×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کاش ہمارے حکمران فلسفہ حسینیؑ پر عمل پیرا ہوتے؟
Dated: 06-Dec-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تاریخ اسلام کے روشن باب میں سے ایک فلسفہ حسینیؑ ہے۔ قربانیوں کی یہ تاریخ رقم کرکے نواسۂ رسول نے آنے والی نسلوں پر ایک احسان عظیم کیا ہے۔ شاید اگر اس وقت قافلہ حسین ؑ کوئی اور فیصلہ کر لیتے تو آج ان کے چاہنے والے اس طرح اتنی تعداد میں روئے زمین پر نہ ہوتے۔ میں نے یورپ اور دنیا بھر کا نہ صرف سفر کیا ہے بلکہ اس کلچرل اور سوسائٹی میں رہ کر ان کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ میرے اکثر یورپی دوست جب بحث و مباحثہ کرتے تھے تو حضرت امام حسینؑ کے خاندان کی قربانیوں سے شدید متاثر نظر آتے تھے۔ دراصل جب بھی صبر، ہمت اور قربانی کا ذکر ہوگا وہ ذکر ذکرِ امام حسینؑ کے بغیر مکمل نہ ہوگا۔ قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کے لیے بھی مسلمانان برصغیر نے قربانیوں کی عظیم تاریخ رقم کی ۔مملکتیں بنتی ٹوٹی رہتی ہیں مگر جب پاکستان کا قیام ہونے کو جا رہا تھا تب لاکھوں کی تعداد میں مسلمانان ہند کو تہ تیغ کیا گیا۔ ریل کی پٹریوں پر میلوں لمبی لاشوں کی قطاریں اس بات کی گواہ رہیں گی کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونے کا فلسفہ قربانی ہے۔ مگر بدشومئی قسمت پاکستان کے جاگیرداروں،سرمایہ داروں نے اس ملک کا خون چوسنا اور ماس نوچنا شروع کر دیا اور پہلے پندرہ بیس سالوں میں جمہوریت اور استحکام کو جو دھچکاپہنچا اس کی تلافی اس لیے ممکن نہیں کہ جب کسی عمارت کی بنیادوں میں ہی کمی رہ جائے تو پھر اس عمارت کا دیرپا اور مضبوط رہنا مشکل ہوتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے صرف 23سال بعد ہمیں اپنے جسم کے آدھے حصے سے محروم ہونا پڑا اور جب پلٹن گرائونڈ میں بھارتی فوجی ہمارے افسران کے کاندھوں سے میڈلز اور سٹارز نوچ نوچ کر اتار رہے تھے تو اس دن ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم نے حق کی خاطر لڑنے کا فلسفہ فراموش کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج اس ڈھاکہ کے پلٹن گرائونڈ میں ہونے والی تقریب کو پوری دنیا کے نشریاتی اداروں نے دکھا کر ہمارا سر ہمیشہ کے لیے شرم سے جھکا دیاہے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمیں اس واقعہ کے بعد بھی کئی سانحات دیکھنے کو ملے اور پھر جب مجموعی طور پر ان کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا۔77ء کے انتخابات کو دھاندلی قرار دے کر اس کے اندر سے ایک تحریک نظام مصطفی نکالی گئی اور تحریک نظام مصطفی کے سبھی داعی وزارتیں لے کر گوشۂ گمنامی میں چلے گئے۔ فلسفہ اسلام کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے والوں کا ذکر آج کتابوں میں بھی نہیں ملتا۔77ء کے مارشل لاء نے جسموں کو تو پھانسی پر لٹکایا مگر جذبوں کو خاموش نہ کر سکے ۔ شاید قدرت نے بھٹو خاندان کو رسمِ حسینیؑ کے تسلسل کے لیے پیدا کیا تھا۔77ء کی دہائی کے آخر میں بھٹو کی پھانسی،80ء کی دہائی میں میر شاہنواز بھٹو کا قتل پھر 90ء کی دہائی میں میر مرتضی بھٹو کا اندوہناک قتل اور پھر بلندیوں کو چھونے والے مذہب اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم جسے اس ملک کے کروڑوں مسلمانوں نے دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کے مسند پر بٹھایا تھا، جس کو آٹھ سال جلاوطنی کا زہر پینا پڑا۔ جسے دوران اسیری نفسیاتی طور پر ختم کرنے کی سازشیں ہوئیں۔اسے اب جسمانی طو رپر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور 2007ء میں جسے اسی شہر میں جہاں اس کے پاپا کو شہید کیا گیا تھا، اسے بھی انہی شاہراہوں پر شہید کر دیا گیا۔ بس صرف اسی جرم کی پاداش میں کہ وہ ایک جمہوری اسلامی پاکستان چاہتی تھی وہ اپنے پاپا کی طرح وطن عزیز پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کرا کر پاکستان کے 20کروڑ عوام کی آنکھوں سے ان کے خواب چرا لیے گئے ۔ بالکل اسی طرح جب اسلام پھل پھول اور پھیل رہا تھا تو نواسہ رسول کے پورے خانوادے کو شہید کرکے دشمنانِ اسلام نے اسلام کو ختم کرنے کی سازش کی۔ حضرت امام حسینؑ نے اپنی شہادت سے پہلے اپنے بچوں کی شہادتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ غازی عباسؑ کا زخموں سے چور چور بدن ان کے سامنے تھا او روہ شہادت کا جام نوش کرنے ہی والے تھے اور ان کا سر اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؑ کے زانوں پر تھا تو انہوں نے کہا دیکھو بھائی ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا اب امت کو اپنا فرض ادا کرنا ہے۔نواسۂ رسول کے خاندان نے شہادتوں کے باب رقم کرکے بتا دیا کہ ہمتوں سے دریائوںکے رخ بدلے جا سکتے ہیں اور مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ لشکروں سے ٹکرایا جا سکتا ہے ۔ دراصل یہ وہ سبق تھے جن کو بعدازاں ہماری اسلامی تاریخ میں فخریہ طور پر جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر ان لاکھوں قربانیوں کا کیا ہوا ؟کیا ہمارے حکمرانوں نے اس سے سبق حاصل کیا؟ کیا ہمارے طالع آزمائوں نے اس سے سبق حاصل کیا؟ کیا ہمارے سیاست دانوںنے سبق سیکھا؟ کیا ہمارے سرمایہ دا ر اور جاگیردار کے ہاتھ ظلم کرنے سے باز آئے؟ ہمارے ملک کے صاحب اقتدار طبقے کو پچھلے عشروں میں مل کی خدمت کرنے کا موقع ملا مگر ہوس زر نے ان کو سوچنے اور سمجھنے کا موقع نہ دیا کہ عوام کی خدمت کرکے وہ جو جنت حاصل کر سکتے تھے عوام کو لُوٹ کر انہوں نے اپنی جنت کو خود سے بہت دُور کر لیا ہے۔ میں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں لوگوں کے پھٹے پرانے کپڑے جو تن ڈھانپنے کے لیے کافی نہیں ،چہروں پر زردی رنگ دیکھا ہے۔ بھوک پیٹ سے نکل کر چہروں پر سجی نظر آتی ہے۔ آنکھیں جیسے کسی طلسم کے اثر سے خیرہ ہیں۔ آنکھوں میں چھپے خواب چکناچور ہو چکے ہیں۔ کوئی ادارہ محفوظ نہیں۔ پی آئی اے، ریلوے ،سٹیل مل ،بینک ،واپڈا، تیل گیس ،اوقاف و مذہبی امور،تعلیم اور محکمہ خزانہ تک محفوظ نہیں رہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ’’ٹائی ٹینک‘‘ اب کسی لمحے بھی ڈوبنے کے لیے تیار ہے۔ رشوتوں کا بازار گرم ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں دکانداریاں کھلی ہوئی ہیں۔ اتنی دوکانیں کھل چکی ہیں کہ مارکیٹ میں اتنے گاہک موجود نہیں کہ گلشن کا یہ کاروبار چل سکے؟ متروکہ وقف املاک جو کہ ہمارے منیارٹی بھائیوں کے حقوق کے تحفظ کا ادارہ ہے کی پراپرٹی سیاسی رشوت کے طور پر اس شہر اور پاکستان کے صحافیوں میں بانٹ دی گئی ہے۔ ہر بولنے اور لکھنے والے کا منہ پلاٹ یا اپارٹمنٹ دے کر چپ کرا دیا گیا ہے۔ صاحب اقتدار یہ خوب سمجھتا ہے کہ جب لکھنے والے ہاتھ بولنے والے لب اور سوچنے والے ذہن خرید لئے جائیں تو پھر کسی بھی طرف سے اس کے اقتدار کو خطرہ نہیں ہوگا۔ مگر ہمارا صاحب اقتدار طبقہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ نہ سارے لب، نہ سارے قلم، نہ سارے ہاتھ ، نہ ساری سوچیں بکائو ہوتی ہیں ۔ ایک چھوٹی سی چنگاری بہت کافی ہوتی ہے جنگل کو آگ لگا نے کے لیے ،اور جس دن جذبہ حسینیؑ لے کر وہ چنگاری بھڑک اٹھی ، جس دن ظلم کا یومِ حساب آ گیا، جس دن اس 20کروڑ عوام کو احساس ہو گیا کہ اس کے بچوں کے مستقبل کو غیر ملکی آقائوں کے اشارے پر غیرملکی بینکوں میں چھپایا جا رہا ہے تو اس دن یومِ انقلاب اور یومِ حساب ہوگا۔ بے شک حضرت امام حسینؑ کے فلسفہ نے ہمیں منزل کی طرف گامزن کر دیا ہے ۔ اب یزیدی ہتھکنڈے سرنگوں ہوں گے ۔ اب عوام کا صبر چھلکنے کو ہے، اب عوام کو خریدا نہیں جا سکتا، اب بڑی بڑی گاڑیاں عالی شان محل عوام کی دسترس سے محفوظ نہ رہ سکیں گے ۔ اب لوٹا ہوا مال غنیمت واپس کرنے کا ’’سمے ‘‘آ گیا ہے۔اور یہی درس ہے دسویں محرم الحرام کے اس دن کا ۔اور یقینا اسی دن کے لیے شاعر نے کیا خوب کہا: آبِ باراں نہیں ہے قطرہ کہاں سے ٹپکا؟ آج دسویں محرم ہے شاید رویا ہو فلک
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus