×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی۔ حکومت کا آخر ایجنڈا کیا ہے؟
Dated: 18-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہاں کینیڈا میں مقیم پاکستانی اپنے وطن کے سلگتے مسائل اور حکمرانوں کی بے حسی پر مایوس تو تھے ہی آج جو کچھ عدلیہ کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کے چیف کے خلاف سازشوں کا جو محاذکھولا ہوا ہے اس پر پریشان ہیں اور ملک کے سسٹم پر بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز ادریس شاہ کاظمی کے فارم ہائوس پر ایک فکری نشست کا اہتمام تھا جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر خصوصاً ادب سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ احباب نے شرکت کی۔ اس میں یہ بات ہو رہی تھیں کہ میموکمیشن نے حسین حقانی کو غداری کا مرتکب قرار دیا تو اس کو حسین حقانی جس کا ملک کو بدنام اور اس کی سلامتی، سالمیت اور خودمختاری پر داغ اور دھبے لگانے میں گھنائونا کردار ہے وہ میموکمیشن پر تشکیل دیئے گئے کمیشن کی رپورٹ کو عدالتی کی بجائے سیاسی فیصلہ قرار دے کر اسے مسترد کر رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمیشن رپورٹ ڈاکٹر ارسلان کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے جاری کی گئی۔ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ مجھے سنا نہیں گیا۔ حقانی پاکستان سے گئے تو سپریم کورٹ نے اس شرط پر ملک چھوڑنے کی اجازت دی تھی کہ وہ جوڈیشل کمیشن اور عدالتِ عظمی کی طرف سے طلب کرنے پر پیش ہوں گے۔ وہ نہ صرف خود جوڈیشل کمیشن کی طلبی پر پیش نہیں ہوئے ،لایعنی اور بے معنی بہانے بناتے رہے بلکہ دہری شہریت کے باعث قومی اسمبلی کی رکنیت معطل ہونے پر ان کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی بھی پاکستان سے امریکہ چلی گئی۔ گویا ان کے لیے پاکستان میں رہنے کے لیے اقتدار لازم ہے اور حکومت اور عدلیہ سے تعاون کے لیے بھی بیرونِ ملک رہتے ہوئے سفیر کا عہدہ پاس ہونا ضروری ہے۔ یہ حسین حقانی ہی تھے جنہوں نے کیری لوگربل کے ڈرافٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ کیری لوگربل میں حقانی نے اپنی کتاب "Between Mosque and Military" کے پورے کے پورے پیراگراف شامل کر دیئے جن کا مقصد فوج کو نکیل ڈالنا تھا۔ فوج نے اسی مواد کے پیش نظر ہی کیری لوگربل پر شدید احتجاج کیا تھا جو گیلانی صاحب ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر گئے۔ حقانی کی پاک فوج کی مخالفت میں یوں کھڑا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ماضی کی کرتوتوں کے پیش نظر آئی ایس آئی نے ان کو امریکہ میں سفیر لگانے کے لیے کلیئر نہیں کیا تھا۔ حکومت نے اس کے باوجود بھی ان کو سفیر مقرر کر دیا گویا حکمران اور حقانی فوج کی مخالفت میں ایک پیج پر آ گئے۔ کیری لوگر بل والا فوج پر کیا جانے والا وار خالی گیا تو شاہ سے وفاداری جتانے کے لیے حقانی نے اپنے دوست منصور اعجاز کے ذریعے امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو میمو لکھوا کر پہنچا دیا۔ اس میں امریکہ سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی اثاثے امریکہ کی نگرانی میں دینے اور امریکی کی غلامی کی راہ میں رکاوٹ بنے جرنیلوں سے سول حکومت کی جان چھڑانے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ حکومت اپنے زیر اثر جرنیلوں کو سامنے لائے۔ میمو سامنے آیا تو اسی وقت حقانی کے الٹے سیدھے اور اس سے میمو بھجوانے کے کرداروں کے اشتعال انگیز بیانات میڈیا کی زینت بننے لگے۔ میمو کے اہم کردار منصور اعجاز کو کیس سے دور کرنے کے لیے اسے دھمکیاں دی گئیں ، غداری کے مقدمے درج کرنے کا کہہ کر ڈرایا گیا پاکستان آنے پر نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تڑی لگائی گئی۔ اس کی سکیورٹی کی بات ہوئی تو وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ہم اسے سربراہ مملکت کی سکیورٹی نہیں دے سکتے۔ اس پر منصور اعجاز نے پاکستان آنے سے انکار کیا تو جوڈیشل کمیشن جس کی تشکیل 30دسمبر 2011ء کو ہوئی تھی نے لندن میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس کا بیان ریکارڈ کرنے کا اہتمام کیا اس پر بھی حکومتی حلقے چیں بجبیں ہوئے۔ یہ امید لگائے بیٹھے تھا کہ منصور اعجاز نے چونکہ پاکستان آنے سے انکار کیا ہے۔ اس لیے اس کیس کے واحد کلیدی گواہ کی عدم موجودگی سے کیس ختم ہو جائے گا۔ منصور اعجاز نے تو جوڈیشل کمیشن کے ساتھ تعاون کیا، حسین حقانی چونکہ فریبی تھا اس لیے بھاگ گیا۔ اس نے جوڈیشل کمیشن کی حیثیت کو ہی ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے پاس چونکہ کہنے کو کچھ نہیں تھا اس لیے کمیشن کا بائیکاٹ کر دیا لیکن چلنے والے قافلے منزل تک پہنچنے تک پڑائو تو ڈالتے ہیں مستقل رکتے نہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنا سفر جاری رکھا اور اپنے فیصلے میں حقانی کو غدار قرار دے دیا۔ معاملہ جوڈیشل کمیشن سے اب دوبارہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 9رکنی بنچ کے سامنے ہے۔ جس میں میمو سے جڑے دیگر کردار زیر بحث آئیں گے اور بے نقاب بھی ہوں گے۔ ایک طرف میمو کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں آنے کے بعد مشتہر ہوئی تو دوسری طرف چیف جسٹس کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے جس پر چیف جسٹس نے سوموٹو ایکشن لے کر بڑے بڑے مفادریوں کے منہ بند اور ان کو بدنام کرنے کی خواہش پر پانی پھیر دیا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف مشرف طرز کا ایک اور ریفرنس تھا جو منظر پر آنے سے قبل چیف جسٹس کے اپنے بیٹے کے خلاف نوٹس لینے پر اپنی موت سے خود ہی ہمکنار ہو گیا۔ ملک ریاض کی طرف سے لگائے گئے الزامات میڈیا کی چند شخصیات کے ذریعے سامنے آنے پر بڑا واویلا ہوا۔ اس پر ملک ریاض نے ایک دھماکہ خیز پریس کانفرنس بھی کر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ قرآن ساتھ لائے ہیں۔ صحافیوں نے کہا کہ اسی قرآن پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کس کس صحافی کو پیسے دیئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پر ملک ریاض بوکھلا گئے۔ اسی پریس کانفرنس پر بھی سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور ان کو طلب بھی کر لیا۔ وہ حقانی کی طرح روپوش ہونے اور بہانہ بازی کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے پیش ہو گئے۔ حقانی اور ملک ریاض میں ایک فرق تو ہے کہ حقانی کیس سے ڈر کر ملک سے بھاگ گیا جبکہ ملک ریاض لندن سے پاکستان چلا آیا۔ بہرحال دونوں معاملات ہنوز بہت ہاٹ ہیں اور دونوں کے پیچھے حکومت کا ہاتھ بھی نظر آتا ہے۔ حکومت میمو کیس کو دبانا اور ڈاکٹر ارسلان کیس کو جتنا ممکن ہو سکے ابھارنا چاہتی ہے تاکہ چیف جسٹس کی بدنامی اور رسوائی کا ایسا اہتمام ہو کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس اور این آر او سے جان چھوٹ جائے۔ کچھ حکومتی زعما جن میں گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اور وزارت اطلاعات و نشریات کی گدی سے گرائی جانے والی خاتون وزیر بھی شامل ہے نے چیف جسٹس سے ارسلان کیس کے مقدمے کی سماعت تک اپنا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔اب چونکہ اس کیس پر فیصلہ آ گیا ہے دو رکنی بنچ نے کیس اٹارنی جنرل کے حوالے کر دیا ہے تو چیف جسٹس کے مستعفی ہونے کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں رہا۔ البتہ ان کا مطالبہ اس وقت جائز ہوتا اگر این آر او کیس کے فیصلے پر صدر آصف علی زرداری، توہین عدالت کیس میں اور بیٹوں کی کرپشن کے الزامات پر وزیراعظم گیلانی اقتدار سے الگ ہو جاتے۔ویسے بھی کرپشن کے الزامات جسٹس افتخار محمد چوہدری پر نہیں ان کے بیٹے پر ہیں۔ گیلانی صاحب تو آج اپنے بیٹوں کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں جبکہ جسٹس افتخار اپنے بیٹے پر الزام لگنے پر اسے عدالت میں لے گئے۔ اصل میں ہمارے حکمرانوں کو جسٹس منیر، جسٹس ارشاد حسن خان اور حمید ڈوگر جیسے غلامانہ ذہنیت والے ججوں کا چسکا پڑ گیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کردار اور حرفِ انکار کے حوالے سے اہمیت کا حامل جج پہلی بار نظر آیا ہے جو میرٹ کے مطابق بلاخوف اور بلاامتیاز فیصلے کر رہا ہے۔ جو ایک شفاف کردار والی حکومت کے لیے نیک نامی کا سبب ہے لیکن کرپشن اور بے ایمانی سے لتھڑے حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اسی لیے حکومت اور حکمرانوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ حکمران ایسے جج کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے خلاف سازشوں کے جال بنے جاتے ہیں۔ اپنے گھٹیا مفادات کی خاطر اپنے مہروں کے ذریعے عدلیہ کو سکینڈلائز کیا جاتا ہے۔ ان حکمرانوں کی پالیسیوں سے ملکی معیشت ڈوبی، مہنگائی زوروں پر ہے۔ ملک میں انرجی کے ذرائع بجلی ہے نہ گیس، پیٹرول کی قیمتیں اتنی کر دی گئی ہیں کہ عام آدمی کی برداشت سے باہر ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کار پاکستان کیا آئیں گے پاکستانی سرمایہ کار بھی اپنا بزنس ملک سے سمیٹ کر باہر لے جا رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو ایٹمی پروگرام کیا پورا ملک بیچ کر کھا جاتے۔ فوج اور آزاد عدلیہ کا دم غنیمت ہے کہ ملک ڈانواں ڈول ہی سہی چل تو رہا ہے۔ حکمرانوں نے اپنی ٹرم تقریباً مکمل کر لی، اپنے کرتوتوں کے باعث یہ عام انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے آنے والی حکومت کے راستے میں نئے جال بچھا رہے ہیں تاکہ وہ ناکام ہو تو لوگ ایک بار پھر دھوکے میں آ کر ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھیں۔ یہ عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں خاص طور پر گذشتہ روز اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جو بیہودگی کی، اس سب کا مقصد سیاسی شہید بننے کی کوشش ہے۔ عدلیہ کے ساتھ محاذ سے سیاسی شہید بننا ہی حکمرانوں کا ایجنڈا ہے۔ یہ سیاسی شہید بننے کے لیے کوئی اور راستہ ڈھونڈ لیں۔ قومی اہمیت کے اہم اور قابلِ احترام اداروں پر تو شب خون مار کر انہیں تباہ نہ کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus