×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تقسیم پنجاب کی گھنائونی سازش
Dated: 07-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پچھلے دنوں مجھے رحیم یار خان اور بہاولپور ڈویژن میں ایک دوست کے ہمراہ سابقہ بہاولپور سٹیٹ اور اضلاع دیکھنے کا موقع ملا۔ ملتان سمیت تقریباًسبھی شہروں میں انڈرپاسز،اوورہیڈ بیرجزکی بھرمار ہے،جگہ جگہ یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج قائم کر دیئے گئے ہیں۔ موجودہ وفاقی گورنمنٹ کے اربوں روپے کے منصوبے اور پنجاب گورنمنٹ کے بھی دانش سکولوں سمیت اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے زیرتکمیل ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں بھی اہم عہدے جنوبی پنجاب کے پاس ہیں ،مرکز میں وزیراعظم ،وزیرخارجہ اور گورنر پنجاب سمیت پنجاب کی کابینہ میں بھی 70%فیصد سے زیادہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی ہے۔ان علاقوں کی سڑکیں اورنہری نظام دیکھ کر پوچھنے کو دل چاہا کہ محرومی کہاںہے؟ یہ الگ بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے پسے ہوئے عوام جو صدیوں سے مخدوموں، نوابوں، سرداروں، لغاریوں،مزاریوں اور پیروں کے چُنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تختے لاہور کا طعنہ دینے والے سارے سیاسی مداریوں کے تقریباً محلات نما مکانات لاہور شہر کے پوش ایریاز میں پائے جاتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ بڑی بڑی دیوہیگل گاڑیاں اور ایکڑوں پر مشتمل محلات انہی مخدوموں ،مزاریوں اور لغاریوں کی اولادوں کے ہیں۔ اصل لاہوریئے تو اندرون شہرلاہور میں بند اور تاریک گلیوں میں رہنے کے عادی ہیں جب کہ جنوبی پنجاب سے آنے والے امراء نے گلبرک ،لبرٹی ،سمن آباد،ڈیفنس، مسلم ٹائون اور جوہر ٹائون کے علاقے آباد کر رکھے ہیں۔مجھے قوی یقین ہے کہ اگر لسانی بنیادوں پر یا تنظیمی بنیاد پر پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو یہ نواب زادے اور سردارزادے پھر بھی لاہور کو ہی اپنا مسکن بنائے رکھیں گے۔ یہ عجیب طرفہ تماشا ہے کہ اندرون پاکستان ہی نہیں بیرون پاکستان بھی پنجاب کو وِلن کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ پنجاب کے محنتی کسانوں نے جنوبی پنجاب سمیت سندھ، بلوچستان کی بنجر زمینوں کی اپنے خون سے آبیاری کرکے ان کو آباد کیا مگر آج اس کا صِلہ ہمیں یہ ملا ہے کہ پنجابیوں کی بوری بند لاشیں کراچی اور اندرون سندھ سمیت بلوچستان سے ہمیں ارسال کی جا رہی ہیں۔ پچھلے دنوں میرے گائوں میترانوالی کے ایک محنتی حجام کی جو پچھلے 35سال سے تربت بلوچستان میں محنت سے روزی کما رہا تھاکی لاش جب گائوں پہنچی تو آنکھ اشک بار تھی اور ہر آنکھ میں یہ سوال بھی پنہاں تھا کیا پاکستان میں پنجاب کا حصہ صرف گالیاں کھانے اور لاشیں وصول کرنے کی حد تک ہے؟ گذشتہ روز جب مجھے برین ہیمبرج کے بعد کچھ افاقہ ہوا تو مجھے اپنے حلقے این اے 113ڈسکہ کے درجنوں چھوٹے بڑے دیہات اور قصبات میں جانے کا موقع ملا یہ حلقہ اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے سیالکوٹ کا دل کہلاتا ہے۔ یاد رہے سیالکوٹ کراچی اور لاہور کے بعد سب سے زیادہ زرمبادلہ لانے والا تیسرا بڑا شہر ہے جس کے غیور اور باہمت لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف ایئرپورٹ خود تعمیر کیا ہے بلکہ آج شہر کے جو موجودہ خدوخال نظر آتے ہیں یہ سب اہلیان سیالکوٹ کی ذاتی کاوشوں کا ثمر ہے۔ مگر سیالکوٹ کے علاوہ باقی تینوں تحصیلوں سبڑیال، پسرور اور ڈسکہ کی سینکڑوں کلومیٹر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،سکولوں کی چھتیں گری ہوئی ،ہسپتالوں کا جنگل زدہ ماحول ،کہیں بھی ایک ترقی پذیر پاکستان جو عالمی نیوکلیئر طاقت ہے کا نقشہ نہیں پیش کر رہا بلکہ سوڈان ، صومالیہ ،سینگا ل اور ایتھوپیا جیسے براعظم افریقہ کے سفاری دیہات کانقشہ پیش کر رہا ہے۔ سکولوں میں ٹیچرز نہیں فرنیچر نہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹر زاور ادویات نہیں اور پڑھ لکھے معصوم نوجوانوں کو ورغلانے اور سہانے سپنوں کا خواب دیکھا کر لوٹنے والے کئی ڈبل شاہ اور انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کا راج ہے۔ ہر روز اٹلی، یونان اور ترکی کے سمندر میں غرق ہونے والوں کی درجنوں لاشیں ان کے بوڑھے والدین وصول کرتے ہیں۔ سینکڑوں مائیں اپنے زندہ یا مردہ بیٹوں کی واپسی کی آس لگائے آنکھوں میں امید کے دیپ جلائے اندھی ہو جاتی ہیں مگر انہیں ان کے سہانے مستقبل کے لیے پیچھے چھوڑ جانے والا بیٹا واپس نہیں آتا۔انسانی اسمگلروں کے کئی منظم گروہ اس علاقے میں کام کر رہے ہیں۔چادر اور چاردیواری کی پامالی اور لاقانونیت انتہا کے درجے پر ہے مگر علاقے کے ایم این ایز ،ایم پی ایز اور سیاسی بازی گروں کو بھلا کب پروا ہے ان کو توپارٹیاں بدلنے اور نوٹ کمانے سے فرصت نہیں۔ کسی بھی دیہات سے شہر تک کا 30کلومیٹر کا سفر دیومالائی لگتا ہے صبح چلیں تو شام ہو جاتی ہے اور پھر کھٹارہ ویگنوں میں کمر اور پسلیاں الگ ٹوٹ جاتی ہیں ۔ درجنوں واقعات ہو چکے ہیں اورکئی بارپچیس تیس مسافروں سے لدی ویگنیں ہیڈ بمبانوالہ کے اطراف میں نہر میں جا گریں اور کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ مگر ارباب اختیار کو توفیق تک نہ ہوئی کہ نہروں کے کنارے پکے کروائے یا مضبوط کروا دیئے جائیں جبکہ جلوموڑ سے ٹھوکر نیاز بیگ تک چند کلومیٹر نہر کے اطراف اربوں روپے کے جنگلے لگائے جا چکے ہیں(یاد رہے یہ وہی بی آر بی بیدیاں راوی لنک نہر ہے جو ہیڈ بمبانوالہ سے ہی شروع ہوتی ہے مگر صرف ڈسکہ تک کے 7کلومیٹر کے فاصلے میں اب تک سینکڑوں مسافروں کی جانیں لے چکی ہے وہاں سٹیل کا جنگلہ تو درکنار کنارا ہی نہیں)سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور نارووال کے اضلاح میں موت ٹریفک حادثات کی صورت سڑکوں پر ناچ رہی ہے ہر روز درجنوں گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے کسی کا دھیان اس سوشل ایشوز کی طرف نہیں جاتا ؟ ایک آمر جنرل ایوب خان نے پنجاب کے پانچ دریائوں میں سے تین بھارت کے ہاتھ فروخت کر دیئے اور پنجاب بنجر اور خشک بنا دیا۔ اب تک پاکستان میں جتنے بھی آمر آئے کسی ایک کا تعلق بھی پنجاب سے نہیں پھر بھی گالی پنجاب کو کیوں؟ آج اگر سابقہ ریاست بہاولپور کو صوبے کا درجہ دیا گیا تو پھر آخری مغل تارجدار ہندمحمد شاہ رنگیلے کی اولاد بھی کہیں سے آ دھمکے گی کہ ہمیں بھی تقسیم میں حصہ دو۔تقسیم پنجاب کا واویلا کرنے والا ایک دوسرا نام محمد علی درانی موصوف نہ سرائیکی ہیں نہ پنجابی بلکہ پٹھان ہیں مگر ’’مروڑ‘‘ انہیں سرائیکی صوبے کے اٹھ رہے ہیں؟ وفاق اور تخت لاہور کی جنگ میں پِس رہا ہے تو صرف سنٹرل پنجاب ۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پیپلزپارٹی ہو یا پڑھا لکھا پنجاب کے نام پر 60ہزار گھوسٹ سکولوں کا کاروبار کرنے والی ق لیگ یا خدمت پنجاب کا نعرہ لگانے والی ن لیگ سبھی تو اپنی اپنی سرکس لگا کر عوام کی محرومی ،بدحالی، بدامنی اور لاقانونیت کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ پنجاب کے 11کروڑعوام سوال کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں پنجابی، سرائیکی کے نام پر تقسیم مت کرو۔ پنجاب کے ازلی دشمنوں کی للچائی نظریں پنجاب پر سے ہٹتی نہیں۔ اگر تنظیمی بنیاد پر یا لسانی بنیاد پر تقسیم پنجاب کا معاملہ آیا تو پھر سندھ ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کو بھی کئی حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ کراچی میں اردو ،پشتواور پنجابی بولنے والوں کو بھی صوبے بنا کر دینے پڑیں گے ۔ سینٹرل پنجاب اورلاہور کے باسی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ڈینگی مچھروں کو دوسرے اضلاع میں جانے کے لیے کیا کسی ’’ویزہ‘‘ کی ضرورت تھی یا آئسوٹیپ جو کہ کراچی کی دوائی سازفیکٹری ہے مگر اس سے اموات صرف لاہور کے ہسپتالوں تک کیسے محدود رہی ؟ کیا باقی شہروں اور صوبوں کے لیے موت کو ویزہ چاہیے تھا؟یہ وہ تلخ اور کڑے سوالات ہیں جن کے جواب آج نہیں تو کل سب کو مل جائیں گے کیونکہ آج کے دور میں سچ کو زیادہ دیر تک چھپانا مشکل ہے۔ خود پیپلزپارٹی نے پنجاب کو تنہا چھوڑ دیاہے لاہور اور سنٹرل پنجاب کے ٹکٹ ہولڈرز اور متوقع امیدوار عوام سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں ان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ اوپر سے جنوبی پنجاب کا علیحدہ انچارج مقرر کرکے تقسیم پنجاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ پنجاب کے غیور اور باہمت عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات نے جنم لے رکھا ہے مگر اس کے اظہار کابہتر موقع صرف نئے جنرل الیکشن کے نتائج دیکھ کر لگایا جا سکے گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus