×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکہ کی نظر میں انسانی جان کی قیمت
Dated: 21-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اللہ کے دیئے ہوئے منشور انسانیت(Charter of Humanity)کو جب 633ء میں اللہ کے رسول ﷺ حجتہ الوداع کے موقع پر کھول کھول کر بیان فرما رہے تھے تو یقینا فرشتے بھی صدقے واری جا رہے ہوں گے۔ ان الفاظ پر جو حضرت محمد ﷺ ادا فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کسے کالے کو گورے پر اور کسی گور ے کو کالے پر کوئی برتری نہیں ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری ہرگز نہ ہے اور ہاں اگر کسی کو کوئی برتری ہے تو فقط اس کو جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہے یعنی کہ جس کا تقویٰ بلند ہے۔ جب اس منشور انسانیت کا ببانگ دہل اعلان کیا جا رہا تھا تو تب 1946 کی پیدائش اقوام متحدہ یا ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA)جس کی اپنی کل عمر تقریباً350سال ہے ابھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ کوئی مانے نہ مانے انسانیت کی برابری کا عظیم ترین منشور اسلام نے تقریباً 14صدیاں قبل دیا جو کہ تاقیامت عظیم ترین رہے گا۔خیر جیسے بھی ہو آج کی ماڈرن دنیا اور اس کی ماڈرن حکوتیں اگر 14صدیاں پرانی چیزوں اور اصولوں یر غیر متزلزل درس انسانیت سے پہلوتہی بھی کرنا چاہیں تو ان کی اپنی مرضی لیکن اپنے ہی بنائے ہوئے اداروں اور اصولوں کا احترام تو کرنا سیکھیں۔ یا پھر سب کچھ ختم کرکے جنگل کا قانون نافذ کر دیا جائے تاکہ اس صورت میں کم از کم کوئی قانون تو ہو گا۔ امریکہ اور اس کی اپنی بنائی ہوئی اقوام متحدہ کے انسانیت کے بارے میں بنائے ہوئے قواعد و قوانین اور اصول و ضوابط بہت واضع اور غیر مبہم ہیں۔ دونوں کے قوانین ان کی متعلقہ ویب سائیٹ پہ ایک نظر دیکھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انسانیت کے بارے قوانین اور اصول و ضوابط تخلیق کرتے وقت غیرارادی طور پر دونوں نے 14صدیاں پرانی ’’تعریف‘‘ کو ہی follow کیا ہے۔ دونوں کے قوانین کی نظر میں سب انسان بطور انسان برابر ہیں۔ اور کسی انسان کو کسی دوسرے انسان پر رنگ و نسل یا جنسی اعتبار سے کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ امریکہ میں تو علیحدہ سے ایک قانون موجود ہے جس کے تحت تمام آجروں(employers) کو اپنے hiring فارم کے بالکل اختتام پر ایک لائن لازمی لکھنا پڑتی ہے وہ یہ کہ "We do not discriminate on the basis of religion, color, creed, gender and race." لہٰذا یہ طے شدہ بات ہے کہ 14صدیاں پرانا منشور انسانیت جس کو پھر سے تصدیق کیا اقوام متحدہ نے وہ آج بھی قائم و دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔آج 2012ء میں اس عظیم منشور کی موجودگی میں امریکی ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ کی راہنمائی کرتے ہوئے ’’ڈاناروہرابیکر‘‘(یاد رہے ڈانا روہرابیکر بھارتی حکومت کا لائبیسٹ اور امریکی پارلیمنٹرین ہے)امریکی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کرتاہے کہ ایک انسان (امریکی) کی قیمت پانچ کروڑ امریکی ڈالر ہے اور ساتھ ہی جرأت رندانہ سے کہتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں مرنے والے ہر امریکی انسان کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر فی کس پاکستان سے وصول کی جائے۔واہ واہ سبحان اللہ۔ ’’چوراں دے کپڑے تے ڈانگاں دے گز‘‘انصاف تو اندھا ہوتا ہے لیکن اس امریکی انصاف کی تو لگتا نہ آنکھیں ہیں نہ دل، نہ کان اور نہ ہی دماغ۔ 9/11 سے پہلے پاکستان کو افغانستان سے کوئی پرابلم نہ تھی، پورا مغربی بارڈر محفوظ تھا جس پر ایک سپاہی تک تعینات نہ تھا جہاں اب ہماری ڈیڑھ لاکھ فوج اپنی جانیںہتھیلی پر رکھے پھرتی ہے۔ اس ڈیڑھ لاکھ فوج کی تنخواہیں اور سالانہ اربوں روپے کا اسلحہ و بارود پاکستانی قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کیا جا رہا۔ ایک بہادر اور کمانڈو جرنیل نے ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہوتے ہوئے پاکستان کو اس لایعنی، لاحاصل اور غیروں کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر جھونک دیا۔ حقائق گواہ ہیں کہ یہ جنگ کبھی پاکستان کی تھی نہ ہے اور نہ ہو گی۔ 9/11 کی اس ٹیلیفون کال سے ہوتے ہوئے جب ہم 2012ء کی شکاگو کانفرنس اور ڈاناروہرا بیکر کی امریکی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی قرارداد تک آتے ہیں تو پاکستان نے کھویا ہی کھویا ہے یعنی کہ قومی وقار، عزت نفس، فی کس آمدنی، کاروباراور فیکٹریوں کا بند ہونا، ٹیکسٹائل سیکٹر کا تقریباً50فیصد کا ملک سے باہر شفٹ ہو جانا، بجلی کا مستقلاً نہ ہونا، سوئی گیس اور CNG کی نایابی، زرعی سیکٹر کا ڈائون فال، ظاہری طور پر 70ارب ڈالر کا نقصان جبکہ حقیقی طور پر 500 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کا نقصان اور سب سے بڑھ کے پاکستان کا جانی نقصان جس میں پانچ ہزار کے لگ بھگ آفیسرز اور فوجی جوان جبکہ 45ہزار کے قریب سویلین شہادتیں۔ ان گذشتہ تقریباًگیارہ سالوں میں غیروں کی اس جنگ کے پھل دہشت گردی کے سبب پاکستانی انفراسٹرکچر کی تباہی و بربادی کا نقصان 250ارب ڈالرز سے بھی متجاوز ہے۔ شکاگو کانفرنس کی صورت میں ایک ایسا موقع ہاتھ آیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو کو پاکستانی زمینی حقائق اور نقصانات کے بارے شیشے میں سے منہ دکھایا جاتا۔ لیکن خدا کا کرنا کہ اس اہم ترین موقع پر نہ تو مطلوبہ وژن والی قیادت موجود تھی او رنہ ہی اس اہم موقع کے بارے کوئی مثبت ہوم ورک کیا گیا۔ امریکی قیادت اور نیٹو نے شکاگو میں پاکستان کے ساتھ وہ رویہ روا رکھا جو دیہاتی کلچر میں کمی کمین لوگوں کے ساتھ چوہدری لوگ رکھتے ہیں۔ اور آخرمیں اب یہاں تک کہہ دیا گیا کہ ہم نے تو دعوت ہی نہیں دی تھی۔ ان حالات میں میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ڈانا روہرابیکر کا جس نے پاکستان کو ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے کہ پاکستان اپنا مقدمہ بہترین طریقے سے پھر پیش کر سکے۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا کوئی ایک خوددار رکن بھرپور طریقے سے ہوم ورک کرے اور پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے کہ پاکستان کے باقی جملہ نقصانات تو اپنی جگہ لیکن ڈانا روہرابیکر کی قرارداد کے مطابق طے شدہ انسانی قیمت کے مطابق پاکستان کے شہید ہونے والے 50ہزار آفیسروں، جوانوں اور سویلین انسانوں کی کل قیمت پانچ کروڑ ڈالر فی کس کے حساب سے 25کھرب ڈالرز امریکہ اور نیٹو پاکستان کو فوراً ادا کریں۔ویسے تو جناب صدر کی جتنی عزت افزائی شکاگو میں ہوئی ہے یہ نیک کام انہیں حکومتی پارٹی کے کسی رکن سے کروانا چاہیے وگرنہ پارلیمنٹ میں موجود تمام پارلیمانی پارٹیوں میں سے کوئی ایک تو مردحق اور مرد حُر اٹھے جو ڈانا روہرا بیکر کی ہرزہ سرائیوں کو لگام دے پھر پاکستانی قوم بھی دیکھے کہ اس کے منتخب کون کون سے اراکین ہیں جو اس قرارداد کی متفقہ منظوری کی راہ میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بنتے ہیں۔ آخرکار انسانی خون کا رنگ اور قیمت تو برابر ہے وہ چاہے ہمارے 14صدیاں پرانے لیکن ابدی منشور کے مطابق ہو یا اقوام متحدہ اور امریکہ یا نیٹو کے مطابق۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus