×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی بیربل اورملا دوپیازے
Dated: 13-Dec-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرے بچپن کی خوبصورت یادداشتوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دن میری ماں مجھے دوستی کے متعلق بتا رہی تھی کہ دوست کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے؟ ماں نے بتایا کہ اچھا دوست جوہڑ میں کھلے کنول کے پھول کی طرح ہوتا ہے اور بُرا دوست اسی جوہڑ میں رہنے والے بگلے کی طرح ہوتا ہے۔ کیونکہ جب پانی خشک ہونے لگتا ہے اور آخر ایک دن جوہڑ خشک ہو جاتا ہے تو بگلہ اڑ کر کسی دوسرے جوہڑ میں جس میں پانی ہو اپنا مسکن بنا لیتا ہے جبکہ کنول کا پھول پانی کے ختم ہونے کے بعد اسی جگہ خشک ہو کر مٹی کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل پر کچھ تجزیہ نگار بیٹھے اظہار خیال کر رہے تھے کہ جس دن پیپلزپارٹی کی وفاق اور مسلم لیگ ن کی پنجاب سے حکومتیں ختم ہوں گی اسی دن یا اس سے چند روز پہلے اٹک کے پُل سے لے کر صادق آباد تک کون کون ٹھہرے گا اور کون کون بھاگے گا یہ ایک بڑا دلچسپ پروگرام تھا اور ایسے ایسے اصحاب کے متعلق تجزیے کیے جا رہے تھے کہ سن کر سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیا ہمارے سیاسی راہبروں کو نظر نہیں آتا؟ کیا ہمارے سیاسی قائدین سمجھنے سننے اور دیکھنے کی حِس نہیں رکھتے؟ دھوکہ اور فراڈ تو نصیبوں میں لکھا جان کر قبول کیا جا سکتا ہے مگر کیا ہمارے سیاسی مدبروں نے یہ حدیث نبوی نہیں سنی کہ’’مومن کبھی ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جا سکتا‘‘پھر کیا وجہ ہے کہ ہر بار یہ سیاسی وفاداریاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں؟ کیا ’’کمٹمنٹ‘‘اسی کا نام ہے کہ آج آپ ایک قائد کے نعرے لگا رہے ہو، جان نچھاور کرنے کا عزم دہرا رہے ہو مگر وقت بدلتے ہی پھرکسی دوسرے کے زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے ہو۔چند روز پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا مجھے پتہ چلا کہ وہ پارٹی چھوڑ گئے ہیں اور ایک دوسری پارٹی تحریک انصاف جوائن کر لی ہے۔ ہمارے اس دوست کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹونے 2002ء کے الیکشن میں ڈسکہ سے جبکہ 2008ء کے الیکشن میں سمبڑیال سے قومی اسمبلی کی ٹکٹ سے نوازا۔ موصوف کی کوالیفکیشن صرف یہ تھی کہ ایک جرنیل کے بھائی تھے اور چند سال قبل کرنل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جبکہ سیاسی خدمات ’’زیرو‘‘ تھیں۔ میں نے پوچھا کرنل صاحب کیا بات ہے آپ نے پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کر لی؟ جب کہ آپ کو پارٹی نے بڑی عزت دی اور نوازا۔ آپ کو دو مختلف حلقوں سے دو دفعہ قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا حالانکہ آپ اہل بھی نہیں تھے، بے شمار کارکنان اور ان لوگوں کو جنہوں نے کوڑے کھائے،قیدیں کاٹیں وہ بس احتجاج کرتے رہ گئے، ناراض ہو گئے مگر پھر مان گئے کیونکہ وہ اصلی جیالے تھے ۔ میرے سوال پر میرے معزز دوست سٹپٹائے نہیں، حیران نہیں ہوئے، پریشان نہیں ہوئے، کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی۔ کہنے لگے وڑائچ صاحب میرے اندر آج بھی بھٹو زندہ ہے میں آج بھی بھٹو کا’’فالور‘‘ ہوں میں بھٹو کے نظریات کا قائل ہوں ۔میں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی ساری خوبیاں عمران خان صاحب میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ میرا دل تو آج بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے مگر میں انقلاب عمران خان کے ساتھ مل کر لا سکتا ہوں۔میں کرنل صاحب کی باتیں سن کر حیران ہوا، پریشان ہوا کہ یہ کیسا پیار ہے، یہ کیسی وفا ہے کہ انسان بیک وقت دو مختلف الخیال ،مختلف نظریات رکھنے والوں سے بیک وقت محبت کرتا ہو۔ دراصل آج مسلم لیگ ن او رپیپلزپارٹی کو چھوڑ کر جانے والوں کی بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو کبھی ایک گھر کے ہوئے ہی نہیں، جنہوں نے بادل کا رنگ دیکھ کر طبیعت بدل گئی کے مصداق ہمیشہ اقتدار کی سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ اور ابھی کچھ خودساختہ ہیوی ویٹ کسی اشارے کے منتظر ہیں جیسے ہی انہیں گرین سگنل ملے گا وہ تمام دیواریں ،تمام حدود پھلانگ کر اسٹبیلشمنٹ کی جھولی میں جا گریں گے۔ شنید ہے کہ ہفتہ رواں میں قصور سے دو سابق وزرائے خارجہ جن میں ایک کا تعلق مسلم لیگ جبکہ دوسرے صاحب کا تعلق ابھی گذشتہ الیکشن میں پیپلزپارٹی سے بنا ہے، تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ اس سے پہلے ایک سابق وزیر خارجہ اڑان بھر چکے ہیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا آدھ درجن وزراء خارجہ اور درجن بھر سابق وزرائے اعظم ایک پارٹی میں اکٹھے ہو گئے تو پھر تحریک انصاف کو کسی اپوزیشن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ویسے بھی جن راہوں پر تحریک انصاف کی ایڈمنسٹریشن چل پڑی ہے اسے شاید دشمنوں کی ضرورت نہیں رہی۔ گذشتہ روز ایک سینئر کالم نگار ٹی وی چینل پر بتا رہے تھے کہ انہیں تحریک کے کارکنان کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور لگتا ہے کہ یہ یوتھ جس پر تحریک انصاف کو بہت مان ہے اس کے نقصان کا باعث نہ بن جائے۔ میری تحریک انصاف کے قائدین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہجوم کو منظم کریں، اپنے ڈسپلن میں لائیں، تحریک کے قائدین مت بھولیں کہ جلسے تو علامہ عطا اللہ شاہ بخاری کے بھی لاکھوں کے ہوتے تھے مگر انہیں ووٹ چند ہزار بھی نہیں پڑتے تھے۔اور پھر تمام سیاسی جماعتیں ضابطہ اخلاق بنائیں، جس طرح میثاق جمہوریت میں بھی ذکر تھا آج مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں آنے والا کوئی مداری جب تحریک انصاف میں شامل ہوتا ہے تو کیا یہ شادیانے بجانے کا موقع ہے؟ نہیںیہ لمحہ فکریہ ہے ،کارکنان کے لیے انقلابی سوچوں کے لیے کہ ایسے لوگ سیاسی نہیں، معاشی نظریہ کے پرستا رہوتے ہیں۔ یہ لوگ اقتدار کے تالاب سے باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ گذشتہ روز لاڑکانہ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے کیا خوب کہا کہ کل راولپنڈی کی سڑکوں پر بے نظیر بھٹو کو تڑپتا چھوڑ کر اس کی ریزرو بلٹ پروف گاڑی لے کر بھاگ جانے والے جن کو یہ بھی احساس نہ ہوا کہ حادثے کے بعد بے نظیر کو ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی نہیں مل رہی تھی پھر موقع پر موجود لوگوں نے ایک ٹوٹی پھوٹی گاڑی میں شہید بے نظیر کو ہسپتال پہنچایا جبکہ آج وزیر اور مشیر بنے بیٹھے یہ لوگ لاشیں اور زخمی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔میری میاں نوازشریف صاحب سے گزارش ہے کہ آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اگر شریک چیئرپرسن صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے گرد ایسے حواریوں کا حصار بنا رکھا ہے جو ان کی شریک حیات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو سڑکوں پر تڑپتا چھوڑ آئے تھے وہ خدانخواستہ مشکل وقت آنے پر آصف علی زرداری کو بھی اسی تیزی سے چھوڑ کر بھاگیں گے یہ سیاسی خوشامد ین ہی صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے گلے میں ’’پھندا‘‘ باندھ رہے ہوں گے۔ مجھے ایک درینہ سیاسی طالب علم ہونے کی وجہ سے یہ قوی یقین ہے کہ آج صدر مملکت آصف علی زرداری کے اطراف حصار بنائے لوگ تین حصوںمیں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا حصہ بوقت ضرورت یا تو پارٹی چھوڑ کر کوئی دوسری پارٹی جوائن کر لے گا۔دوسرا حصہ جوکہ ابن الوقت ہے ملک سے بھاگ جائیں گے اور ایک تیسرا طبقہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر خود کو دلدل سے نکالنے میں کامیاب ہو جائے گااور کسی نئے سیٹ اپ میں وزارتوں کے مزے لوٹ رہا ہوگا۔ اس کا ایک ہلکا سا ٹریلر گذشتہ ہفتے اس وقت دیکھنے کو ملا جب صدر مملکت بغرض علاج دوبئی پہنچے تو ان کے اپنے ہی ساتھی شور مچانے لگے اور غلط فہمیوں کو ہوا دینے لگے کہ بھاگ گیا بھاگ گیا۔ کیا وطن عزیز کے سیاسی راہبروں اور قائدین کو مردم شناسی کے فن پر عبور حاصل نہیں ؟ یا پھر یہ ایک ملی بھگت ہے جو بادشاہ گروں کا مقبول کھیل رہا ہے۔ کہیں ’’باریوں‘‘ کی داستانیں، کہیں اسٹبلشمنٹ کی چالیں، کہیں وفاداریوں کی قیمتیں، کیا یہ سب عوام کے ساتھ مذاق نہیں تو پھر اس کا فوری تدارک ضروری ہے۔ کیا سیاسی جماعتوں کو بگلے جیسے اڑ جانے والے دوست چاہیں یا پھر کنول کے پھول کی طرح ساتھ جینے مرنے کا عہد نبھانے والے وفاداردوست یاکہ پھریہ سیاسی بیربل اور ملا دو پیازے ہماری سیاست کا لازمی جزو بن چکے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus