×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سِسکتا ہوا کِسان،غذائی قلت اور اقتدار کے نشے میں مدہوش حکمران
Dated: 26-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سرسبزپنجاب اور پڑھا لکھا پنجاب کے کھوکھلے نعرے لگا کر پنجاب کے عوام کو آخر کب تک بے وقوف بنایا جائے گا۔ اگر پنجاب کے 11کروڑ عوام ذہنی طور پر مستحکم اور خوشحال نہ ہوئے تو پھر حکمران پنجاب کی نہروں اور ’’نالوں‘‘ کو پکا کرنے اور دانش سکولوں کے نام پر جو اربوں روپے ان ہی نالوں میں بہا رہے ہیں وہ پنجاب کے عوام کے لیے کس کام کے؟ گذشتہ روز مجھے جنوبی پنجاب جانے کا اتفاق ہوا۔ ساہیوال سے لے کر صادق آباد تک سڑک کے دونوں اطراف کپاس کے لہلہاتے کھیت سفید دودھیا کپاس کی ’’پھٹیاں‘‘ جنہوں نے کھیتوں کو چمک خیز حسن دیا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھ بیٹھے دوست سلیم بھُلر سے پوچھا کہ کپاس کی چنائی میں ابھی کتنی دیر باقی ہے تو سلیم بھُلر نے جواب دیا کہ چنائی تو کب کی شروع ہو چکی ہے مگر امسال کسان چنائی نہیں کر رہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کیا کسانوں کو کپاس کے ضائع ہونے کا احتمال نہیں ہے؟ کیا کسانوں کو پیسے نہیں چاہیے؟ میں خود ایک کسان کا بیٹا ہوں مجھے پتہ ہے کہ ہمارے گھروں میں فصل کی تیاری کا انتظار شدت سے کیا جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے جو تاریخیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق اگائی ہوئی فصل کی کٹائی اور فصل بیچ کر کیا جاتا ہے اور بہت سے کسان تو پہلے ہی ’’آڑھتی‘‘ سے رقم وصول کر چکے ہوتے ہیں۔ بیٹوں کے کالجز اور سکولز کے ایڈؤانس اور فیسوں کا دارومدار بھی ان فصلوں کی کٹائی پر ہوتا ہے۔ حتی کہ کسان کی تمام کاروبارِ زندگی کا دارومدار فصل کی کٹائی پر ہوتا ہے۔ مجھے تجسس ہوا میں نے دوران سفر جب متعدد کسانوں سے اس سلسلہ میں بات چیت کی اور دریافت کیا کہ کیا اصل مسئلہ کیا ہے؟ دراصل 2008ء تک کپاس کی قیمت 2000سے 2500روپے فی من تھی۔ بعدازاں مہنگائی کے آسیب کی وجہ سے مل مالکان اور حکومت کی باہمی مشاورت کی وجہ سے 2009ء اور 2010ء میں کپاس کی قیمت اور کپاس کی مانگ میں عالمی مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔ 2010ء میں کپاس کی پاکستان میں پیداوار ایک کروڑ پچیس لاکھ گانٹھ رہی جبکہ پاکستان کی ضرورت ایک کروڑ چالیس لاکھ گانٹھ تھی۔ پاکستان ہر سال اعلیٰ ریشے والی15لاکھ گانٹھ روئی باہر کے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ یہ خاص ریشے والی کپاس پاکستان میں نہیں ملتی۔ مگر امسال کسانوں نے کپاس کی فصل بہتر طریقے سے اگائی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان خود ایک کروڑ چالیس لاکھ گانٹھیں کپاس حاصل کر لے گا۔ جب اس بات کا علم ہماری کاٹن انڈسٹری سے متعلقہ مِل مالکان کو ہوا تو انہوں نے یکدم کپاس کی قیمت 5500روپے فی من سے 2500روپے جبکہ اندرون سندھ اس کی قیمت 2000روپے فی من کر دی تاکہ کسان کو بلیک میل کرکے اس سے اس کی فصل ہتھیائی جا سکے۔ طرفہ تماشا یہ کہ اس سال چنائی سے کچھ پہلے ملک بھر میں ہونے والی بارشوں نے کسان کے اندازوں اور خوابوں اس طرح ریزہ ریزہ کر دیا کہ کسان سوچ رہے تھے کہ اس سال اچھی فصل ہو گی اور 45 سے50من فی ایکڑ فصل حاصل کر سکیں گے جبکہ بارش کی وجہ سے ’’پھٹی‘‘ضائع ہو جانے کی وجہ سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 20سے25من فی ایکڑ رہ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کسان کو پچاس فیصد نہیں سو فیصد نقصان ہوا۔ پاکستان میں 92لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس اگائی جاتی ہے اور اس وقت ملک بھر میں 1200کاٹن جینرزملیں۔ PCGAپاکستان کاٹن جینرز ایسوسی ایشن کے پاس رجسٹرڈ ہیں جبکہ اس راکپاس کو کپڑے اور دھاگے میں تبدیل کرنے کے لیے تین سو سے زائد ٹیکسٹائل ملیں ’’آپٹیما‘‘ کے پاس رجسٹرڈ ہیں جبکہ 65 لاکھ خاندان اس پیشے سے منسلک ہیں۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے لہٰذا بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دس کروڑ افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے جبکہ حکومت کی عاقبت نااندیشی کی بدولت اس آدھے پاکستان کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے جبکہ ’’آپٹیما‘‘ کے مالکان چند خاندانوں کو تحفظ دینے اور ان کی تجوریاں اور بینک اکائونٹ بھرنے کی خاطر کروڑوں عوام کو اذیت دی جا رہی ہے۔ یہ وہی مِل مالکان ہیں جنہوں نے عالمی کسادبازاری اور لوڈشیڈنگ کو بہانہ بنا کر اپنا سرمایہ ،کارخانے اور ملیں بنگلہ دیش منتقل کر لیے ہیں۔ 300ملوں میں سے 150بنگلہ دیش اور ملایشیا منتقل ہو چکی ہیں۔ ان ملوں کی بیرون ملک منتقلی اور بندش کی وجہ سے نہ صرف کپاس کی قیمت مزید کم ہو گئی بلکہ پاکستان کو سستے داموں اپنا را میٹریل باہر برآمد کرنا پڑے گا جس کا ملکی معیشت پر خوفناک اثر پڑے گااور آئندہ کوئی کسان کپاس کی کاشت نہیں کرے گا جبکہ اس سال کپاس کی چنائی دیر سے ہونے کی وجہ سے کپاس کے فوری بعد کاشت کی جانے والی فصل گندم شدید متاثر ہو گی کیونکہ جب تک کپاس کے کھیت خالی نہ ہوں گے گندم کیسے بوئی جائے گی؟ اور اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہوا تو آنے والے سیزن میں غذائی قلت کا وہ طوفان آئے گا جس کو ’’تِنکوں‘‘ سے بنی یہ حکومت بچا نہ سکے گی۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان کو حکم دے کہ وہ کسانوں سے 15لاکھ اضافی گانٹھوں کو خریدنے کا اعلان کر دے تو باقی ایک کروڑ پچیس لاکھ گانٹھیں مِل ملکان پچھلے سال والی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ (ٹی سی پی کے پاس کھربوں روپے کا بجٹ اور فنڈز ایسی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے ہر وقت موجود ہوتے ہیں)دراصل خواب غفلت میں مدہوش حکومت کو اپنے نالائق مشیروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ حکمرانوں سے ایسے فیصلے کروا کر پنجاب کے کسانوں کا ووٹ بینک ان سے چھیننا چاہتی ہے جس پر پیپلزپارٹی کی حکومت تکیہ کیے بیٹھی ہوئی ہے۔ دراصل یہ ہی صورت احوال رہی تو جلد یا بدیر پاکستان کی سرزمین صومالیہ اور سوڈان کا نقشہ پیش کر رہی ہو گی۔ موجودہ حالات کی ذمہ دار نہ صرف مرکزی حکومت ہے بلکہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف بھی معاونت جرم میں شریک ہیں۔ پنجاب کے مسند اقتدار پر براجمان حکمرانوں کو احساس نہیں کہ اگر غذائی و معاشی قلت کا بحران آیا تو کیا عوام میاں برادران کو معاف کر دیں گے؟ کیا پنجاب کے حکمرانوں کا فرض نہیں بنتا کہ وفاق کو مجبور کریں کہ 65لاکھ خاندان جب سڑکوں پر آ گئے تو اس سونامی کو روکنا مشکل ہوگا ۔اس لیے پنجاب کے حکمران عوام کے ایشوز پر عوام کی نمائندگی کریں جبکہ وفاقی حکومت عین الیکشن سے ایک سال پہلے زرعی شعبے سے وابستہ اپنے لاکھوں ووٹرز کو ناراض کر چکی ہے۔ واپسی کے سفر کے دوران میں نے دیکھا سینکڑوں کسانوں نے نیشنل ہائی ویز کو بلاک کرکے ٹائروں کو آگ ہی نہیں لگائی بلکہ کپاس کے کھیتوں کو بھی احتجاجاً آگ لگائی ہوئی تھی۔ شاید اسی لیے حضرت علامہ اقبال ؒنے کہا ہے کہ : جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus