×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قوم جاننا چاہتی ہے کیا مُک مُکا ہو چکا ہے؟
Dated: 31-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اخبارات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں اور پاکستان کے ہر ذی ہوش شخص کی زبان پر آج کل ایک ہی سوال کیوںہے؟ اندرون ملک یا بیرون ملک سے دوست احباب کی ٹیلی فون کالز کا تانتا بندھا رہتا ہے اول و آخر سوال بس یہی ہے ’’کیا مُک مُکا ہو گیا ہے؟‘‘ ایک دوست نے امریکہ سے فون پر پوچھا کہ مطلوب بھائی کیا حکمران طبقے نے ایک دفعہ پھر آپس میں شرائط طے کر کے کوئی ڈیل کر لی ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ، تو موصوف بھڑک اٹھے کہ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ بھی ان حکمرانوں کے ساتھ ملے ہو۔ آپ کے کالموںمیں حکمرانوں پر تنقید ہمیں تو یہ بھی ’’نوراکشتی لگتی ہے؟‘‘ جس طرح مسلم لیگ ن پچھلے چار سالوں سے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے جس طرح گورنمنٹ کی سبھی اتحادی جماعتیں مطالبات منوانے کے لیے کچھ دنوں کے لیے اور کئی تو چند گھنٹوں کے لیے ناراض ہونے کا بہانہ بنا کر بچاری معصوم حکمران جماعت کو بلیک میل کرتے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ چار سالوں میں ہماری اپوزیشن نے بھی عوامی توقعات کا احساس نہ کرتے ہوئے ’’باری‘‘ کی سیاست کو تقویت دی ہے یہ بات اب کوئی خبر نہیں ہے کہ مرکز میں حکمرانوں کو جب بھی آخری دھچکے کا وقت قریب پہنچا توپنجاب کے حکمران اسی وقت پتہ نہیں کونسے ’’باس‘‘ سے چھٹی لے کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور اوپر سے ہمارے سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ کے سبھی فن کار کسی نہ کسی ملک کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کو اپنی ذاتی پہچان اور ’’لوگو‘‘ سمجھتے ہیں، ہمارے سیاست دانوں کا ایک مخصوص طبقہ عوامی جذبات سے کھیلتے ہوئے جدہ کا رخ کرتا ہے اور کوئی اپنا پلڑا ایران کی جھولی میں گراتا ہے اور کچھ کے اشارے چین سے ملتے اور کچھ دوستوں کی کنڈی انگلینڈ سے جا ملتی ہے مگر کچھ بھی ہو اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ ان سب قوتوں کا ہیڈ آفس امریکہ ہے اور ادھر سے ہی ساری تاریں ہلتی ہے۔ آج کل پھر جلسوں جلوسوں ،ریلیوں ،دھرنوں کا موسم ہے ۔ ہر روز کہیں نہ کہیں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن ،متحدہ مجلس عمل اور دوسری طرف دفاع پاکستان نے بھی لاہور، راولپنڈی، ملتان میں بہت بڑے جلسے کیے ہیں جس کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کوارڈینٹ کر رہے ہیں جن کو ’’میڈیا لور‘‘ شیخ رشید صاحب اور دائیں بازو کے اعجاز الحق اور سینیٹرسمیع الحق اور جماعت اسلامی سمیت مختلف مذہبی و نیم سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ 27دسمبر کو بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پھر امنڈ آنے والے عوامی سیلاب کو اپنی کامیابی قرار دے کر پیپلز پارٹی کی قیادت حقائق سے پہلوتہی بھرت رہی ہے دراصل محترمہ شہید صرف پی پی پی کی لیڈر نہ تھیں وہ دُخترِ مشرق تھیں اور ملک بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ان کی شہادت کو پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان سمجھتی ہیں۔ میں نے گڑھی خدا بخش میں ہر طبقہ ہائے فکر اور مذہب ، رنگ ونسل کے لوگ دیکھے جنہیں پیپلزپارٹی کا اکٹھ کہنا یقینا مناسب نہیں ہے۔ اس سے پہلے پیپلزپارٹی نے گوجرانوالہ میں جلسہ کا اعلان کیا تھا مگر عین وقت پر جلسہ ملتوی کر دیا تھا کہ کہیں لوگوں کی مطلوبہ تعداد اکٹھی نہ کر پائے تو کیا ہوگا؟ یقینا اسی خوف کا شاخسانہ ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی اور موجودہ حالات میں ایسا ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔ وزیراعظم اور ان کی فیملی کے آئے روز سکینڈلز نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور پیپلزپارٹی کی رہی سہی عزت خاک میں ملا دی ہے ۔ عوام پوچھتے ہیں ہم نے اپنی عظیم لیڈر کی قربانی اس لیے دی تھی کہ پانچ سال جیل گزار کر آنے والے وزیراعظم اور ان کے خاندان اور رفقاء کو انعام دیا یا نوازا جا سکے؟ عوام عدالتوں سے بھی نالاں ہیں کہ جبکہ اعلیٰ عدالتوں میں لاکھوں کیس التوا کا شکار ہیں تو پھر سوموٹو کا ’’تیرہوا ‘‘میں بے مقصد چلانے کے مترادف ہے۔ عدالتیں کسی بھی ایشوز پر سو موٹوایکشن لے کر چند ہفتوں تک پورے بیس کروڑ عوام کو ذہنی اذیت کی کیفیت میں مبتلا کرکے آخر میں یا فیصلہ محفوظ کر لیتی ہیں یا پھر غیر مبہم سے الفاظ میں فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ سانحہ ایبٹ آباد ،میموگیٹ سکینڈل ،این آر او اور خرم رسول کیسوں کا فیصلہ بھی کبھی سامنے آ سکے گا؟ اور کیا چیف آف دی آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بیانات کھوکھلے نعرے تھے؟ کیا وزیراعظم کا فوج کے ادارے سمیت عدلیہ تک کو آنکھیں دکھانا بس ایک لکھا لکھایا سکرپٹ تھا؟ کیا یہ سب ڈرامہ اس لیے رچایا گیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ایک مخصوص ٹولے کو دوبارہ اپنی چھتری تلے جمع کر سکے؟ کیا عمران خان صباحب کو بھی اس کھیل میں استعمال کیاگیا ہے؟ کہیں ڈینگی مچھروں کے خلاف ناکامی ،کبھی جعلی ادویات پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر وفاق پنجاب کو الزام دیتا ہے اور کہیں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ پر پنجاب وفاق کو موردالزام ٹھہراتا ہے اور غریب عوام کنفیوز ہیں کہ اس سارے ’’بلی چوہے‘‘ کے کھیل میں رگڑا توآخر عوام کو لگتا ہے۔ کرپشن کے الزامات چاروں اطراف سے اس ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں پر لگتے ہیں مگر آج تک پکڑا کوئی نہیں گیا؟بااثر مجرم باعزت بری ہو جاتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ کہیں ایسے تو نہیں کہ اس ملک کی دشمن قوتیں نہیں چاہتی کہ وطن عزیز پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکے؟ کیا یہ بھارتی و اسرائیل لابی کی سازشیں ہیں کہ ہمیں آپس میں دست و گریبان کرکے ہماری ملکی سلامتی سے کھیلا جائے؟ ہر بُرے کام کا سہرا امریکہ کے ماتھے پر ٹانگ دینا ہمارا شیوہ بن چکا ہے مگر اپنے گھروں کے اندر چھپے غداروں کے چہروں سے نقاب کشائی بھی ہمارا فرض نہیں؟پچھلے چار سالوں میں ایک بھی روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو پائی جس کا ثبوت یہ ہے کہ ڈالر 63روپے سے 93روپے کا ہو گیا ہے۔ میرا قوی یقین ہے کہ ایک امریکن جتنا اپنے ملک سے پیار کرتا ہے اگر ایک پاکستانی بھی اپنے ملک سے اتنا ہی پیار کرے تو پھر ڈالر اور روپے میں کوئی فرق نہ رہ جائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے ہی لوگوں اور ان کی عزتوں کے تماشے سرعام لگا کر خوش ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے بقول شاعر: بربادی کا مرے کیا پوچھتے ہو دوست تھوڑی سی خاک ہوا میں اڑا کر دیکھ آج اداروں ،عدلیہ اور آئین کا احترام اس ملک میں ناپید ہے حتیٰ کہ ان اداروں کے اپنے ہی لوگ شاید ان سے مخلص نہیں ہیں پوری قوم کو انتظار کی سولی پر لٹکا کر یہ سمجھنا کہ ملک کا آئین، ملک کی عدلیہ، ملک کے ادارے مضبوط اور مفاہمت کی سیاست کو مربوط کیا جا رہا ہے کیا دیوانے کی بڑھ نہیں تو کیا ہے؟ کیا قوم کو ایک صلاح الدین ایوبی کی تلاش ہے یا پھر کمال اتا ترک کی یا پھر خمینی انقلاب کی؟ کچھ بھی ہے قوم اب انتظار کی سولی سے نجات چاہتی ہے ۔زرداری صاحب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس ٹیم کو اپنا حصار اپنا مضبوط قلعہ سمجھ بیٹھے ہیں جو دراصل ایام زوال میں ان کے اور پارٹی کے خلاف ہراول دستے کے طور پر اپنی خدمات بطور وعدہ معاف گواہ نئی آنے والی حکومت کو پیش کرے گی۔ موجودہ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگائے بغیر بھی سوچا جائے تو اس وقت موجودہ اندرونی انتشار میں قوم ذہنی ، سیاسی،سماجی اور فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور ایسے میں ہمارا ملکی و قومی تشخص نہ صرف مجروع ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی عالمی محاذوں پر کیا سازشیں ہو رہی ہیں ہمیں ان کا کوئی رتی بھر بھی ادراک نہیں،دنیا بھر کے انٹیلی جنس اداروں نے سرزمین پاک وطن کو تختہ مشق بنا رکھا ہے جس کا کہ ایک اعتراف ناروے کی خاتون وزیر خارجہ کا بیان گواہ ہے جبکہ اپنے انٹیلی جنس ادارے جو حکومت کے زیر اثر ہیں وزیراعظم اور صدر کی سکیورٹی تک محدود ہیں اور پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کا ہم نے ’’ناک میں دم‘‘ کر دیا ہوا ہے تاکہ آئی ایس آئی کو ہمارے حکمران اپنے غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے ہاتھوں سے تباہ کر سکیں۔ان حالات میں عوام کا یہ سوچنا کہ کہیں مُک مُکا تو نہیں ہو گیا قرین قیاس لگتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus