×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یوم تاسیس۔پیپلزپارٹی نے42سال میں کیا کھویا کیا پایا؟
Dated: 30-Nov-2008
آمریت نے اپنا زہریلا پھن پھیلایا ہوا تھا کسی کو دم مارنے کی جرأت نہیں تھی۔ قوم آمریت سے تنگ اور گھٹن محسوس کر رہی تھی لیکن کوئی چارہ گر تھا، نہ چارہ کار۔ ایسے میں ایک مردِ آزاد و بے باک نے آمریت کو اس وقت للکارا جب وہ عروج پر تھی۔ جب جان پر کھیل کر قوم کو راحِ حق پر چلانے کا عزم ہو تو راستے خود بخود کھلتے جاتے اور منزلیں آسان ہوتی چلی جاتی ہیں۔ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کم کم لوگ ہی ہوتے ہیں جن کو غریبوں،مظلوموں اور محکوموں کا احساس ہو۔ ایسے کم کم لوگوں میں امریکہ اور انگلینڈ کا تعلیم یافتہ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو بھی تھا۔ جس نے غریب مزدور،مظلوم،محکوم اور مقہور کو جینا سکھا دیا۔ اپنا حق مانگنا بتا دیا۔ حق پر کٹ مرنے کا چلن سمجھا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے آمریت کو للکارا تو وہ بالکل اکیلے تھے، ایک ساتھی آن ملا پھر دوسرا تیسرا اور چوتھا۔۔۔آج سے ٹھیک 42 سال قبل 30نومبر1967 ء کو ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کی معیت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس پارٹی کی آواز جہاں تک پہنچی وہ آمریت کی تپش میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوئی۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بنتی ہیں، فنڈز اکٹھے ہوتے ہیں، عہدے بانٹے جاتے ہیں، پارٹیاں جوش و خروش سے ٹیک آف کی پوزیشن لے کر رن وے کے دوسرے سرے تک بھی پہنچ نہیں پاتیں۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ڈکٹیٹروں کو اپنے آمرانہ اقدامات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو ہر مرتبہ مسلم لیگ پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو فخر حاصل ہے کہ اپنی اساس سے لے کر آج تک کسی ڈکٹیٹر کی بیساکھی نہیں بنی۔ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو اس وقت کے ڈکٹیٹر کے مقابلے پر آکر محض دو سال بعد ہی ملک کی مقبول ترین جماعت بن گئی تھی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ان کی تربیت سیاسی انداز میں ہوئی اس لیے ان کو سیاست میں اپنا مقام بنانے میں کوئی زیادہ مشکل تو پیش نہ آئی تاہم انہوں نے سامراجی قوتوں اور ڈکٹیٹر کو للکار کر اپنی زندگی ضرور خطرے میں ڈال لی تھی۔ یہی ادا عوام کو پسند آئی اور مختصر سے عرصے میں زمام اقتدار ان کے ہاتھوں میں تھما دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹوشہید نے قوم و ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ اٹامک انرجی کمیشن 1958ء میں قائم ہوا۔ سائنس دان تنخواہ پاکستان سے لے کر خدمت مغرب کی کرتے تھے ان کی سازشوں کو بھانپ کر وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے لے کر آئے تھے جو ذوالفقار بھٹو شہید کے اعتماد پر پورا اترے۔ پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو پاکستان زخموں سے چور چور تھا۔ پھر وطیرہ بن گیا کہ جب بھی پاکستان کی معیشت ڈوبی، حالات بگڑے اقتدار پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے شکستہ پاکستان کی بڑی ذہانت سے رفوگری کی لیکن ایک اور ڈکٹیٹر کی جمہوریت پر نظر بد تھی۔ جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر ایشیا کے عظیم لیڈر کو تخت سے تختے تک لے گیا۔ یہیں سے پاکستان کی بدبختی کا آغاز ہوا۔ پیپلز پارٹی نے ہر دور اور ہر ڈکٹیٹر کا مقابلہ ایسے ہی کیا جیسا ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کیا اور اس کا سبق دیا تھا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو کہ ایک انسان کی خاطر 9زندہ انسانوں نے جو کہ مختلف مکتب ہائے فکر،رنگ و نسل اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور سچے پاکستانی تھے انہوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انسانی تاریخ نے ایک انسان کا ایک دوسرے انسان پر قربان ہونے کا یہ انداز پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ بھٹو کی جان بچانے کے لیے جیالوں نے پروانوں کی طرح جل جل کر شمع کے اوپر فدا ہوئے۔ پیپلز پارٹی کو اب تک چار بار اقتدار ملا۔ پیپلز پارٹی کو معرض وجود میں آئے چاردہائیاں ہو گئی ہیں ہر دہائی میں ایک بھٹوز نے قوم،ملک اور جمہوریت کی خاطر قربانی دی۔ 70ء کی دہائی میں 4اپریل 1979کو ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پھانسی دے دی گئی۔ 18جولائی 1985ء کو ذوالفقار علی بھٹو شہید کے چھوٹے صاحبزادے میر شاہنواز بھٹو کو فرانس میں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ 20ستمبر1996ء کو ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دوسرے اور بڑے بیٹے میر مرتضی بھٹوکو پولیس گردی کے ذریعے شہید کرا دیا گیا۔ 27ستمبر2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ 4دہائیاں اور 4شہادتیں پیپلز پارٹی کے رہنما اصول بھی چار ہی تھے اس نے مقابلہ بھی ایوب، یحییٰ، ضیاء اور مشرف جیسے چار ڈکٹیٹروں کا کیا۔ قوم کی خاطر شہادتوں کا اعزاز صرف پیپلز پارٹی اور خصوصی طور پر بھٹو خاندان کو حاصل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قربانیوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ تاہم قیادت اور وارثوں کا اہل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت عوام کو مایوس کر دیتی تو آج پاکستان پیپلز پارٹی اس ملک کی سب سے بڑی جماعت نہ ہوتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد تین مرتبہ اقتدار میں آ کر پیپلز پارٹی نے ثابت کر دیا کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی مکمل صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہے۔ پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹوشہید کے 30نومبر1967ء کو دیئے گئے اصولوں کو ہی اپنا کر عوامی خدمت کا قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔ mاسلام ہمارا دین ہے۔mسوشلزم ہماری معیشت ہے۔ mطاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ mجمہوریت ہماری سیاست ہے۔ یہ اصول آج بھی ہر جیالے کے لیے روشن مینارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔قوم صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری صاحب،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب سے بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ وہ پاکستان کو اُس منزل مراد پر پہنچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے جس کا تعین جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کیا اور جس کی خاطر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی جان تک قربان کر دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی اساس سے لے کر اب تک عوام کے لیے،قوم کے لیے، اداروں اور خصوصی طور پر فوج کے لیے بہت کچھ کیا لیکن وفا کی اس دوڑ میں پیپلز پارٹی نے چار بھٹوزکو کھودیا۔ آیئے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے یوم تاسیس سے لے کر اب تک اس ملک کے لیے،اس کے قوم کے لیے، اس وطن کے لیے،عالم اسلام کے لیے جو خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس ملک کو دنیا کا پہلا ایٹمی اسلامی ملک بنا دیا اس ملک کے ہاریوں کو زبان دی۔اس ملک کے طالب علموں کو حصول علم کے لیے تعلیمی مراعات دیں۔ اس ملک کے مزدور کو جینے کا حق سکھایا اور اپنے حقوق مانگنے کے لیے بے زبان ’’زبان‘‘ کو الفاظ دیئے۔اس ملک کے عوام کو پہلی دفعہ سیاسی،سماجی شعور دیا۔(جس سے اس کے بدترین دشمن بھی انکاری نہیں)اس ملک کو سٹیل ملز ا ور ہیوی کمپلیکس دیئے۔ اس ملک کے کسانوں کو جو کہ بے زمین تھے ان کو اپنی زمینیں بانٹیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے عالم اسلام کی وہ خدمت کی جو پیغمبر مصطفیٰ ﷺ اور ان کے اصحاب کے بعد کسی اور کو نصیب نہ ہوئی تھی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد دراصل شہیدذوالفقار علی بھٹو کا عالم اسلام پر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا قرض صدیوں تک اتارا نہ جا سکے گا۔ بھٹو خاندان نے ہی اس ملک کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم دی۔ جس سے اسلام کے عورتوں کے حقوق کے فلسفے کی مکمل طور پر پاسداری کی گئی۔بھٹوز نے یوم تاسیس سے لے کر ہر دس سال بعد ایک بھٹو کی قربانی دی۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم نے ایک ایک کرکے تمام بھٹوز کی قربانی لے لی اور ہر دفعہ جب یہ ملک لب جاں تھا اپنے خون کے نذرانے دے کر اس وطن کی آن رکھی۔ لیکن اب ہمارے پاس تو کھونے کو بھی کچھ نہیں بچا ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کو ایک روشن مستقبل اور ایک مضبوط پاکستان دینے کے لیے آج سے ہی جدوجہد کرنی ہو گی اور ہر شخص کو اپنے حصے کی پاکستانیت ادا کرنی ہو گی۔وگرنہ قرضے لے کر اور قربانیاں لے کر پاکستان کو کتنے عرصے تک بچایا جا سکتا ہے۔پاکستان کی موجودہ قیادت نے بھی اس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے جو اصلاحات کی ہیں اور جس ذمہ داری سے اپنے آرام اور سکون کو پس پشت ڈال کر دن رات ایک کرکے بھنور سے اس کشتی کو نکالا ہے اس کے لیے آج یوم تاسیس کے دن اس کے شریک چیئرپرسن اور چیئرمین سمیت پوری ٹیم کو مبارک باد دینا کم از کم ’’اعترافات ‘‘کے مترادف ہے۔آج یوم تاسیس کے دن اللہ تعالیٰ کی امانت اس پاکستان کے ہر فرد ہر شہری کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ میں پاکستان کی آن اور سلامتی کے لیے بھٹوز جیسی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوں۔ وگرنہ ہماری سرحدوں کے اطراف جو حالات ہیں پاکستان کی اساس کے دشمن ایک آسیب کی طرح پاکستان کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور ہر آن وطن کو ان خونخوار بھیڑیوں سے خطرہ لاحق ہے۔ہمیں اپنے اندر چھپے ہوئے دشمنوں سے بھی خبردار رہنا ہوگا کیونکہ اب ہمارے پاس غلطی کی گنجائش تو بالکل ہی نہیں اور پھر جب دشمن دوستوں کے غول میں شامل ہو جائیں تو بچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus