×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے
Dated: 07-Aug-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شمالی وزیرستان میں امریکہ بار بار آپریشن کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ یہ محاذ حکومت نے فوج کے سپرد کیا ہوا ہے۔ فوج نے اس حوالے سے امریکہ کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہی جواب دیا کہ وہ اپنے حالات اور معاملات کی جانچ پرکھ کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کہاں آپریشن کی ضرورت ہے۔ امریکہ پاک فوج کو کسی بھی طریقے سے آپریشن پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملوںمیں پاک فوج کے 24سپوت شہید کر دیئے گئے۔ جس پر پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی جس کا حصہ فوجی قیادت بھی ہے نے فوری طور پر نیٹو سپلائی بند کی۔ایک وارننگ کے بعد شمسی ایئربیس خالی کرا لیا جہاں سے ڈارون اڑ کر پاکستانیوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کی وارننگ کو ٹالنے کی بڑی کوشش کی، اپنی اور نیٹو ممالک کی سفارت کاری کو بڑی شدو مد کے ساتھ بروئے کار لایا گیا لیکن پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے قومی موقف کے سامنے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو با لآخر سرنڈر کرتے ہوئے شمسی ایئر بیس خالی کرنا پڑا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قومی قیادت قومی مفاد میں جو فیصلہ کر لے اور اس پر عمل درآمد کا عزم بھی ہو تو سُپر پاور بھی اس کے راستے میں دیوار نہیں بن سکتی۔سلالہ حملوں اور اس کے بعد پاکستان کے سخت اقدامات کے بعد امریکیوں کا شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا تقاضا پس منظر میں چلا گیا جبکہ امریکہ کو نیٹو سپلائی کی بحالی کی پڑ گئی۔ اس کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی 48نیٹو ممالک نے بڑے جتن کیے۔ پاکستان اور امریکہ کے دوست ممالک بھی درمیان آئے۔ لیکن پاکستان کسی صورت سپلائی کی بحالی پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ امریکہ کی طرف سے امداد بند کی گئی اور حملے تک کی دھمکی بھی دی گئی ۔اس پر بھی پاکستان نے کسی لچک کا مظاہرہ نہ کیا۔ حکومت پر زیادہ پریشر آیا تو معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کوسفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ اس کمیٹی میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی تھی۔جس نے بڑی عرق ریزی سے سفارشات مرتب کر کے پارلیمنٹ کے حوالے کردیں۔نہ جانے حکومت کی کیا مجبوری تھی کہ پارلیمنٹ کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے نیٹو سپلائی بحال کر دی گئی۔ جس پر سفارشات مرتب کرنے والی کمیٹی نے شدید احتجاج بھی کیا لیکن فیصلہ وہی فائنل رہا جو سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر کیا تھا۔ ان قیادتوں نے شدید عوامی روِ عمل کو بھی کوئی اہمیت نہ دی ۔ امریکہ کواس کا احساس اور پاکستان کا ممنون ہونا چاہیے تھا ، افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔پاکستان کے لئے نامزد سفیر اولسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنا پڑے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ڈارون حملے بدستور جاری ہیں جو یقینا پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے خلاف ہیں ، اس کے ساتھ ہی امریکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی بے جا مداخلت کرتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کے مطالبے میں پاکستان نے اس لیے لچک دکھائی کہ امریکہ اسے خیرسگالی کا پیغام سمجھتے ہوئے پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک کرے گا۔امریکہ نے پاکستان کے اس قدام کا خیر مقدم کیا۔امریکی حکام نے پاکستان کو یوں خراج تحسین پیش کیا کہ اس اقدام سے پاکستان کا دنیا بھر میں سافٹ امیج سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اقدام کی قدر کرتے ہیں۔ امریکی حکام کا یہ کہنا امریکہ کی مجموعی سوچ کا آئینہ دار ہے۔لیکن حکام نے ساتھ یہ بھی کہاکہ امریکہ کو پاک ایران گیس پائپ لائن پر خدشات ہیں۔ امریکہ کو خدشات اس لیے ہیں کہ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے باوجود اپنا نیوکلیئر پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی نیوکلیئرپروگرام ایران کے مقابلے میں کئی گنا آگے ہے۔ اس پر امریکہ خاموش ہے ۔سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ایران کے پاس زیادہ سے زیادہ ایک ایٹم بم ہو سکتا ہے اسرائیل کے پاس کئی ہیں۔ کل ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہتر ہوئے تو امریکہ ایران دوستی پھر سے ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی ہیں بلکہ برادر اسلامی ممالک بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پڑوسی اور ہم مذہب تو رہنا ہی ہے۔ بوجوہ امریکہ اپنے براعظم تک محدود ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے توانائی بحران کے خاتمے کی بات ضرور کی ہے۔ کیا وہ اسی طرح توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ جس طرح ایران ایسا کرنے کو تیار ہے؟آ ج پاکستان شدید ترین انر جی بحران سے دوچار ہے۔ رواں سال مارچ میںپائپ لائن بچھانے کے لئے ایران نے پاکستان کو 24 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان ایران سے یومیہ 2 کروڑ مکعب میٹر گیس درآمد کرے گا جبکہ اس منصوبے کی تکمیل پر ساڑھے سات ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے میں گیس کی ترسیل کیلئے 2 ہزار775 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی اور اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو اس پائپ لائن کے ذریعے 2016ء میں گیس کی رسد شروع ہو جائے گی۔ معاہدے کے تحت گیس پائپ لائن منصوبہ اگر 31 دسمبر 2014ء تک آپریشنل نہ ہوا تو تاخیر کے ذمہ دار ملک کو 20 کروڑ ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا، اور ظاہر ہے کہ یہ تاخیر پاکستان کی جانب سے امریکی دبائو پر کی جا رہی ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ ایرانی علاقے میں مجوزہ منصوبے کی گیس پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے پاکستان کو خام تیل برآمد کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔ جسے صاف کرنے کیلئے گوادر میں آئل ریفائنری قائم کی جائیگی۔ ڈیڑھ سال پہلے دو پاکستانی آئل ریفائنریز ایران سے تین ماہ کی موخر ادائیگی پر خام تیل خرید کر صاف کر رہی تھیں لیکن اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باعث بینکوں نے ایران کیلئے لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بند کر دیئے جس کے نتیجے میں ایران سے ادھار تیل کی خریداری بند ہوگئی۔ تاہم پاکستان سے تجارتی تعلقات میں اضافے کیلئے ایران نے پاکستان کو ایک بار پھر خام تیل برآمد کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ایران پاکستان کو سستے نرخوں پر بجلی کی فراہمی کی پیشکش بھی کر چکا ہے ۔ تمام تر حالات کے تناظر میں جانچا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لئے کس کی دوستی اخلاص پر مبنی اور سود مند ہے۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ امریکہ اس کا احساس کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہ کرے۔ اسے اپنے مفادات تک محدود رہنا چاہیے۔ پاکستان کو اپنے مفادات کے فیصلے خود کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پاکستان کو بہت سے مسائل علاقائی ممالک کے ساتھ طے کرنا ہوں گے۔ ایران،چین اور افغانستان اس حوالے سے اہم ترین ہیں۔ پاکستان کو امریکہ اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت بھی کیا ہے لیکن اب جبکہ افغان جنگ اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی تو امریکہ افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بڑھانے کے اقدامات کر رہا ہے حالانکہ عملی، فطری، جغرافیائی اور مذہبی حوالے سے بھی پاکستان کا کردار اہم ہے۔عام پاکستانی یہ سوال کرتا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی خاطر جو بھی ممکن تھا وہ کیا۔ آخر وہ اپنا کردار کب ادا کرے گا کہ پاکستان اس کے ساتھ دوستی کا فخر سے اظہار کر سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus