×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فخرالدین جی ابراہیم کی تقرری،جمہوریت کی کامیابی
Dated: 14-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج مجھے 14مئی 2006ء کا دن یاد آ رہا ہے جب لندن میں رحمن ملک کی رہائش گاہ پر پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مابین ’’میثاقِ جمہوریت‘‘کے نام سے ایک معاہدہ ہوا۔جس معاہدے کے بعد دونوں پارٹیوں کے مابین 90کی دہائی کے ذاتی دشمنی تک پہنچے ہوئے اختلافات ختم ہو گئے تھے۔میاں محمد نوازشریف جو بوجوہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ ملاقات پر بھی تیار نہیں ہوا کرتے تھے۔ میثاقِ جمہوریت کے بعد وہ محترمہ کو بہن قرار دیا کرتے تھے۔2008ء کے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران پورے ملک میں ایک خوشگوار سیاسی ماحول کا منظر تھا۔میاں محمد نوازشریف اور محترمہ نے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کوسراہا ضرور تھا مگرتنقید نہیں کی تھی۔یوں لگتا تھا کہ دونوں پارٹیاں،مشرف اور اس کی پروردہ پارٹی کے خلاف اپنے اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔پی پی اور ن لیگ کے درمیان مثالی مفاہمت تھی۔27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیاتو پارٹی کے معاملات آصف علی زرداری کے پاس آ گئے۔انہوں نے بھی مفاہمت کی ڈوری کو ٹوٹنے نہیں دیا۔انتخابات کے بعد بڑی خوش اسلوبی سے انتقال اقتدار ہوا۔ مسلم لیگ ن مرکز میں پیپلزپارٹی کے ساتھ اور پیپلزپارٹی پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت میں شامل ہوئی ۔1990ء کی دہائی کی سخت ترین متحارب پارٹیوں کے درمیان یہ مفاہمت کے عروج کا دور تھا۔اور پھر چند ماہ بعد مفاہمت کے چراغ گُل ہونا شروع ہوئے اور تین سال بعد جب پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت سے نکال باہر کیا گیاتو گویا مفاہمت کے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد بھی کھٹائی میں پڑ گیا۔ میثاقِ جمہوریت پر دستخط محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نوازشریف نے کیے تھے۔آج محترمہ بے نظیر بھٹو دنیا میں نہیں ہیں۔میاں صاحب اور محترمہ کی معاونت کرنے والے تمام کردار بفضل تعالیٰ زندہ و سلامت اور پاکستان کی سیاست میں فعال ہیں۔محترمہ کی معاونت مخدوم امین فہیم،رضا ربانی، سید خورشیدشاہ،اعتزاز احسن اور راجہ پرویز اشرف (اور راقم بھی بانیان میثاقِ جمہوریت کے خاموش مجاہدین میں شمار ہوتا ہے۔کیونکہ 2003ء میں نوابزادہ نصراللہ کے ساتھ میثاقِ جمہوریت کے حصول کے لیے جو سفر شروع ہوا تھا راقم اس میں قدم قدم پر موجود تھااور اس کے بعد میثاقِ جمہوریت پر دستخط ہو جانے تک محترمہ کے ساتھ رہے)نے کی تھی۔نوازشریف کا ساتھ دینے والوں میں شہباز شریف،اقبال ظفر جھگڑا،چوہدری نثار، غوث علی شاہ اور احسن اقبال شامل تھے۔آج میثاقِ جمہوریت کی ایک ایک شق ان رہنمائوں کے آپس میں تعاون کی منتظر ہے۔گو دونوں پارٹیوں کے مابین اختلافات پیدا ہوئے اور وہ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیںمگر جمہوریت تو ایک ہے۔آئین کے تقاضے بھی وہی ہیں۔ایک دوسرے کے لیے ایثار نہ سہی جمہوری اور سیاسی اصول و ضوابط تو نہیں بدلے ان کی خاطر ہی مل بیٹھنا چاہیے۔اختلافات خواہ نقطہ ابال پر چلے جائیں،حزب اقتدار اور حزب اختلاف آئین کی ڈوری میں بندھے ہوئے ہیں۔موجودہ صورت حال میں اپوزیشن کے تعاون کے بغیر آئین میں ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین اختلافات کے باوجود کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی موقع پرمیثاقِ جمہوریت کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔جس کی تازہ ترین مثال فخر الدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنرنامزدگی ہے۔فخر الدین جی ابراہیم کے نام پر حکومتی اور اپوزیشن پارٹی نے اتفاق رائے کیا۔یہی آئین کا تقاضا بھی ہے۔یہ نام مسلم لیگ ن نے پیش کیا تھاجس کو سید خورشید شاہ کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔فخر الدین جی ابراہیم کا نام پاکستان میں احترام کا استعارہ بن چکا ہے۔ وہ کڑے سے کڑے حالات میں گھبرانے والے ہیں نہ کبھی کسی دبائو میں آئے۔طیارہ سازش کیس میں میاں محمد نوازشریف کے وکیل رہے تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اٹارنی جنرل اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے دورمیں گورنر سندھ رہے۔ان کی عمر 84سال ہے وہ خود کہتے ہیں کہ یہ میری آخری اسائنمنٹ ہے۔دوہری شہریت، نئے توہین عدالت قانون اور چار سال بعد الیکشن، ان کی ذاتی رائے ہے۔البتہ وہ جس غیرجانبداری اور شفافیت سے آئندہ الیکشن کرانے چاہتے ہیں وہ کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر ہوں گے۔چونکہ ان کو پارلیمنٹ کے اندر تمام پارٹی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ہر پارٹی نے ثالث مانا ہے۔ اس لیے اگلے الیکشن کے بعدکسی کے پاس بھی ان پر عدم اعتماد کی گنجائش نہیں ہو گی۔فخر الدین جی ابراہیم کی نامزدگی کو مسلم لیگ ن اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔پیپلزپارٹی کا دعوی ہے کہ فخر الدین جی ابراہیم کے نام پر اتفاق رائے میثاقِ جمہوریت کی طرف ایک قدم ہے۔میرے خیال میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرردونوں بڑی پارٹیوں کی کامیابی کے ساتھ ساتھ یہ جمہوریت کی کامیابی ہے اور جمہوریت پسند پاکستانی کی کامیابی ہے۔قوم کو ایسی ہی دیگر کامیابیوں کی بھی آس ہے۔آج ملک و قوم کو بڑے روح فرسا قسم کے بحرانوں کا سامنا ہے جس سے صرف سیاستدان مل بیٹھ کر نکال سکتے ہیں۔عوامی مسائل کے خاتمے کے لیے بھی ان کو ایسا ہی مظاہرہ کرنا چاہیے جیسا فخرالدین جی ابراہیم کی نامزدگی کے موقع پر کیا گیا۔عوامی مفاد کے ساتھ ساتھ میثاقِ جمہوریت کابھی یہی تقاضا ہے اور یہی قوم اور خود سیاستدانوں کے بہترین مفادمیں بھی ہے۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف جس نے حال ہی میں پاکستان بھر میں اپنی سیاسی سپورٹ کا مظاہرہ کیا ہے نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ بھی ایک تیسری قوت کے طور پر میدان میں موجود ہے۔میری ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے التماس ہے کہ میثاق جمہوریت کی رو کے مطابق اگر ہم عمل کرتے چلے گئے اور اس کی راہ میں آنے والی اپنی ذاتی پسند ناپسند اور انا کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔استحکام پاکستان کے لیے جناب فخر الدین جی ابراہیم اور مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب کی صورت ہمارے پاس محب وطن اور مدبر قیادت موجود ہے۔ہمیں ان خداداد صلاحیتیں رکھنے والے دونوں افراد سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔اور آئندہ الیکشن کو پُرشفاف ،آزاد اورجمہوری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں کسی ایک سوچ پر متفق ہوں اگر آپس کی لڑائیاں ہم اسی طرح لڑتے رہے تو جمہوریت کا میل سٹون اپنے سے دور ہوتا چلا جائے گا۔پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف اور سبھی سیاسی پارٹیوں کو پورا حق کہ وہ اپنی سیاست کرے مگر پاکستان کی سلامتی اور بقا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی اندرونی یا بیرونی سازشوں کا شکار بھی نہ ہوں۔ہمارے ازلی اور نظریاتی دشمن مگرمچھ کی طرح منہ کھولے ہماری طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیںاور ہماری کسی ایک حماقت کے انتظار میں ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus