×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نادان دوست۔ اور ہماری ذمہ داریاں
Dated: 23-Nov-2008
ایک بادشاہ سلامت سو رہے تھے اور اس کے پاس اس کا ایک پالتو بندر موجود تھا۔ اور ایک مکھی بار بار بادشاہ کے چہرے پر بھنبھنا رہی تھی جس سے بادشاہ کی نینداور آرام میں خلل پڑ رہا تھا۔ بندر نے بادشاہ سلامت کو اس تکلیف سے نکالنے کے لیے شاہی بستر کے پاس پڑی تلوار اٹھائی اور مکھی کو جو اس وقت بادشاہ کے چہرے پر بیٹھی ہوئی تھی مارنا ہی چاہتا تھا کہ اس درمیان ایک چور گھس آیا جب اس نے دیکھا کہ بندر بادشاہ کے چہرے پر بیٹھی مکھی کو تلوار سے مارنا چاہتا ہے تو اس نے آگے بڑھ کر بندر کے ہاتھ سے تلوار چھین لی۔اس درمیان بادشاہ سلامت کی آنکھ کھل گئی توجس پر بادشاہ سلامت نے اسی وقت بندر کو اپنے محل سے نکال دیا اور انہیں سبق حاصل ہوا ایک نادان دوست سے عقل مند دشمن ہزار درجے بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں حضرت قائداعظم اور علامہ اقبال جیسے رہنما ملے۔ جن کی جرأت مندانہ قیادت کی بدولت مسلمانِ ہند برصغیر میں ایک آزاد ریاست کے حصول میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن حضرت قائداعظم کی رحلت کے بعد ہمیں ان کے پائے کی قیادت میسر نہ آ سکی تاہم جمہوریت کسی نہ کسی صورت قائم رہی۔ پھر جب طالع آزمائوں کے منہ کو آمریت کا خون لگا تو جمہوریت کا پودا ہل کر رہ گیا۔ ڈکٹیٹر جمہوریت پر شب خون مارتے رہے۔ ہمارے ہاں ڈکٹیٹروں کے زیر عتاب آنے کے بعد جمہوریت آسانی سے بحال نہیں ہوتی۔ ہمیشہ قربانیاں دے کر ہی قوم منزل مراد پر پہنچتی ہے۔ جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانیوں کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے: کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا ہر دور کی قیادتوں کی جمہوریت کے لیے قربانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم موجودہ قیادت میں جمہوریت کی قدروقیمت جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب اور شریف برادران سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ پیپلز پارٹی آج مرکز میں اقتدار میں ہے تو جہاں تک پہنچتے پہنچے اس کو اپنے 4بڑوں کی قربانی دینا پڑی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا خون تو ابھی تک خشک نہیں ہوا۔ میاں محمد نوازشریف کی جمہوری حکومت پر شب خون مارا گیا۔ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف سمیت پورے خاندان کو جلاوطنی کی اذیت سے دوچار ہونا پڑا۔ خاندان کے سربراہ سعودی عرب میں انتقال کر گئے تو بیٹوں تک کو تجہیزوتکفین میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔ قوم نے وہ دور بھی دیکھا جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں محاذ آرائی عروج پر ہوا کرتی تھی۔ جس کا خمیازہ بھی دونوں پارٹیوں کو بھگتنا پڑا۔پھر دونوں پارٹیاں اے آرڈ ی کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئیں اس اے آر ڈی کی کوکھ سے میثاقِ جمہوریت نے جنم لیا اور بات فروری 2008ء کے انتخابات تک پہنچی جس میں دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت بھی عروج پر تھی۔ حالانکہ دونوں پارٹیاں الگ الگ حیثیت میں الیکشن لڑ رہی تھیں کامیابی کے بعد دونوں پارٹیوں کا حکومت بنانا نوابزادہ نصراللہ خان کی دونوں پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششوں اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط اور صدر مملکت جناب آصف علی زارداری اور میاں نوازشریف کے مابین مفاہمت ایک دوسرے کے لیے ایثار کا ثمر تھا۔ لیکن اس اتحاد کو نظر لگ گئی جو چند ماہ میں ختم ہو گیا۔ اس میں عقابوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ایسے ہی عقابوں کا جن کی جلوہ افروزیوں سے 80 ء اور 90ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان خلیج پٹنے کے بجائے وسیع تر ہوتی رہی۔ اس دور میں بھی آج کی طرح جعلی تصاویر جہازوں کے ذریعے گرائی گئی تھیں۔ آج پھر تصویروں کا کھیل شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبے میں گورنرپنجاب سلیمان تاثیر صاحب نہ صرف وفاق کانمائندہ ہے بلکہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی جیالوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ ان کو گورنر کی حیثیت سے آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب کو اگر ضروری سمجھیں تو یاددہانی کے خطوط لکھیں اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں صاحب بھی اگر سمجھتے ہیں کہ ان خطوط میں ’’اوور دی رول ‘‘کوئی بات ہوئی ہے تو اس کو واپسی جواب میں وضاحت فرما سکتے ہیں۔ لیکن ایک دوسرے پر الزامات پر لگا کر اور کیچڑا اچھالنا دنیا کے کسی بھی جمہوریت پسند اور مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے جب مرکز میں اقتدار سنبھالا اس وقت مسلم لیگ (ن ) حکومت میں شامل تھی تو دوسری بڑی پارٹی مسلم لیگ (ق) تھی جس کی قیادت قومی اسمبلی میں چودھری پرویز الٰہی کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بغیر کسی حیل و حجت کے فوری طور پر ان کا بطور قائدحزب اختلاف نوٹیفکیشن جاری کر دیا جبکہ قارئین کو یاد ہوگا 2002ء کے الیکشن کے بعد جب پیپلز پارٹی اپوزیشن میں سب سے بڑی جماعت تھی تو جناب مخدوم امین فہیم صاحب کو پانچ سال تک قائدحزب اختلاف بنانے سے گریز کیا گیا اور سیاسی رشوت کے طور پر مولانا فضل الرحمن کو جو کہ پیپلز پارٹی سے کم ووٹ رکھتے تھے نوازاگیا۔اور اب جب مسلم لیگ (ن) مرکز سے الگ ہو گئی تو سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس سے پہلے کہ مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی میں لیڈر چودھری نثار علی خاں کوئی باضابطہ درخواست دیتے ان کا قائدحزب اختلاف کا نوٹس جاری کر دیا گیا اور انہیں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے احتساب کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔جمہوریت کی اس سے خوبصورت مثال برصغیر پاک و ہند اور جنوبی ایشیا میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔گذشتہ دور میں میاں نوازشریف کی حکومت ختم کی گئی اور ان کو جیل میں ڈالا گیا۔ جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور پھر جلاوطن کیا گیا۔ دوسری طرف چودھری نثار صاحب اپنے جرنیل بھائی کی وجہ سے ہمیشہ محفوظ رہے شہیدوں میں نام لکھانے کے لیے فرمائشی اور نمائشی گھر پر نظربندی کا اہتمام البتہ ضروری سمجھا گیا۔اسی طرح رانا ثناء اللہ خاں ایک جمہوری بیک گرائونڈ رکھنے والے سیاسی کارکن ہیں انہوں نے اپنی سیاست کی ابتدا بے شک پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کی اور ان دنوں میاں نوازشریف فیملی کو بالکل اسی طرح تہ تیغ کرتے تھے جس طرح آج مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو کر رہے ہیں۔رانا ثناء اللہ صاحب کو مشرف کے دورحکومت میں اغوا کرکے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور صعوبتیں اور اذیت دی گئی۔ اس لیے رانا ثناء اللہ صاحب جمہوریت کی قدروقیمت کو بخوبی سمجھتے ہیں بات ذاتیات پر آئے گی تو نفرت کی دیواریں ہمالیہ سے اونچی دیوارِ چین سے بھی لمبی ہو جائیں گی جس کی ہماری ناتواں جمہوریت متحمل نہیں ہو سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ نادان دوست اگر مسلم لیگ (ن) میں موجود ہیں تو پیپلز پارٹی میں بھی گھر کی لنکا جلانے کے لیے بے شمار مہم جو موجود ہیں۔میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سلیمان تاثیر صاحب بھی ایسے دوستوں سے جان چھڑا لیں جو نوزائیدہ جمہوریت کو دیمک کی طرح گھن لگا رہے ہیں اور طالع آزمائوں کی یہ فوج ’’یاجوج ماجوج ‘‘کی طرح جمہوریت کی دیوار کو چاٹ کر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ آج مملکت پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد اور یکجہتی ہے۔میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا ان طالع آزمائوں کی نظروں سے بچیں جو جمہوریت کی پٹڑی کو اکھاڑ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے خدانخواستہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیاست اور سیاستدان اس ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔اور آمریت ہی اس ملک کا مقدر ہے اگر خدانخواستہ وطن عزیز کو ہماری آپس کی لڑائیوں سے کچھ ہو گیا تو آنے والے ظالم کے ہاتھ میں جو تلوار ہو گی وہ آندھی ہو گی اور وہ سر کاٹتے ہوئے یہ نہیں دیکھے گی کہ یہ سر پیپلز پارٹی کا ہے یا مسلم لیگ (ن) کا یہ جماعت اسلامی کا ہے یا تحریک انصاف کا۔وہ تلوار یہ بھی نہ دیکھے گی کہ یہ سر سنی کا ہے یا شیعہ کا،دیوبندی کا ہے یا اہل حدیث کا۔ اس لیے ہمیں آنے والے کل کے بھیانک خواب سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور مل جل کر ایک مضبوط پنجاب جو بلھے شاہ کا ہے اور ایک مضبوط پاکستان جو اللہ تعالیٰ کی امانت، حضرت علامہ اقبال کا خواب اور قائداعظم محمد علی جناح کا عظیم احسان ہے اس کی حفاظت کرنا ہوگی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus