×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اپنی والدہ کی سالگرہ پر بلاول بھٹو عزم کریں
Dated: 21-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریب رہنے کا بہت سا وقت ملا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہیں تھیں اور ان کو سوئس عدالتوں میں مقدمات کا سامنا تھا۔ اس وقت محترمہ اور پاکستان پیپلزپارٹی پر بُرا وقت تھا۔ حسب سابق اور ہماری سیاست کے ابن الوقتوں کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق اقتدار کے ادوار میں محترمہ کے اردگرد گھومنے اور اقتدار سے فیض یاب ہونے والے محترمہ سے لاتعلق ہو گئے تھے۔ ستم بلائے ستم 2002ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ اور نام پر الیکشن جیتنے والوں کا ایک جتھہ آمریت کی آغوش میں جا بیٹھا تھا۔ پیپلزپارٹی کو جب بھی اقتدار ملا ابن الوقت ٹولہ اس اقتدار کے ثمرات کو سمیٹنے کے لیے خوشامد اور چاپلوسی کے پرچم لہراتا ہوا قیادت کے قریب تر ہونے کی کوشش کرتا رہا ۔ ان میں سے کچھ کامیاب ہوئے لیکن ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دونوں جہاندیدہ اور پارٹی کے خیرخواہوں اور مخلص کارکنوں کی قربانیوں کے معترف تھے۔ آج سب کچھ پیپلزپارٹی کے بانی اور اس کی صاحبزادی کی پالیسیوں کے برعکس پیپلزپارٹی پر ان لوگوں کا تسلط ہے جن کی اکثریت کسی نہ کسی دور میں پیپلزپارٹی کی مخالفت پر کمربستہ رہی ہے۔ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنا بااعتماد ساتھی اور پیپلزپارٹی اور اس کے بانیان کے لیے ہر وقت جانی و مالی قربانی کے لیے آمادہ رہنے والا جیالا سمجھ کر سوئس کیسز میں اپنا اٹارنی مقرر کیا تھا۔ مشرف دور میں جوسرکاری وکیل بڑھ چڑھ کر سوئس مقدمات لڑ رہا تھا وہ آج کا اٹارنی جنرل آف پاکستان احسان قادر ہے اس کو کسی اور نے نہیں خود کو محترمہ بے نظیر بھٹو کا جان نشین قرار دینے والوں نے ہی اٹارنی جنرل مقرر کیا ہے۔جس کے عدالت کے اندر اودھم مچانے سے بھٹوز کی پارٹی کی پوری دنیا میں بدنامی ہو رہی ہے۔ ویسے تو عدلیہ کے خلاف احمقانہ بیان دے، کچھ اقدامات کرے اور کچھ سازشوں کا حصہ بن کر پیپلزپارٹی کو گیلانی ٹولہ ہی بدنام کرنے کے لیے کافی تھا لیکن نئے تخلیق کیے گئے کردار نے تو انتہا کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے اندر ججوں سے بدتمیزی اور بدتہذیبی آج تک کسی اٹارنی جنرل کی طرف سے سنی گئی نہ دیکھی گئی۔ آج جیالے اپنی عظیم لیڈر اور شہید رہنما کی سالگرہ ان کی پارٹی کے قبضہ گروپ کی طرف سے پورے ملک میں پھیلی انارکی ،بدنظمی، بدعملی، کرپشن، برپا کی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، بجلی و گیس کی شدید ترین قلت، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے اور معیشت کی زبوں حالی کی بدترین حالت میں منا رہے ہیں۔ لوگ جیالوں کو ایسی حکمرانی پر طعنے دیتے ہیں تو یہ بے چارے اور حکمرانوں کی طرف سے نظرانداز شدہ جیالے منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر مجھے بیرونِ ملک گزارے ہوئے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب شہید محترمہ کی طرف سے اپنے خاندان سے والہانہ محبت کے شواہد برملا نظر آئے۔مصروفیت کے باعث محترمہ کو ذاتی معاملات تک کی نگرانی کا وقت کم کم ملتا تھا لیکن وہ اپنے عزیزوں کی سالگرہ منانا نہیں بھولتی تھیں۔ ایک دفعہ ہم سفر کے دوران تھے اور ہم نے محترمہ کو تھوڑا افسردہ پایا تو پوچھنے پر محترمہ نے بتایا کہ آج آصفہ کی سالگرہ ہے مجھے اس کے پاس ہونا چاہیے تھا تو محترمہ نے راستے میں آنے والی ایک بیکری سے کیک خریدا اور ہم نے اس چھوٹے سے کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر آصفہ کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔ ایک مرتبہ نیویارک سے واشنگٹن کے بائی روڈ سفر کے دوران انہوں نے گاڑی میں کیک رکھوایا راستے میں بتایا کہ آج سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی سالگرہ ہے چنانچہ دورانِ سفر کیک کاٹا گیا۔ آج ہم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے ساڑھے چار سال بیت گئے۔ کاروبار زندگی پھر سے معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ لیکن اگر پذیرائی نہیں مل رہی تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی ان خواہشات کو جو وہ عوام کو مسائل سے چھٹکارا دلانے کے لیے رکھتی تھیں۔میں جن دنوں کی بات کرتا ہوں ان دنوں وہ واقعی اپنے شوہر کے لیے محبت اور احترام کے بھرپور جذبات رکھتی تھیں۔ لیکن آج محترمہ کے انکل اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور بھٹو دور میں پارٹی کے اہم رہنما ممتاز علی بھٹو الزام عائد کرتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو آصف علی زرداری نے ہی قتل کرایا۔ویسے تو پارٹی کے اندر سے بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ محترمہ کے قاتل پارٹی کے اندر موجود ہیں اور ہر تیسری انگلی رحمن ملک کی طرف اٹھ رہی جو 27دسمبر2007ء کے جلسے تک محترمہ کے چیف سکیورٹی افسر تھے لیکن بم دھماکہ ہوا تو یہ چیف سکیورٹی افسر سب سے پہلے وہاں سے بھاگا آج تک پارٹی اور قوم کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا علم نہیں۔ اس کے باوجود محترمہ کے قتل کے فوری بعد پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہو چکی تھی آج وہ اپنے رینگتے ہوئے اقتدار کے آخری سال کا نصف گزار چکی ہے۔ پارٹی قائدین محترمہ کی برسی اور سالگرہ کے موقع پر بڑے جوش اور ولولے سے محترمہ کے قاتلوں کو کڑی سزا کے نعرے لگاتے ہیں۔ مشرف کو قاتل قرار دیتے ہیں اور کبھی بیت اللہ مسعود کو۔ بیت اللہ مسعود تو مارا گیا۔ مشرف کو خود پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا پھر ملک سے بھی بھگا دیا۔ اس نے رواں سال پاکستان واپس آنے کی بات کی، ایک تاریخ بھی دے دی اس پر حکمران پارٹی نے طوفان اٹھا دیا اس کو پاکستان واپس نہ آنے کی وارننگ دی،گرفتار کرنے کا خوف دلایا ،کچھ عدالتوں کو بھی سرگرم کیا۔ اس وقت چین سے نہ بیٹھے جب تک مشرف نے واپس آنے کا فیصلہ واپس نہ لے لیا۔ اب جو پھر سے مشرف کے ریڈوارنٹ جاری کر رہے ہیں اور انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے اقدامات کر رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی۔ یہ بالکل اسی قسم کا ڈرامہ ہے جو دو سال قبل اقوام متحدہ سے تحقیقات کرا کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے رچایا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کے تشکیل دیئے گئے کمیشن نے شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پر ایک جامع رپورٹ کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد پیش کی۔رپورٹ پیش کرنے سے قبل پارٹی کے تمام اہم رہنمائوں کے علاوہ عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ عالمی ادارے کی اس تحقیقاتی رپورٹ پر کچھ لوگوں نے اس وقت تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا کہ تحقیقات پر سرکاری خزانے سے کیا گیا خرچ ایک بوجھ ہے۔ ہم نے اس کی شدید مخالفت کی تھی کہ یہ اس لیجنڈ اور جس سیاستدان کے قتل کی تحقیقات ہو رہی تھی جو اس ملک کے صدر اور وزیراعظم کی بیٹی، ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قائد اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم جو دو مرتبہ اس منصب پر فائز ہوئیں جس نے اپنی 51سالہ زندگی میں سے کم از کم 36سال جس میں 15سالہ جلاوطنی بھی شامل ہے وطن کو دے دیئے تھے اور ملک کی دوسری بڑی جماعت سے مل کر میثاقِ جمہوریت کے معاہدے کو یقینی بنایا جو 73ء کے آئین کے بعد سب سے اہم دستاویز ہے۔ ایسی عظیم لیڈر کے بہیمانہ قتل جو دراصل قوم کے مستقبل کو قتل کرنے کی سازش تھی۔ اس قتل کے محرکات جاننے اور قاتلوں کی نشاندہی کے لیے کوئی رقم خرچ کی جاتی ہے تو اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دینا احمقانہ سوچ ہے۔ لیکن میں آج اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ اقوام متحدہ سے کرائی گئی وہ تحقیقات جس پر 5کروڑ ڈالر خرچ ہوئے نہ صر ف ایک ڈرامہ بلکہ محترمہ کے قتل کے محرکات کو پس پشت ڈالنے کی ایک کارروائی تھی۔ بعد میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق حکمران اپنی قائد کے قتل کی تحقیقات اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے سنجیدہ نہیں۔ اسی کے باعث آج پارٹی کی اہم لیڈر شپ پارٹی قیادت جسے قبضہ گروپ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے سے الگ کھڑی ہے۔ آج کی تقریبات میں ایک بار پھر جعلی قیادت محترمہ کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے کرے گی۔ عملاً وہ ڈھاک کے کے چار پات سے معاملہ آگے نہیں جائے گا۔ آج حکمرانوں کے کسی بھی اقدام سے یہ بھٹوز کی پارٹی کی حکومت نظر نہیں آتی۔ کیا پاکستان کی پوری تاریخ میں بجلی پیدا کرنے کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت کے باوجود اس طرح کی لوڈشیڈنگ ہوئی تھی۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد جیسے شہروں میں 18،18گھنٹے تک بجلی کی بندش ۔باقی شہر تو لاوارث سمجھے جاتے ہیں وہاں کی کیا حالت ہو گی اس کا اندازہ سڑکوں پر بازاروں اور چوراہوں میں ستے ہوئے عوام کے مظاہروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن حکمرانوں کی طرف سے اس عذاب پر قابو پانے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ حکومت میں جو جس مقام پر ہے اپنی حیثیت کے مطابق لوٹ مار میں مصروف ہے۔ بڑے ایوانوں کے عوام کے ٹیکسوں پر اخراجات شاہانہ ہیں بے شمار بیرونی دوروں پر بے انتہا اخراجات نے معیشت کی کمر مزید دہری کر دی ہے۔ یہ بھٹوز کے جاں نشینوں کا وطیرہ نہیں۔ محترمہ کفایت شعار تھیں نہ کہ ان نام نہاد جاں نشینوں کی طرح شاہ خرچ۔ مجھے وہ دن اور واقعات بھی یاد آ رہے ہیں جو پیپلزپارٹی کے حکمرانوں کے لیے باعث تقلید ہونے چاہئیں۔ کچھ عرصہ قبل میری ملاقات ایسے شخص سے ہوئی جو شہید محترمہ کے دونوں ادوار میں وزیراعظم ہائوس کا باورچی تھا۔ یہ دوسرے وزرائے اعظم کا بھی باورچی رہا اس نے بتایا کہ میری آنکھوں کے سامنے جتنے وزرائے اعظم آئے سوائے محترمہ کے ادوار کے ہر دور میں کچن کا بے دریغانہ استعمال ہوا۔ محترمہ کے ادوار میں مہمانوں کی تواضع پکوڑوں اور چائے سے کی جاتی تھی۔ اس نے بتایا کہ محترمہ کی سرکاری خزانے کی بچت کا احوال یہ تھا کہ ایک مرتبہ غیر ملکی مہمانوں کے لیے سلاد تیار کیا گیا تو فرنچ ڈرسینگ کی ایک بوتل بازار سے منگوائی گئی ایک ہفتہ بعد ایک اور وفد وزیراعظم ہائوس آیا اسے بھی فرنچ ڈریسنگ سلاد پیش کیا جانا تھا۔ محترمہ کے سامنے سامان کی لسٹ پیش کی گئی تو اس میں فرنچ ڈرسینگ سلاد کی خریداری بھی موجود تھی اس پر محترمہ نے کہا پچھلے ہفتے جو بوتل منگوائی گئی تھی وہ کہاں ہے؟ آج پیپلزپارٹی کو اقتدار میں آئے ہوئے ساڑھے چار سال ہو گئے۔ اس دوران ملک کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا۔ اگلے سال اگر بھٹوز کے جاں نشین اقتدار میں رہ کر ہی محترمہ کی سالگرہ منانا چاہتے ہیں تو ان کو بھٹوز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لوٹ مار سے تائب ہو کر عوامی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ اس کے لیے آج سے ہی یہ پیپلزپارٹی کو بھٹو کی پارٹی بنانے کی کوشش کریں۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کی پارٹی کو قبضہ گروپ کے تسلط سے آزاد کرا کے اقتدار کی لگام اصل پارٹی رہنمائوں کی دسترس میںدیں۔ لوٹ مار، کرپشن اور بدنظمی کا بے رحمی اور سختی سے احتساب کیا جائے۔ اگر بلاول لوٹ مار کا پیسہ قومی خزانے میں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ملک کے تمام قرضے اتر جائیں گے بلکہ ملک سے بجلی و گیس کی قلت سمیت تمام بحران بھی ختم ہو جائیں گے۔ بلاول اپنی والدہ کی سالگرہ پر قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم اور والد محترم کو اس پر قائل کر لیں تو ملک و قوم کی کوئی مشکل باقی نہیں بچے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus