×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سوئٹزرلینڈ،آئین پاکستان اورتاریخی تناظر میں استثنیٰ کی حیثیت
Dated: 04-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 19جنوری 2012ء کو عدالتِ عظمیٰ کے سامنے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ آئین کے آڑٹیکل 248کے تحت صدر پاکستان کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا۔ وزیراعظم کے اس موقف نے توہین عدالت کو استثنیٰ کا کیس بھی بنا دیا۔ مشرف دور میں اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ تاہم 19جنوری کو اعتزاز احسن اپنے اس دور کے برعکس موقف اپنا رہے تھے۔ اب وہ کہہ رہے تھے کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور وہ اگلی پیشی یعنی یکم فروری کو ججوں کو استثنیٰ کے حوالے سے مطمئن کر دیں گے۔ یکم فروری کو وزیراعظم کے وکیل ایک مرتبہ پھر قلابازی کھا رہے تھے۔ اب انہوں نے استثنیٰ کو ثانوی حیثیت قرار دے دیا۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے۔ قرارداد مقاصد 73کے آئین کا حصہ ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل ہے۔ نبی کریمؐ سے چوری میں ملوث ایک خاتون کی سفارش کی گئی تو تاجدار دوعالمؐ نے فرمایا اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو انہیں بھی وہی سزا ملتی جو ایک چور کے لیے مقرر ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ ایک جنگ کے بعد مالِ غنیمت کے حصہ سے ملنے والے کپڑے سے حضرت عمرؓ نے قمیض سلوائی تو بھرے مجمعے میں ایک صحابی نے پوچھا کہ ہمارے حصے میں آنے والے کپڑے سے تو قمیض نہیں بن سکتی تھی آپ نے کیسے بنا لی۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے تو استثنیٰ کا کلیم نہیں کیا تھا۔ایک اور موقع پر عمر خطابؓ امیر المومنین تھے عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو قاضی اور قضا اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔ حضرت عمرؓ جب واپس گھر آئے تو قاضی کو بلوا بھیجا کہ میرے عدالت میں آنے پر تم کھڑے کیوں ہوئے تھے قاضی نے جواب دیا کہ حضورآپ کے احترام میں ۔جس پرحضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اس طرح تو کیس اورمدعی پر منفی اثر پڑا ہے لہٰذا انہوںنے قاضی کو فارغ کر دیا۔استثنیٰ کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے آئین سے قراردادمقاصد کے اس آرٹیکل کو نکلوائے بغیر صدر کو استثنیٰ نہیں دلوا سکتے۔ اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمایئے۔ استثنیٰ کو ’’ ہّوا ‘‘کیوں بنا دیا گیا ہے؟اگر صدر کو استثنیٰ حاصل نہ بھی تو کیا قیامت آ جائے گی؟ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ آج استثنیٰ کا واویلا صدر آصف علی زرداری کے سوئٹزرلینڈ میں ان مقدمات کو کھولنے کے لیے خط لکھنے کے خلاف کیا جا رہا ہے جو این آر او کے بعد بند کر دیئے گئے تھے۔ خط لکھنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ میں تین عشرے سوئٹزر لینڈ میں رہا ہوں۔ میں محض تجربے نہیں اپنے علم اور اطلاعات کے مطابق یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں قائم مقدمات میں کچھ بھی نہیں ہے۔ دراصل بھٹو خاندان اور زرداری صاحب کے وکلاء اپنی فیسیں بٹورنے اور پاکستان میں صدر کے وکلاء اپنی مراعات برقرار رکھنے اور مزید مراعات کے حصول کی خاطر ان کو مقدمات سے خوفزدہ کرتے رہتے ہیں۔ عموماً وکیلوں کا سائل سے ایسا ہی رویہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے مریض اور وکیل اپنے سائل کو ڈرائے گا نہیں تو کیا خاک بزنس کرے گا؟مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے سوئٹزرلینڈ میں اپنے مقدمات کا نگران مقرر کیا تھا۔ محترمہ کو بھی ان کے وکلاء ڈراتے رہتے تھے۔ میں نے بارہا محترمہ سے کہا ان مقدمات میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس پر محترمہ کہتی تھیں کہ مطلوب! مقدمات آپ پر ہیں یا مجھ پر؟ وکلاء کی طرف سے خوف دلانے کے سبب ہی محترمہ نے ان مقدمات پر ملین ڈالر خرچ کر ڈالے۔ یہ اسی ڈر اور خوف کا سبب ہے کہ محترمہ کے تینوں وکلاء بابراعوان، سردار لطیف خان کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک نہ صرف سینیٹرز منتخب ہوئے بلکہ کھوسہ صاحب اٹارنی جنرل بنے اور پھر گورنر پنجاب لگا دیئے گئے۔ بابراعوان وزیر قانون اور پیپلزپارٹی کے مرکزی نائب صدر بنائے گئے۔ بی بی اور آصف علی زرداری کے تیسرے وکیل فاروق ایچ نائیک آج چیئرمین سینٹ ہیں جو صدر کی غیرموجودگی میں سرپر صدارت کا تاج بھی سجا لیتے ہیں۔ آج محترمہ کی شہادت کے بعد یہی وکلاء صدر کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہیں اور انہوں نے ان کے لیے خط لکھنے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ بے نظیر بھٹوشہید اور آصف علی زرداری کے سوئٹزرلینڈ میں مقدمات کی سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک بھی وہاں مسلسل جاتے اور میرے ہاں ٹھہرتے رہے ۔ ایک مرتبہ آج کے وزیر صحت اور بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور کے وزیر خزانہ مخدوم شہاب الدین بھی سوئس کیس میں گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل پاکستان کو ہو یا سوئٹزرلینڈ کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔ سوئس عدالت میں پیش ہونے والا محترمہ کا وکیل بھی محترمہ کو کیس سے خوفزدہ کرتا اور فیس بٹورتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ محترمہ نے مجھے کسی سوئس جیورسٹ سے ان کیسوں میں ابزرویشن لینے کے لیے کہا تو میں نے معروف جیورسٹ Mr. Remy Buttzکو فاروق ایچ نائیک صاحب سے ملوا دیا جس نے اس کیس کی پوری سٹڈی کی اور فاروق ایچ نائیک سے کہا، لگتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹوکے وکلاء ان کا ’’ماس‘‘ تک نوچ لینا چاہتے ہیں۔ کیسز جن کا میں نے مطالعہ کیا ہے ان میں کچھ بھی نہیں ہے۔ محترمہ کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے وہ عالمی شخصیت ہیں ان کو احترام دیا جائے گا۔ Remy Buttzکے مشورے پر ہی محترمہ سوئس عدالت میں پیش ہوئیں یہاں ان کو مکمل پروٹوکول دیا گیا۔ مخدوم شہاب الدین بھی پیش ہونے سے ڈرتے تھے محترمہ نے ان کو پریشرائز کرکے پیش ہونے پر مجبور کیا۔ بے چارہ ’’مخدوم‘‘ پیش تو ہو گیا مگر اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میری یہ بالکل سوچی سمجھی اور کرسٹل کلیئر رائے ہے کہ آصف علی زرداری صدر پاکستان ہیں وہ بھی آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرح عالمی شخصیت ہیں ان کی حکومت کو بلاجھجک سوئس حکام کو خط لکھ دینا چاہیے۔ پاکستان میں تو ان کو استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے تاہم سوئٹزرلینڈ میں ان کو یورپین قوانین کے مطابق سوفیصد استثنیٰ مل جائے گا۔ صدر مملکت اپنے وکلاء کے ڈراوے میں نہ آئیں پہلی فرصت میں سوئس حکام کو خط لکھ دیں جس سے ان کے وزیراعظم کا بھی سانس میں سانس آئے گا جن پر عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی ہے اور وزیراعظم کے مستقبل کا انحصار اسی کیس پر منحصر ہے۔ ویسے تو زرداری صاحب کے پاس وزارتِ عظمی کے امیدواروں کی کمی نہیں جن میں ایک چودھری اعتزاز احسن بھی ہیں۔ وہ اگر گیلانی صاحب کا راستہ صاف کریں گے تو خود کیسے وزیراعظم بنیں گے؟اس ایک نکتے کو ذہن میں رکھیں تو استثنیٰ کا موقف اختیار کرکے اس سے پسپائی اور بددلی سے کیس میں دیئے جانے والے دلائل سے سب کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ جس طرح اعتزاز احسن صدر اور وزیراعظم کو عدالت میں گھیر کر لے آئیں ہیں یہ ان کی ہی کمال ہے۔ویسے بھی 100روپے (فیس وہ جو اعتزاز نے وزیراعظم سے وصول کی) میںایک کلوگنڈیریاں اور امردو نہیں ملتے وزارتِ عظمیٰ کی قیمت تو کھربوں روپے ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus