×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گیلانی کے چار سال مکمل ہونے پر جشن یا ماتم
Dated: 28-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com فروری2008ء میں الیکشن میں کامیابی کے بعد مخدوم امین فہیم کے وزیراعظم بننے کا چرچا تھا۔ وہ وزیراعظم بن جاتے تو شاید سب سے بڑے آئینی عہدے پر سندھ سے متعلقہ شخصیت کا انتخاب ممکن نہ ہوتا۔اس موقع پرصدر آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان طے پانے والی مصحلتی پالیسی نے اپنا اثر دکھایااور خواجہ آصف نے مخدوم امین فہیم کے صدر مشرف سے تعلقات کے حوالے سے بیانات دے کر ہالہ کے مخدوم پر وزیراعظم ہائوس کے دروازے بند کر دیئے۔ چودھری احمد مختار بھی وزارت عظمیٰ کی ریس میں شامل تھے لیکن شاید ان کے ہاتھ میں وزارتِ عظمیٰ کی لکیر نہیں ہے اگرتھی بھی تو ہو سکتا ہے کہ مالش اور پالش کرتے کرتے گھِس گئی ہویا پھران کے اپنے ہی دیئے ہوئے بیان کے نیچے آ کران کی خواہش دب گئی ہو۔ بالآخر وزارتِ عظمیٰ ملتان کے مخدوم پر نوازش بن کر نچھاور ہو گئی۔ ان کے حصے میں وزارت عظمیٰ ایسے ہی آ گئی جیسے شہر کی طرف آنے والے فقیر کے حصے میں بادشاہت آ گئی تھی۔ شہر کے رسم و رواج کے مطابق بادشاہ کی موت پر اگلے روز سب سے پہلے شہر میں داخل ہونے والے شخص کو بادشاہ بنایا جاتا تھا۔ اتفاق سے جس روز نئے بادشاہ کی آمد کا انتظار تھا فقیر شہر میں داخل ہوا تھا۔ ایسے ہی اتفاق سے وزیراعظم بننے والے ملتان کے مخدوم سے پیپلزپارٹی کو بڑی توقعات تھیں لیکن ان کی کارکردگی مجاوری سے آگے نہ بڑھ سکی۔ آج ان کی پرفارمنس کے باعث پوری پارٹی مجاور بنی نظر آتی ہے۔ آج گیلانی حکومت اپنے 4سال مکمل کر چکی ہے۔ اس دوران حکومت اور حکمران نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں اس پر شہر شہر، گائوں گائوں، قریہ قریہ اور گلی گلی ہائے بجلی، ہائے گیس، ہائے پائی، ہائے روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں کے ساتھ ’جشن ‘‘منایا جا رہا ہے۔ ایک ہفتہ سے لاہور جیسے شہر میں 24گھنٹے میں صرف 3گھنٹے بجلی آتی ہے۔ گذشتہ روز مظاہروں کے دوران ایک نوجوان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ کروڑوں کی املاک کو جلا دیا گیا۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف سے شکوہ کیا ہے کہ انہوںنے پیپلزپارٹی کی حکومت کی کامیابی اور ان کے وزارت عظمیٰ کے چار سال مکمل ہونے پر مبارک باد نہیں دی۔ مبارک باد تو کسی خوشی پر دی جاتی ہے جو کچھ گیلانی حکومت 4سال میں کر چکی ہے اس پر تو ماتم کرنا چاہیے۔ گیس اور بجلی کی بے انتہا قلت اور لوڈشیڈنگ کے باعث لاکھوں صنعتیں اور کارخانے بند ہونے سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے ان کی تعداد میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت 100روپے سے اوپر کی جا رہی ہے۔ وہ پی آئی اے جس کا کوئی جہاز بسلامت منزل مقصود تک نہیں پہنچتا، کوئی پرواز سے پہلے اور کوئی دوران پرواز خراب ہو جاتا ہے۔ ریلوے اپنی جگہ سسک رہی ہے لیکن ان کے کرایوں میں بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اضافہ کر دیا جاتا ہے اور وزیر ریلوے کے ہزاروں ٹرالے اور کارگوٹرک سڑکوں پر رواں دواںہیں۔سٹیل مل کا حال یہ ہے کہ پچھلے چار سال میںعلی بابا اور چالیس چوروںکی ٹیم نے متعدد بار سٹیل مل کی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا مگر عدالتِ عظمیٰ کے سرزنش کرنے کے باعث بھی اب تک وہ اس مل کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی مٹی پلید کرکے رکھ دی گئی ہے۔ یہ خبر پڑھ کر دل دہل کے رہ گیا کہ کوئی مصیبت کا مارا اپنے چار بچوں کا پیٹ نہ پال سکنے کے باعث ان کو سرراہ چھوڑ کر نہ جانے اپنے آنسو بہانے اور چھپانے کہاں چلا گیا۔ مشرف کو تو کولن پاول نے اپنا ساتھ نہ دینے کی صورت میں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی تھی۔ آج گیلانی حکومت نے قوم کو عملی طور پر Stone Age میں پہنچا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کو ضیاء الحق جیسے دشمنوں اور جتوئی و فاروق لغاری جیسے اپنوں نے ختم کرنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن وہ تو کامیاب نہ ہو سکے آج گیلانی نے ان کا خواب پورا کر دیا۔ انہوں نے پارٹی کو جس پستی میں گرا دیا اب وہ دسیوں سال ایوان اقتدار کو حسرت بھری نظروں سے تکتی رہے گی۔ عمران خان 16سال سے سیاست میں ہیں اس دوران انہوں نے الیکشن میں ہزاروں امیدوار کھڑے کیے لیکن قومی اسمبلی میں ان کی سٹیوں کی تعداد ایک سے نہ بڑھ سکی۔ ایک سیٹ بھی مشرف کی نظرالتفات کے باعث ان کے حصے میں آئی۔ آج عمران خان عوامی ہیرو کا روپ دھارے نظر آ تے ہیں۔ وہ مزید پچاس بھی الیکشن لڑے تو بھی ان کی سیٹ ایک سے زائد نہ ہوتی لیکن اب ان کی پذیرائی ہو رہی ہے۔اس کی وجہ حکومت کی نااہلی و ناکامی ہے۔ جس طرح سے گیلانی حکومت نے عوام کو مایوس کیا۔ عوام کا دوسرے کسی کیمپ میں چلے جانا فطری امر تھا۔ کسی کو عمران کی ادا پسند آئی تو کسی کو نوازشریف کی لچھے دار تقریریں بھا گئیں۔ پاکستانی قوم ایثار و قربانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی لیکن اگر سامنے کوئی کاز اور عظیم مقصد ہو تو قوم حکمرانوں کی عیاشی اور ان کا بینک بیلنس بڑھانے کے لیے قربانی کیوں دے؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گیلانی حکومت کے 4سال میں 92ارب ڈالر کی کرپشن ہوئی ہے۔یہ رقم اندرونی اور بیرونی طور پر لیے گئے مجموعی قرضوں سے بھی 4ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اگر یہ رقم چند پیٹوں میں اترنے کے بجائے ملک اور عوام پر خرچ کی جاتی تو آج بجلی کا بحران ہوتا نہ گیس تیل اور پانی کا۔ وطن عزیز عظیم تر، خوشحال اور ترقی کی منازل طے کر رہا ہوتا۔میری پارٹی کی حکومت نے صرف عوامی مسائل و مصائب میں ہی اضافہ نہیں کیا قومی خودداری ،خودمختاری اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا۔ ڈارون حملوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اب نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے بے صبری قابلِ دید ہے۔ بھارت جو پاکستان کے حصے کا پانی بند کرکے پاکستان کو ریگستان بنا رہا ہے اس کے ساتھ تجارت میں اضافہ کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ خسارے کی تجارت ہے۔ شرمناک بات ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہے اور بھارت سے سبزیاں اور پھل درآمد کیے جاتے ہیں۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی خاطر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا برملا اعلان کیا۔ گیلانی حکومت شہ رگ پاکستان کی واگزاری اور جنگ کرکے کشمیر کی آزادی کے بجائے ستم رسیدہ کشمیریوں کو نظرانداز کرکے ستمگر بھارت کو پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دے کر قائداعظم اور قائد عوام کی روحوں کو تڑپا رہی ہے۔ کیا قوم ایسے اقدامات پر وزیراعظم گیلانی کو مبارک باد دے؟ کیا جیالے قائدعوام کے مشن سے بے وفائی اور عوام کا ناطقہ بند کرنے پر گیلانی کو مبارک باد دیں؟ایک محفل میںخواجہ سرائوں کے وزیراعظم’’بوبی‘‘نے کیا خوب کہاکہ ودائیاں ہون ودائیاں کرپشن کا ’’کاکا‘‘چارسال کا ہو گیاہے ۔عوام کو ریلیف تو کچھ نہیں ملا البتہ عوام کی سانسیں بھی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus