×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مادرِ ملّت کی سالگرہ۔ آج عظیم تر پاکستان بن سکتا ہے
Dated: 31-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح کو قائداعظم کے گھر کی دیکھ بھال کرنے والی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا جاتاہے یقینا وہ اس مقام کی حقداربھی ہیں لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ء کے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے دراصل وہ ہمارے لئے مشعل راہ بھی ہیں ۔ یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19سال رہیں یعنی 1929ء سے 1948ء تک سایہ بن کر رہیں اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں یعنی 1946ء سے 1967ء تک لیکن اس دوسرے دور میں ان کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح ابھری اور ان کے افکارو کردار کچھ اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ انہیں بجا طور پر قائداعظم کی جمہوری‘ بے باک اور شفاف سیاسی اقدار کو ازسر نو زندہ کرنے کا کریڈیٹ جا تا ہے جنہیں حکمران اور سیاستدان بھول چکے تھے۔وہ جس طرح قائد کے سیاسی عروج کے دوران ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ رہیں اس سے وہ قائد کی براہِ راست تربیت کے سبب ایک سلجھی ،منجھی اور اعلیٰ پائے کی سیاستدان بن چکی تھی لیکن قائد کی زندگی میں انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ محترمہ کے ایک عظیم سیاستدان ہونے کا احساس اور ادراک، سیاستدانوں کو ہونا چاہیے تھا لیکن انہوںنے بھی آج کی طرح ملک و قوم کے بجائے ذاتی مفادات کو اہم سمجھا، تاآنکہ ایوبی آمریت سے نجات کی سبیل ان کو محترمہ کی ذات میں نظر آئی تو ان کے قدموں میں جا بیٹھے۔ایوب خان میں بانیانِ پاکستان کا احترام ہوتا اور وہ واقعی قائد کے سپاہی اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے حصول کے احسان کے ممنون ہوتے تو مادرِ ملت کے مقابلے میں کھڑے ہی نہ ہوتے۔ اگر ان کو جمہوریت کی کا رفرمائی کا شوق تھا تو انتخابات میں دھونس ،دھاندلی اور بے ایمانی کرکے نتائج نہ بدلتے۔ محترمہ کی اعلیٰ ظرفی ملاحظہ فرمایئے کہ صریحاً دھاندلی کے باوجود بھی نتائج کو تسلیم کیا اور محض ملکی عدم استحکام کے پیش نظر کسی قسم کی تحریک چلائی نہ احتجاج کیا۔ اس دورمیں مادر ملت نے جن آرا کا اظہار کیا ان سے عصری سیاسیات و معاملات پر ان کی ذہنی گرفت نا قابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط نظر آتی ہے۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آمر مطلق نابلد ہے۔ 1965ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات مادرملت کے اس بیان کی تصدیق کرنے کے لئے کافی ہیں۔ مثال کے طور پر مادرِملت نے جن خطرات کی بار بار نشاندہی کی ان میں سے چند ایک یہ ہیں : (1)امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت۔ (2)بیرونی قرضوں کا ناقابل برداشت دبائو۔ (3)غربت اور معاشی نا ہمواریوں میں خطر ناک اضافہ۔ (4)مشرقی پاکستان اور دیگر پس ماندہ علاقوں کی حالت زار۔ (5)ناخواندگی اور سائنٹیفک تعلیم کے بارے میں حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔ (6)نصابِ تعلیم میں اسلامی اقدار اور خاص کر قرآنی تعلیمات کا فقدان۔ (7)جمہوری اور پار لیمانی دستور کی تشکیل میں تاخیر۔ (8)خارجہ پالیسی کے یک طرفہ اور غیر متوازن رویے۔ مادرملت نے اس نوع کے دیگر قومی اور بین الاقوامی معاملات کے بارے میں صاحبان اقتدار اور قوم کوآنے والے خطرات سے آگاہ کرنے والے جو بیانات دیئے وہ ان کی دور رس نگاہوں اور سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ہم نے مادر ملت کے برو قت انتباہ پر کان دھرے ہوتے اور ان خطرات سے بچنے کا اہتمام کیا ہوتا جن کو ان کی نگاہیں صاف طور پر دیکھ رہی تھیں تو آج ہم ان سخت گیر سیاسی‘ اقتصادی اور سماجی بحرانوں کی زد میں نہ ہوتے جن کا ہماری قوم شب و روز سامنا کر رہی ہے اور یہ بات تو یقینی معلوم ہوتی ہے کہ مشرقی پاکستان کا دلخراش سانحہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔ آج وطن عزیز شدید ترین سیاسی ،آئینی اور اقتصادی و معاشی بحرانوں میں گھِرا ہوا ہے۔ ان سے نکالنے کے لیے ہم میں قائد موجود ہیں نہ مادرِ ملت، البتہ ان کی سوچ، ان کا کردار اور ان کے افکار ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ آج قوم محترمہ فاطمہ جناح کی سالگرہ منا رہی ہے ملک کی سب سے بڑی تقریب نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام ہو رہی ہے۔ اگر ہم قائد اور ان کی ہمشیرہ جو قائد کی ہو بہو تصوری تھیں کی سوچ اور سچی سیاست کو اپنا لیں تو تمام بحرانوں سے سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں۔ ہمیں بطور قوم بانیان پاکستان کے فکروفلسفہ کو اپنانا چاہیے تاہم سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ وہ مرکزی حکمران ہوں یا صوبائی سب کو اقبال قائد اور مادرِ ملت کی طرح دیانت داری، ایمانداری اور صداقت کو اپنانا چاہیے۔ اسی کا ان میں فقدان ہے اور یہی مسائل اور بحرانوں کی وجہ بھی ہے۔ صرف ایک کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو آج پھر یہ پاکستان اقبال، قائد اور مادرِ ملت کا پاکستان بن کر دنیا کے آسمان پر روشن چاند ستارے کی طرح عظیم تر پاکستان بن سکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus