لیے ان اداروں پر یقین کرنا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں سب سے انہونی بات یہ ہوئی کہ سرکار نے دو سو لاشوں کو لاوارث سمجھ کر خود ہی ایف۔ آئی۔آر درج کر لی اور اس سلسلے میں محترمہ بے نظیر بھٹو یا پیپلز پارٹی کو درخور اعتناء نہ سمجھا گیا۔22اکتوبر کو مسلسل تیسرے روز بھی محترمہ کا زور اسی پر تھا کہ حملے کی تحقیقات غیر ملکی ماہرین سے کروائی جائے۔ محترمہ نے کچھ سرکاری شخصیات کو اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ 23اکتوبر کو ان سے امریکی سفیر این پیٹرسن نے ملاقات کی۔ محترمہ نے ان سے بھی اپنے مطالبے کو دہرایا کہ مذکورہ حملے کی بین الاقوامی ماہرین سے تحقیقات کروائی جائے۔ امریکی سفیر نے یقین دہانی کروائی کہ ان کا ملک ایسی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا۔ اس دوران چودھری شجاعت حسین نے یہ اخباری بیان دیا کہ پیپلز پارٹی نے یہ حملہ خود کروایا ہے تو ملک میں مروجہ کلچر کے باعث کسی غیر جانبدارادارے سے تفتیش اور بھی ضروری ہو گئی۔ حکمرانوں کی بدنیتی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی جو کہ ا س کیس میں مدعی تھی اس کے کسی رکن تک سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا۔ 31اکتوبر کو محترمہ نے ایف۔ بی۔ آئی یا پھر سکاٹ لینڈ یارڈ سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ اس واردات میں اعلیٰ حکومتی ارکان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک یا ممالک بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ لیکن حکومت نے ان کے کسی مطالبے پر کان نہ دھرے۔ اور اپنی ہی ایجنسیوں سے تحقیقات پر مصر رہی۔ جس کا آج تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ اگر ان کے مطالبے پر کسی بھی بااعتماد عالمی ادارے سے تحقیقات کرا لی جاتی تو مجرم اور سازش بے نقاب ہو جاتے۔اور ان سفاک مجرموں کو 27دسمبر کی وحشیانہ کاروائی کا موقع نہ ملتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی اور ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کا یہ پرزور مطالبہ رہا ہے کہ سانحہ کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروائی جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ پولیس سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے اس کے کنٹرول میں ہیں اسے اپنے اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ بات اعتماد اور بداعتمادی کی نہیں قوم کو یاد ہے کہ محترمہ کی شہادت کے دوسرے روز وزارت داخلہ نے خود ہی تحقیقات مکمل کر لی اور اعلان کر دیا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار بیت اللہ محسود ہے۔ حالانکہ بیت اللہ محسود نے اس کی فوری تردید کر دی اور عوام کو یہ واضح پیغام دیا کہ ان کا اس سانحہ سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم منگوا کر اس سانحہ کے اثرات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ذمے محترمہ کی شہادت کی وجوہات کا تعین کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے حالانکہ پوری قوم ہی یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس سانحے کی سازش کہاں اور کس نے تیار کی۔ اور اصل مجرم کون تھے دراصل پیپلز پارٹی گولی چلانے والے ہاتھوں کو ہی نہیں اس سازش کے پیچھے چھپے ذہنوں تک رسائی چاہتی ہے۔ ہمارے باصلاحیت تحقیقاتی ادارے کو مکمل آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو وہ بہت کم مدت میں معاملے کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ادارے جو کچھ کر سکتے ہیں اپنے ہی ملک کے اندر کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس سانحہ میں کوئی دوسرا ملک یا ممالک ملوث پائے گئے تو ہماری ایجنسیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے شہید بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی تحقیقات سکاٹ لینڈ یارڈ سے کروانے کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بلوائی۔ لیکن اپنے ہی آستین کے سانپ لغاری نے اس ٹیم کو واپس بھجوا دیا۔ اب محترمہ کی شہادت سے متعلق اس کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کا مقصد یہی ہے کہ اس بین الاقوامی سازش کو صرف اقوام متحدہ کی تفتیش سے ہی بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کا شبہ بھی حکومت شام پر کیا گیا۔ لیکن اس کی تحقیقات بھی لبنان کے مقامی تحقیقاتی اداروں سے اس لیے نہ کروائی گئی کہ لبنان کی ایجنسیوں اور اداروں کی اپروچ ایک تو لبنان میں تعینات پچاس ہزار شامی فوجیوں کی موجودگی اور ان کا لبنان کے اداروںپر اثررسوخ اور دوسرا وہ ادارے صرف لبنان کے اندر ہی تحقیقات کے مجاز تھے اس لیے اقوام متحدہ سے اس کی تحقیقات کروائی گئی جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نہ صرف پاکستان کے سابق وزیراعظم کی بیٹی بلکہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دو دفعہ پاکستان کی منتخب وزیراعظم تھیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قائد بھی تھیں۔ اب جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی ہیں اور عالمی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے اس بہیمانہ قتل کی تحقیقات اور تفتیش عالمی ادارے سے کروائی جائے۔ تاکہ آئندہ ایسی کسی بھی سازش کو پروان چڑھنے کا موقع نہ مل سکے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اگر وہ چہرے جن کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں وہ ایسے کسی سانحے کے ذمہ دار نہیں تو انہیں خود کو کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ چونکہ پاکستان کے سترہ کروڑ عوام اب کی دفعہ اس کیس کو شہید ملت کے کیس کی طرح دبنے نہیں دیں گے تاکہ لیاقت باغ آئندہ کسی سانحے کا موجب نہ بنے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus