×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
معاشی بحران اور خارجہ پالیسی
Dated: 02-Nov-2008
ہم زمین سے چاند کو دیکھیں تو اس پر داغ سے نظر آتے ہیں، دوربین سے شاید اس پر کچھ موجودات نظر آ جائیں۔ پرانے زمانے میں بزرگ بچوں کو بتایا کرتے تھے کہ چاند پر ایک بوڑھی عورت چرخا کات رہی ہے یہ اس کی شبیہہ ہے۔ چاند سے زمین کا مشاہدہ کرنے والے خلاباز اور سائنسدان بتاتے ہیں کہ وہاں سے زمین پر دیوارِ چین اور دبئی کے قریب سمندر کے اندر زیر تعمیر پراجیکٹ جس کا ڈیزائن کھجور کے درخت کی مانند ہے ’’پام جومیرہ‘‘نامی یہ پراجیکٹ جو کہ 95فیصد سیل آئوٹ ہو چکا ہے چاند سے دیکھنے پر نظر آتا ہے۔یہ دنیا کے ایسے پراجیکٹس میں شامل ہے جس پر کھربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور مزید کھربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر اور تعمیر سے وابستہ میرے ایک دوست نے بتایا کہ سمندر کے اندر بسائے جانے والے اس خوبصورت ٹائون میں 70فیصد شیئرز پاکستانیوں کے ہیں۔ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر13یاچودہ ارب ڈالر ہوئے تو خزانہ چھلکنے لگا تھا۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اس پر فخر کیا کرتے تھے۔ دبئی کے اس اور دوسرے پراجیکٹس پر پاکستانی سرمایہ کار کھربوں ڈالر لگا رہے ہیں۔ اگر صرف اس منصوبے پر خرچ ہونے والا پاکستانیوں کے سرمائے کا ایک چوتھائی بھی پاکستانی بینکوں میں جمع ہو جائے تو ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف مستعفیٰ ہوئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ جناب صدر آصف علی زرداری صاحب کے دانشمندانہ فیصلوں اور اپنے تعلقات بروئے کار لانے کے بعد اب ملکی معیشت سنبھلتی جا رہی ہے۔ فرینڈز آف پاکستان کو تعاون پر آمادہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف خود پاکستان کی شرائط پر قرض دے رہا ہے۔ پاکستان کے خیرخواہ ممالک بھی مشکل گھڑی میں پاکستان کی ہمت بندھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان عطا فرمایا پاکستان نے ہمیں عزت، شہرت اور دولت سب کچھ دیا۔ ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟60 میں سے 40سال چند جرنیل ملک کو لوٹتے رہے۔ بیوروکریٹس اپناپیٹ اور بیرونِ ممالک بینک پاکستانی دولت سے بھرتے رہے۔بدنام سیاستدان ہو رہے ہیں۔بلاشبہ بیرونِ ممالک پاکستانی سیاستدانوں کے بھی بڑے اکائونٹس ہیں لیکن یہ بیوروکریٹس اور جرنیلوں کے اکائونٹس کے سامنے ہیچ ہیں۔ سیاستدانوں کی بات ہوتی ہے تو کچھ لوگوں کی صرف نظر پیپلز پارٹی اور اس کے رہنمائوں پر ہوتی ہے۔ حالانکہ دیگر پارٹیوں کے رہنمائوں کے بھی دوسرے ممالک میں نہ صرف اکائونٹس ہیں بلکہ سعودی، کینیا، بھارت، انگلینڈ اور افریقہ میں ٹیکسٹائل،شوگرملیں، سٹیل ملیں اور دیگر بڑے بڑے کاروبار ہیں۔ کاروبار پاکستان میں کیوں نہیں کیے جاتے اگر گارنٹی کی کمی ہے تو سیاست بھی پاکستان میں نہ کریں۔ سیاستدانوں کے زمرے میں اگر پیپلز پارٹی ہی آتی ہے تو باقی سیاستدانوں کو سیاست چھوڑ کر اپنے کاروبار کرنے چاہئیں سیاست صرف پیپلز پارٹی کو کرنے دی جائے۔ بینک اکائونٹس کے ساتھ ساتھ بیرونِ ممالک بیوروکریٹس کے کاروبار بھی سیاستدانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ ملک کو معیشت سے آسانی سے نکالا جا سکتا ہے اگر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سابق فوجیوں،بیوروکریٹس اور دیگر سرمایہ کاروں کو اپنے ہزاروں کھرب ڈالر کے اکائونٹس اور سرمایہ پاکستان منتقل کرنے پر آمادہ کر لیا جائے۔ بسم اللہ سابق صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے کی جائے ان دو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر ایک کے پاس پاکستان کے تمام قرضے چکانے کے برابر اثاثہ جات ہیں۔ پاکستا ن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا لیکن امریکہ نے پاکستان کی ضروریات کو درخوراعتنا نہیں سمجھا۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط رکھنا امریکہ کی ذمہ داری تھی۔ امریکہ نے فردِواحد کی ہتھیلی پر 10ارب ڈالر رکھ دیئے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ پاکستان میں ہونے والی معمولی موومنٹ پر نظر رکھنے والے امریکیوں کو چاہیے تھا کہ 10 ارب ڈالر کے مصرف پر بھی نظر رکھتے۔ اگر چند لوگوں نے اتنی بڑی رقم کی بندربانٹ کی تو اس میں عوام کا کیا قصور؟ قصور تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے ہمیشہ صرف آمروں کو سپورٹ کیا اور جب بھی ملک کے اندر جمہوری قوتیں منتخب ہو کر آئیں تو عوام کو انہیں منتخب کرنے کے جرم میں سزادینے کے لیے بہانے اور حیلوں سے کام لیا گیا اور نوزائیدہ جمہوریت کے پودے کو پھلنے پھولنے دینے کی بجائے اس کی جڑیں کاٹنے کے اسباب پیدا کیے گئے۔جمہوری حکومت کا کیا گناہ ہے؟ اب پائی پائی دیتے ہوے واپسی کے لیے تحفظات کیے جا رہے ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ چند دن میں امریکی صدر کا الیکشن ہو رہا ہے۔ صدر کی کسی بھی پارٹی کا ہو پالیسی امریکی مفادات میں ہی بنے گی اور چلے گی۔ قطع نظر اس کے کہ جنگ کس کی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ سے پاکستان اور امریکہ دونوں کا چھٹکارہ ممکن نہیں۔ اگر یہ امریکہ کی جنگ ہے تو وہ پاکستان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اس کی قرضوں سے جان چھڑائے۔ جو پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ معیشت کو نہ صرف سہارا دے بلکہ مضبوط بنائے جس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنا چاہیے اگر یہ پاکستان کی جنگ ہے تو پوری دنیا اس کا ساتھ دے اور مشکلات سے نکالے۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے بعد دونوں ممالک میں نئی حکومتیں ہوں گی۔ پاکستان کو امریکہ کے بارے میں نئی خارجہ پالیسی تشکیل دینی ہو گی جس کی بنیاد Love for Love ہو۔ اگر ہم دہشت گردی کے خلاف امریکہ سے تعاون کرتے ہیں تو کچھ لو اور کچھ دو کا اصول مدِنظر رکھنا چاہیے اس جنگ میں تعاون کے بدلے امریکہ پاکستان کے تمام ممکنہ مسائل حل کرے۔ جو کچھ اب پاکستان کو دیا جا رہا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ آمر اقتدار پر قابض ہو تو اس کے لیے امریکہ اپنے خزانوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جمہوری حکومت کو قرض دیتے ہوئے بھی سوچتا ہے۔ اب پاکستان میں فرد واحد اور آمر کی حکومت نہیں ذمہ داری جمہوری حکومت ہے جو عوام کو جواب دہ ہے یقینا تعاون اور امداد میں ملنے والاایک ایک پیسہ ملکی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبودکے لیے خرچ ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے اور جیتنے کے لیے پاکستان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ جنگ پاکستان امریکہ کی خاطر لڑے اور ملک چلانے کے لیے قرضے دوسرے اداروں سے لے اس سے پاکستان مضبوط نہیں قرضے کے بوجھ تلے دبتا چلا جائے گا ایسی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جو حشر ہوگا وہ نوشتہ دیوار ہے۔ ضرورت ہے کہ امریکہ نوشتہ دیوار پڑھ لے اور پاکستانی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔وگرنہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں سپُر پاور کا لیبل بھی اب کچھ زیادہ عرصہ نہیں چلنے والا اگر امریکہ اپنے دوستوں کو مضبوط کرے گا تویہ خود اس کی اپنی معیشت کے لیے بھی بہتر ہوگا۔ اور پاکستان کو چاہیے کہ اپنی خارجہ پالیسی کو بتدریج بدلے اور بہتری کی طرف لے جائے۔ وزیراعظم کا حالیہ دورہ ترکی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ترکی پاکستان کا آزمایاہوا دوست اور وہ واحد ملک ہے جس کے شہریوں کے دل میں پاکستانیوں کی عزت بچی ہے۔جغرافیائی طور پر ہم ترکی سے زیادہ دور نہیں۔ آر سی ڈی جیسے معاہدے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دے کر ترکی کے ساتھ مضبوط تجارت اور تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ترکی وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے کہ جہاں اسلامی روایات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی پر دسترس اور معیشت پر گرفت بہت مضبوط ہے۔ ایک نئی خبر ان دنوں میں جبکہ ہر طرف بحرانوں کا دور ہے اور پاکستان کا ہر ذی ہوش شہری قرب میں مبتلا ہے اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے او ر متعدد دفعہ صوبائی اسمبلی کے ممبر اور سابق صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی اوورسیز کے صدر اور سابق جنرل سیکرٹری پی پی پی پنجاب رانا آفتاب احمد خاں کو پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا صدر نامزد کر دیا گیا ہے۔ جنہیں کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں ہونے والی رائے شماری میں 95فیصد ووٹ ملے ہیں۔ رانا صاحب کے متعلق یہ مشہور ہے کہ دوراندیشی اور صبر ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ پچھلی دفعہ جب قاسم ضیاء صاحب کو صدر بنایا گیا تھا تب بھی وہ سینئر تھے اور جب قاسم ضیاء صاحب کو قائدحزب اختلاف بنایا گیا تب بھی رانا صاحب سینئر پارلیمنٹیرین تھے لیکن رانا آفتاب احمد خاں صاحب نے نہ صرف قاسم ضیاء صاحب سے مضبوط کوارڈینیٹر اور تعاون جاری رکھا بلکہ صدر اور سیکرٹری جنرل کے طور پر دونوں کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ ایک دفعہ میں نے رانا صاحب سے اسی تناظر میں سوال کیا تو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اس مصرعے کے ساتھ جواب دیا ’’پیوستہ رہ شجر سے امیدبہار رکھ‘‘میں سمجھتا ہوں کہ شجر سے پیوستہ رہنے کا ثمر آج انہیں مل گیا ہے یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جسے رانا آفتاب صاحب کو چیلنج سمجھ کر لینا ہوگا اور پنجاب میں اپنے کولیشن پارٹنر اور مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ جناب شہباز شریف صاحب سے بہتر کوارڈینیشن کرکے پنجاب کے عوام کو مصائب سے نکالنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus