×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلزپارٹی کے شجرِ خزاں سیجھڑنے والے جیالے
Dated: 11-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پیپلزپارٹی اپنے قیام سے لے کر چوالیس بہاریں اور خزاں کے موسم دیکھ چکی ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس کی بنیادوں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید شاہ نواز بھٹو، شہیدمیر مرتضیٰ بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کاخون شامل ہے۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ کو بھی میں آدھا شہید ہی کہوں گا جنہوں نے لاہور اسٹیڈیم میںپولیس کی لاٹھیاں کھا کر باقی کی زندگی قومہ میں گزاری۔ آج ہمیں جہاں دیگر کئی سوالات کا سامنا کارکنان پارٹی کی طرف سے کرنا پڑتا ہے جن میں بنیادی سوال عموماً یہ کیاجاتا ہے کہ وہ کونسی وجہ تھی ،وہ کونسے ایسے حالات تھے کہ آج کارکنان پیپلزپارٹی بھٹوازم ، سوشلزم اور ’’لیفٹ‘‘ کے سبھی لوگ گروہ در گروہ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اور وہ پارٹی جس نے ڈکٹیٹرز جنرل ایوب خان کی آمریت کا سامنا کیا ،جنرل یحییٰ خان کو شکست دی ، جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنی پشتوں پر لاکھوں کوڑے کھائے،چیئرمین اورقائد ذوالفقار علی بھٹو سمیت درجنوں جیالے پھانسیوں پر جھول گئے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ درجنوں جیالے پروانوں کی طرح شمع جمہوریت پر خودسوزی کرکے قربان ہو گئے۔ تب اس ملک کے اندر مغل حکمرانوں اور رنجیت سنگھ دور کے بنائے سبھی قلعوں میں لاکھوں جیالوں کو ٹھونس دیا گیا، آج بھی سیاہ سردیوں کی راتوں میں ان قلعوں کی دیواروں کے قریب سے گزرتے ہوئے اذیت ناک انسانی چیخوں کی آوازیں سنائی دیتیں ہیں۔اس دور کے تشدد سہنے والے جیالے آج بھی اپنے آپ کو’’ قلعہ بند‘‘ بھائی کہلواتے ہیں۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرمین محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی تھیں تو بھی ہزاروں کارکنوں کو جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ یہی نہیں بلکہ 71ء اور 96ء کے مختصر عرصے کے درمیان پیپلزپارٹی 4دفعہ اقتدار میں آئی اوراسے ہر دفعہ کِک آئوٹ کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ اس دوران نام نہاد جمہوری حکومتوں نے اپنے اپنے حصے کا ستم پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر روا ںرکھا۔خود میں 80ء کی دہائی کی ابتداء اور 99ء میں دوسری بار جلاوطن ہوا جبکہ میرے بیوی بچے2010ء کے اوائل میں اپنے باپ کی جلاوطنی کی رسم کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے اور آج بھی جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر آج کارکنان کا یہی سوال ہمیں پریشان کرتا ہے کہ پھر وہ کیا وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی جسے سول و ملٹری آمر ختم کرنے کی خواہش دل میں لیے رخصت ہو گئے وہ پیپلزپارٹی اپنے ہی اقتدار کے گذشتہ چار سالوں میں قومی اور بین الاقوامی محاذ پر جس بُری طرح شکست و ریخت کا شکار ہوئی ہے، کرپشن کے غلیظ الزامات جو ہماری پہچان بنا دیئے گئے ہیں ، ڈاکو ،چور،لٹیرا اور فراڈیئے کے القاب ہمارے سروں پر سجا دیئے گئے ہیں ، بڑے ،بوڑھے ،نوجوان،خواتین حتیٰ کہ سکول جاتے بچے اکثر کسی غمی خوشی کی تقریب میں ہمیں یہ پوچھ کر سر سے پائوں تک شرمندگی کے پانی میں غرق کر دیتے ہیں کہ ’’انکل ‘‘ آپ لوگ کرپشن کیوں کرتے ہیں؟ ہمارے پاس ان معصوم اور تلخ کڑوے سوالات کا جواب بس خاموشی اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ ہماری اپنی نالائقیاں، اقرباپروریاں ،کرپشن، لوٹ کھسوٹ ،کینہ پروری اور اعمال کی وجہ سے آج ہمارے ہزاروں اپنے جیالے دوست کارکنان اور ساتھی خزاں کے زردپتوں کی طرح پیپلزپارٹی کے شجر سے جھڑتے جا رہے ہیں۔ کراچی سے لے کر پشاور تک سُچے موتیوں کی مانند ہمارے دوست اب پیپلزپارٹی کی تسبیح کے دانے نہیں رہے۔میرے دل میں ایک سوال کھٹکتا تھا کہ میں وہ وجہ تلاش کروں کہ جس کی وجہ سے آج ہمارے وہ جیالے دوست جو کہ بدترین آمریت میں بھی جن کا ایمان پیپلزپارٹی پر غیرمتزلزل تھا وہ آج اپنے ہی دور حکومت میں اپنے ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو ،شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھی نہیں رہے۔ میں نے لاہور شہر کے مضافاتی حلقہ کے رہنے والے ایک اس جیالے سے ملنے کا فیصلہ کیا جس نے گذشتہ روز پیپلزپارٹی چھوڑ کر ایک دوسری جماعت جوائن کر لی ہے میں اس شخص کو پچھلے دو عشروں سے جانتا ہوں۔ یہ شخص پیپلزپارٹی کے بانیوں میں سے تھااور بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹوشہید کے لیے ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر قربان ہونے کے لیے تیار رہتا تھا ۔ لاہور میں ہونے والی کوئی ریلی، جلسہ، جلوس ،سیمینار اور سیاسی تقریب اس وقت تک مکمل نہ ہوتی تھی جب تک ’’یعقوب کماہاں‘‘ اپنے ساتھی اور حلقے کے ووٹر ساتھ لے کر پہنچ نہیں جاتا تھا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہمیشہ اس شخص سے خدمات مستعار لیں۔ ٹکٹوں کے وعدے کیے مگر عین الیکشن کی آدھی کمپین کے بعد ٹکٹ کینسل کر دی جاتی تھی وہ شخص قیادت کے سامنے روتا، پیٹتا ،خودکشی اور خودسوزی کی دھمکیاں دیتا مگر پھر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی تھپکی اور دلاسے پر راضی ہو کر پارٹی کے کام میں مصروف ہو جاتا۔ مجھے یعقوب کماہاں نے بتایا وڑائچ صاحب! میرے ساتھ پارٹی نے زیادتیاں کیں ،ٹکٹیں ایوار ڈ کرکے کینسل کیں اور میری خدمات کے صلے میں مجھے ہمیشہ نظراندازکیا جاتا تھا مگر میں نے پارٹی کو چھوڑنے کا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ میں روٹھتا تھاتو مجھے پتہ ہوتا تھا کہ ابھی مجھے پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی منانے چلا آ جائے گا۔ابھی بے نظیر بھٹو میرے کندھے پر تھپکی دے کر مجھے دلاسہ دیں گی مگر وڑائچ صاحب! شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے ہمیں بالکل درخوراعتناء کر دیا ہمیں لاوارثوں اور یتیموں کی طرح شیر کی کچھار کے اندرپھینک دیا گیا۔ کبھی کبھی اسلام آباد سے مرکزی قیادت لاہور گورنر ہائوس آ کر خود کو مقید کر لیتی ہے اور ہمیں ملنے سے انکار کرکے اپنے دوستوں ،احباب اور حلقے کے باسیوں کے سامنے رسوا کر دیتے ہیں۔ وڑائچ صاحب! اب عمر کے اس حصے میں اس سے زیادہ رسوائی، تذلیل اور بے عزتی برداشت نہیں ہوتی اب تو ہم روٹھوں کو کوئی منانے والا بھی نہیں بچا۔میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنا سیاسی قائد اور اتالیق مانتا ہوں مگر میں پیپلزپارٹی کی موجودہ لیڈرشپ میں گھس آنے والے چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں کو اپنا لیڈر نہیں مان سکتا ۔ یعقوب کماہاں تو یہ باتیں کرکے اٹھ کر چلا گیا اور مجھ سمیت دیگر کارکنان پیپلزپارٹی اور جیالوں کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کر گیا ۔ میرا ذہن یہ سوچ رہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے اپنے دور حکومت میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی چھوڑ کر جانے والے جیالو!بس ذر ا حکومت کی مدت پوری کرنے یا حکومت چلی جانے کی دیر ہے جیالے تو خزاں کے زرد پتوں کی طرح جھڑتے چلے جائیں گے ہی مگر یہ چور، ڈاکو، لٹیرے اور ابن الوقت اقتدارز دہ لوگ بھی تو پیپلزپارٹی کا جہاز ڈوبنے سے پہلے ہی اسے چوہوں کی طرح چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور وہ پارٹی جسے غیروں کے ہاتھوں گزند نہ پہنچی اپنوں کے ہاتھوں برباد ہوگی؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus