×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان ہے تو سب کچھ ہے
Dated: 26-Oct-2008
جلاوطنی کی سلسلے میں لندن جاتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں میرا ایک دن کا قیام تھا۔ میں ایوانِ صدر کے سامنے فوٹوگرافی میں مصروف تھا کہ ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیوں کے سائرنوں نے وہاں موجود ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔پتہ چلا کہ ایک کبوتر گاڑی کی ونڈ سکرین سے ٹکرا گیا تھا تو یہ سب ہجوم اور انتظام کبوتر کی جان بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ چند لمحوں کے اندر کبوتر کو ایک چھوٹی سی تختی نما سٹریچر پر ڈال کر گاڑیاں وہاں سے ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئیں۔میرا تعلق چونکہ پاکستان سے تھا اس لیے میرے لیے یہ بڑی حیرانگی کی بات تھی جہاں عام آدمی کی جان تو کجا ملک کے بانی اور پہلے گورنر جنرل اور قوم کے قائداعظم محمد علی جناح کراچی کی سڑک پر ایک پنکچر شدہ ایمبولینس میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے اور بروقت امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے کراچی کی سڑک پر دم توڑ گئے۔ پہلے وزیراعظم قائدملت لیاقت علی خاں کو سٹیج پر گولی مار دی جاتی ہے اور ناقص طبی امداد ہونے کی وجہ سے وہ دم توڑ دیتے ہیں۔ جہاں اس ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیا جاتا ہے اور جس ملک میں اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم کو اسی لیاقت باغ کے جلسے سے نکلتے ہوئے بموں اور گولیوں سے شہید کر دیا جاتا ہے اور ان کی گاڑی پھٹے ہوئے ٹائروں کے ساتھ ہسپتال کی طرف دوڑتی ہے کوئی ایمبولینس موجود نہیں اور راستے میں جب وہ گاڑی جواب دے جاتی ہے تو بیچ سڑک پر قوم کی لیڈر،قوم کی بیٹی کو ایک دوسری گاڑی روک کر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔میں ایک پرندے کی جان بچانے کی کوشش دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ میں نے اس واقعہ کے بعد انگلینڈ جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور میں اس ملک میں 26سال رہا اور اس دوران میں نے زندگی کے ہر موڑ پر وہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں،پرندوں اور حیوانوں تک کے حقوق کا اہتمام دیکھا۔ ہمارے ہاں انسان مارے جا رہے ہیں،انسانیت سسک رہی ہے۔ مارنے والے کو معلوم نہیں کہ وہ انسانوں کو کیوں مار رہا ہے۔ مرنے والے کو پتہ نہیں کہ اسے کیوں اور کون مار رہا ہے۔ معاشرتی خرابیوں کی وجہ سے قتل و غارت اپنی جگہ، خودکش حملوں کے کلچر نے نئی تباہی کی بنیاد رکھی، نئی بربادی کو جنم دیا، خودکشی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ خودکش لفظ سے سب کچھ عیاں ہو جاتا ہے پھر یہ حملہ جس بھی نیت سے کیا جائے اس میں خودکش حملہ آور حرام کی موت ہی مرے گا۔ حتیٰ کہ فدائی حملہ بھی صرف جنگ میں استعمال ہونے والا ایک ہتھیار ہے اور یہ مملکت کی تیار کی ہوئی جنگی حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے۔جیسا کہ 65ء کی جنگ میں چونڈہ کے محاذ پر جب بھارت نے دنیا کا سب سے بڑا ٹینکوں کا حملہ کیا تو اس وقت ہمارے فوجی جوانوں نے مملکت کی ہدایت پر اپنے جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر دشمن کی اس ٹینکوں کی یلغار کو نیست و نابود کر دیا۔اس وقت بھی مملکت نے مدرسوں کے طالب علموں کو اس فریضے کے لیے نہیں بلایا۔ پاکستان میں خصوصی طور پر شمالی علاقہ جات میں آج کل بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اور افغانستان کی ایجنسی’’رام‘‘ سرگرم ہیں۔ ان کی مدد سے وہاں کاروائیاں ہو رہی ہیں کچھ لوگ پیسے کے لالچ میں ان کا ساتھ دیتے ہیں یہی لوگ معصوم نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے ان کو خودکش حملوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق افغانستان کے اند ردو درجن سے زائد جگہوں پر بھارتی کونسلیٹ جنرل خودکش حملہ آوروں کے لیے تربیتی اور تیاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور وہ جنگ جو بھارتی پچھلے 60سالوں میں پاکستان سے نہ جیت سکا اب وہ جنگ اس نے پاکستان کے ایک برادر اسلامی ملک سے مل کر لڑنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔یاد رہے کہ یہ وہی افغانستان ہے جب مشکل وقت میں اس پر روس نے قبضہ کر لیا تو اس کے پچاس لاکھ باشندوں کو پاکستان نے اخلاقی طور پر ناصرف امداد کی بلکہ اپنی سرزمین پر بغیر کسی ویزے اور پاسپورٹ کے پناہ دی۔اور یہ پچاس لاکھ لوگ اپنے ساتھ نہ صرف اپنے اونٹ، گھوڑے،گائے اور بکریاں لے کر آئے بلکہ پاکستان کے پُرامن معاشرے میں ہیروئن اور کلاشنکوف جیسی لعنت بھی ساتھ لے کر آئے اور آج ہمارے پھولوں کے نگرکی فضائیں بموں کے دھوئیں سے آلود ہے۔کیا احسان کا بدلہ اسی طرح دیا جاتا ہے کہ بھارت جو روس کا اتحادی افغانستان کا دشمن تھا مشکل وقت میں غیرجانبدار ہو گیا لیکن آج جب افغانستان کو آزادی ملی تو وہ افغانوں کے ساتھ مل کر ان کے محسن پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اور ہیروئن کے کلچر سے وطن عزیز کے ہر طرف لاکھوں نوجوان نشہ کا شکار ہو کر اس دھرتی کے اوپر بوجھ ہیں۔خودکش حملہ کرنے والے اسلام کی کونسی خدمت کرتے ہیں۔ ان دھماکوں میں اکثر مرنے والے کی اکثریت معمولی اور مزدوروں جیسی ہوتی ہے۔ جن کے بچے یتیم اور لاوارث ہو گئے ہیں، خواتین بیوہ ہو گئیں، بعض کے بوڑھے والدین رو رو کر اندھے ہو گئے، کئی کی بہنوں کی شادیاں ہونے والی تھیںاب ان کی ڈولی کبھی نہ اٹھ سکے گی یہ ہے کمائی ان خودکش حملہ آوروں کی۔ ایسی صورتحال میں جب خودکش حملہ آوروں نے وطن عزیز میں اودھم مچا رکھا تھا تمام مسلک اور تمام مکتبہ ہائے فکر کے علما نے سر جوڑ کر ایک عظیم فتویٰ دیا۔ جس سے خودکش حملوں کو جائز قرار دینے والوں کے شکوک و شبہات دور ہو گئے۔ ہر مسلمان کا ذہن کلیئر ہو گیا کہ خودکش حملے واقعتا حرام ہیں۔ علماء کرام نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر دیا۔ جس پر میں پاکستان کے تمام علمائے کرام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک مشکل وقت میں ایک صحیح فیصلہ کرکے وہ حق ادا کیا ہے کہ جس کے لیے ان کی اس کاوش کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔28مذہبی جماعتوں کی طرف سے 14اکتوبر2008ء کو دیا جانے والا فتویٰ نوجوانوں، خصوصی طور پر مذہبی رحجان رکھنے والے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی میں جاری رہنے والا دو ہفتوں سے زائد ان کیمر ہ سیشن اپنے اختتام کو پہنچا اور ایک ایسا سرپرائز عوام کو ملا کہ جس کی توقع وہ اب صدر مملکت جناب آصف علی زرداری سے کرتے ہیں کہ کس کمال اور خوش اسلوبی سے انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان کو قائل کر لیا اور چودہ نکاتی قرارداد منظور کروالی گئی۔جس کے ذریعے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں فوج کی بتدریج واپسی اور اس کی جگہ سول سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی جائے گی۔اور پاک دھرتی پر موجود غیرملکی جنگجوئوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گایہ ایسی قرارداد ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن سمیت سبھی جماعتوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔امید ہے کہ اب جنگ کے سیاہ بادل پاک وطن کے افق سے چھٹ جائیں گے اور ہم وطن عزیز کی تعمیر وترقی کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔ دورِ جدید میں میڈیا تیسری بڑی طاقت ہے۔ میڈیا کے ذمہ داروں کو پاکستان کو بچانے، اسے مستحکم کرنے اور عظیم تر بنانے کے لیے اپنا کردار کرنا ہوگا۔آج ملک نہایت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ہر قدم سوچ اور سمجھ کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ میڈیا ہے، وزارتیں ہیں، جاگیریں ہیں، صنعتیں ہیں، افسریاں اور جرنیلیاں ہیں۔ پاکستان ہے تو کنگ میکنگ کا فلسفہ بھی موجود ہے۔ پاکستان ہے تو اذان کی آوازیں گونج رہی ہیں، مسجدیں آباد ہیں، مدرسے چل رہے ہیں۔ خدانخواستہ خاکم بدھن پاکستان نہ رہا تو ہسپانیہ کا 2جنوری 1492 کا منظر نظروں میں گھوم جاتا ہے۔ یہ دن اندلس کے مسلمانوں پر بہت بھاری تھا۔ یہ منحوس سہ پہر مسلمانوں کی صدیوں کی حکمرانوں کے بعد آئی تھی۔ یہ سقوط کی پہلی شام تھی۔ مسلمانوں پر ابتلا کی ایسی رات کا آغاز ہوا کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی صبح نو طلوع نہ ہو سکی۔غرناطہ کی کشادہ مسجدیں ملکہ ازابیلااور فرڈیننڈس کے عیسائی لشکروں اور گھوڑوں کے پیشاب سے متعفن ہو رہی تھیں۔ اس شام غرناطہ میں اذان کے بجائے ہر طرف مسلمانوں کی آہ و بقا سنائی دیتی تھی۔ سقوط غرناطہ باقاعدہ معاہدوں اور دستخطوں کے بعد ہوا تھا اس کی تیاری 25نومبر 1491 سے عروج پر تھی۔ اس روز قصرِ الحمرا میں آخری بار فجر کی اذان ہوئی پھر اس کے بعدہسپانیہ کی سرزمین پر کبھی اذان سنائی نہ دی۔والیٔ غرناطہ امیر عبداللہ بابِ دل کے گھرانے کی خواتین بشارہ کی طرف روانہ ہوئیں تو یہ ان پر قیامت کی گھڑی تھی وہ روتی جاتی تھیں ان کی آہ و فغان سے قصر الحمرا کے درودیوار کانپتے تھے۔ سقوط غرناطہ کے بعد کروڑوں مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بننے پر مجبور کر دیا گیا۔ آج بھی اس علاقے کے رہنے والے اپنے آبائواجداد کے مذہب بدلنے کے باوجود بھی اسلامی رسم و رواج کے قریب تر نظر آتے ہیں۔لیکن یہ سب مسلمان حکمرانوں کی نااہلیوں، نالائقیوں اور اقتدار کی کشمکش کا کیا دھرا تھا۔ جو قومیں خود پر رحم نہیں کھاتیں تاریخ بھی ان پر رحم نہیں کرتی۔ اور طارق بن زیاد کی جلائی ہوئی کشتیاں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔جس کے قدم سپین کی سرزمین پر پہنچنے والے پہلے قدم تھے اور آنے والی نسلیں ہماری تاریخ کے لیے باعث تذلیل بنیں۔ آج بھی خرابیوں کا زیادہ ذمہ دار اشرافیہ ہے۔ جب غریب کا چولہا بجھے گا اور اس کے پاس دیا جلانے کی بھی ہمت نہ ہو گی تو اس کے آنسوئوں سے اشرافیہ کے چولہے اور قمقمے بھی بجھ جائیں گے۔ خدا نہ کرے پاکستان پر ایسا وقت آئے اگر آیا تو اس کے ذمہ داروں کا وہی حال ہوگا جو عبداللہ بابِ دل اس کی ماں، بہنوں، اور بیٹیوں کے ساتھ ہواتھا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus