×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لاکر بی اور ممبئی دھماکے۔پاکستان کا جرأت مندانہ مؤقف
Dated: 07-Dec-2008
1986ء میں برلن (جرمنی)بم دھماکے میں 2 امریکی باشندے مارے گئے تو امریکہ نے اس کا الزام لیبیا پر لگایا۔پھر15اپریل 1986ء کو تریپولی اور بن غازی پر ہوائی جہازوں سے بمباری کرکے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کی گئی جس میں درجنوں افراد شہید ہو گئے ان میں کرنل معمر قذافی کی معصوم بچی بھی جام شہادت نوش فرما گئی۔امریکہ لیبیا سے برلن دھماکوں کے ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا پھر 21دسمبر 1988 ء کو پین ایم ایئرلائن کی پرواز 103 کو جو کہ لنڈن سے اڑای تھی اور اس کی منزل جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ نیویارک تھی ہالینڈ کے ایک گائوں ’’لاکربی ‘‘کے اوپر سے گزر رہی تھی تو ایک زوردار دھماکے سے گائوں کے باسیوں کے اوپر قیامت بن کر گِر پڑی اس میں عملے کے افراد سمیت 259 افراد سوار تھے جو لقمہ اجل بن گئے اور لاکربی گائوں کے زیادہ تر رہائشی بھی اپنی جان کی بازی ہار گئے۔امریکہ نے ایک دفعہ پھر لیبیا کو اس کا موردالزام ٹھہرایا اور لیبیا سے مطالبہ کیا کہ وہ لنڈن میں موجود اس کے سفارتی عملہ کے اراکین اور لیبین ایئرلائن لنڈن آفس کے کارگو منیجر کو امریکہ کے حوالے کرے۔ اگلے سال فرانسیسی ایئرلائن کی پرواز یونی اے 772 کو جب وہ نائیجیریا کے صحرا کے اوپر سے گزر رہی تھی اس کو 170افراد کے ساتھ تباہ کر دیا گیا۔ امریکہ،برطانیہ اور فرانس نے دونوں طیاروں کو تباہ کرنے کا الزام لیبیا پر لگایا اور خود ہی ملزم نامزد کرکے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔لیبیا کے انکار پر اس کے خلاف معاشی،دفاعی اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔امریکہ نے اقوام متحدہ کو ہمیشہ کی طرح ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لیبیا کے حکمرانوں اور عوام کو 20سال سے زائد عرصہ تک پابندیوں کا شکار رکھا اس دوران ترقی پذیر لیبیا جو کہ اپنی تیل کی دولت سے مالا مال تھا نہ تو اس کی ایئرلائن پرواز کرسکتی تھی کیونکہ وہ بین الاقوامی فضائی پابندی کا شکار تھی اور نہ ہی لیبیئن طالب علم دنیا کے کسی خطے میں تعلیم حاصل کر سکتے تھے کیونکہ ان کا ملک یو این او چارٹر کے مطابق دہشت گرد سٹیٹ قرار پایا تھا۔ اور لیبیا کے کارخانے، فیکٹریاں بندہونے لگے کیونکہ ان کی عالمی منڈی تک رسائی ناممکن بنا دی گئی۔اور وہ لیبیا جو نارتھ افریقہ کے لیے ایک رول ماڈل سٹیٹ کے طور پر ابھر رہا تھا چند ہی سالوں میں کھنڈرات میں بدلتا ہوا نظر آنے لگا۔مگر لیبیئن عوام نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ صحرا کی ریت کھا لیں گے مگر اپنے معصوم شہریوں کو امریکی اور یورپین انصاف کے حوالے نہیں کریں گے اور پھر جب اقوام متحدہ نے لیبیا سے مطالبہ کیا کہ ان مشتبہ مطلوبہ افرادکے خلاف امریکہ،برطانیہ یا فرانس میں مقدمہ چلایا جائے تو معمر قذافی نے کمال جرأت سے انکار کیا اور صرف غیرجانبدار ملک سوئٹزرلینڈ (جنیوا)میں مقدمہ کی کاروائی کے لیے حامی بھری۔2006ء تک لیبیا نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود 22سال تک بین الاقوامی سازشوں اور صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ پھر بین الاقوامی برادری نے ایک تصفیہ کے ذریعے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور لیبیا کو اس بات پر راضی کیا کہ اب لبیئین عوام کو اس سے زیادہ سیکری فائزنہیں کروایا جا سکتا اور مصالحتی کمیٹی نے یہ فیصلہ دیا کہ لیبیا امریکہ کو مطلوبہ افراد حوالے نہیں کرتا تو وہ تین بلین ڈالر (3کھرب ڈالر)ادا کرے عالمی عدالتوں کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے لیبیا نے ہرجانے کی رقم جو کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قصاص تھا ادا کر دیا۔ اس طرح لیبیا نے اس پر لگائے جانے والے الزامات اور افراد جو مارے گئے تھے ان کو پاکستانی روپوں میں تقریباًایک ارب روپیہ فی کس ادا کرکے اپنی انا اور خودمختاری پر آنچ نہ آنے دی۔ایسا ہی حب الوطنی کا مظاہرہ آج صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے کیا ہے انہوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور وزیرخارجہ پرناب مکھر جی کے غیرحقیقی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے بڑی جرأت اور وقار سے ساتھ اعلان کیا کہ آئی ایس آئی چیف بھارت جائے گا نہ بھارت کو مطلوب دوسرے افراد اس کے حوالے کیے جائیں گے کیونکہ ماضی میں بھی جب پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات ہوئے تو پاکستان نے بھارت سے کچھ مشتبہ کریمنل افراد کی بھارت سے حوالگی کی درخواست کی جو کہ بھارت نے درخوراعتنا نہ سمجھی۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے سی این این کے ٹاپ اینکر مسٹر ’’لیری کنگ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسے مطالبات زمینی حقائق کے بالکل منافی ہیں اگر بھارت ٹھوس ثبوت اور شواہد مہیا کر دے تو ان کی روشنی میں ضروری ہوا تو مذکورہ افراد پر مقدمات پاکستان ہی کی سرزمین پر چلائے جائیں گے۔ صدر مملکت کے یہ جرأت مندانہ الفاظ اس ملک کے سترہ کروڑ عوام کے احساسات تھے جو بھارت اور بین الاقوامی برادری تک پہنچا دیئے گئے۔ دراصل بھارت کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ وہاں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں،عیسائیوں اور سکھوں کے حقوق غضب کیے جانے کی وجہ سے ان میں بے چینی کی جو لہر پائی جاتی ہے اور یہ بے چینی کبھی کبھی لاوا اور کبھی شعلہ جوالا بن جاتی ہے جس کے مظاہرے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ نیلگوں آسمان بھی دیکھ کر سیاہ ہو چکا ہے۔ تامل ناڈو اور آسام کی علیحدگی پسندگی کی تحریکیں پوری دنیا کے لیے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ آسام میں تو چالیس سال سے گوریلا وار جاری ہے پنجاب میں بھی سکھوں کے مذہبی رہنما بھنڈرانوالہ اوراس کے ساتھیوں کے خون سے گولڈن ٹمپل کو سرخ کیا گیا تو انہوں نے اندراگاندھی کی لاش گرا دی۔ جواب میں سکھوں کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کرکے ان کی اب تک نسل کشی جاری ہے۔ تامل ناڈو میں وزیراعظم راجیو گاندھی کو ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک تامل عورت نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے خود کو بم سے اڑا دیا اور وہ اپنے ساتھ راجیو گاندھی کو بھی مار ڈالا۔جبکہ آسام میں آئے دن فوجی چھائونیوں پر حملے معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ان حالات میں جب بھارت میں اتنے تنازعات چل رہے ہوں اور بھارت کی سرزمین سازشوں اور نسلی فسادات کا گڑھ بن چکی ہو تو ایسے میں بھارتی حکمران اور بالی ووڈ کی فلمیں پوری دنیا کو یہ تاثر دینے میں لگی ہوئی ہیں کہ بھارت اہنسا کی سرزمین ہے جہاں پر ہر طرف امن ہے شانتی ہے لیکن آج کے اس آئی ٹی میڈیا کے دور میں بھارت دنیا بھر کے باشعور شہریوں کی نظروں سے گجرات اور احمد آباد کے قتل عام کا خون دھونے میں کامیاب نہیں ہو سکااور نہ ہی بھارت کی سرزمین میں سینکڑوں کے حساب سے گرجوں کو جلانے جیسے واقعات سے دنیا کی نظریں ہٹا سکتا ہے۔چند ماہ بیشتر سمجھوتہ ایکسپریس کو جو کہ بھارت اور پاکستا ن کے درمیان صرف ٹرین کا درجہ نہیں رکھتی بلکہ یہ بھائی چارے اور اخوت اور امن کی پیعامبر ہے کو دھماکوں سے جلا ڈالا گیا جس میں 70کے قریب پاکستانی مسافر زندہ جلا دیئے گئے اور تابوتوں میں بند ان کی ناقابل شناخت لاشیں پاکستان کے حوالے کی گئیں اور بھارت کے حکمرانوں اور میڈیا نے اس کا الزام پاکستان کی ہی مذہبی تنظیموں اور خفیہ ایجنسیوں پر لگایا وہ تو خدا بھلا کرے بھارت کے اینٹی ٹیریرسٹ فورس کے سربراہ ہمینت کرکرے جو اس کیس کی تحقیقات کر رہے تھے انہوں نے ایک بھارتی کرنل پروھت اور انتہا پسند ہندو تنظیم کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا اور پھر بھارت کے تمام جنونی انتہا پسند ہندو ہمینت کرکرے کی جان کے دشمن بن گئے اور پھر کیسا عجیب اتفاق ہے کہ ممبئی دھماکوں میں سب سے پہلا قتل ہمینت کرکرے کا کیا گیا جس سے ممبئی بم دھماکوں کے بہت سے خفیہ گوشے آشکار اور بے نقاب ہو جاتے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے متعدد مواقع پر خطے میں پاکستان اور بھارت سے مل کر معاشی طاقت بننے کی خواہش اظہار کیا اور اپنے ہمسایہ ہم منصبوں کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم بھی یورپ کی طرح بارڈر فری ملک بن کر ایک دوسرے کے عوام کو اس کا ثمر پہنچائیں۔ ممبئی فسادات دراصل صدر پاکستان کی ان کوششوں کو بھارتی خفیہ اداروں کی طرف سے سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کہا جا سکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے الزامات اور دھمکیوں کی وجہ سے پاکستانی قوم جس کو یقینا کرائسس نیشن کہا جا سکتا ہے ایک دفعہ پھر متحدہ ہو گئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین، حامد ناصر چٹھہ، میاں نوازشریف،قاضی حسین احمد، عمران خان، اسفند یارولی، الطاف حسین، محمود اچکزئی جیسے قومی لیڈروں نے حکومت کے ساتھ غیرمشروط یکجہتی کا اعلان کرکے دراصل کروڑوں پاکستانیوں کی آواز پر لبیک کہا ہے۔بھارت جارحیت کی باتیں کرکے حقائق سے چشم پوشی نہ کرے اس جان لینا چاہیے کہ نہ تو پاکستان ’’افغانستان ‘‘ہے اور نہ بھارت اکیلا سپرپاور امریکہ بن گیا ہے۔پاکستان کے پاس بھی وہی بم ہیں جو بھارت کے پاس ذخیرہ ہیں۔اگر بھارت کو بم چلانا آتے ہیں تو پاکستان نے بھی یہ بم بچوں کے کھیلنے کے لیے نہیں بنائے اور نہ ہی اس کو کہوٹہ کے کسی کارشوروم میں سجا کر رکھا ہے اور نہ اس کی سیل لگائی ہے بوقت ضرورت جب قوم کو للکارا گیا تو یقینا پاکستان کی عسکری قیادت اور پاکستان کی سیاسی قیادت پاکستان کے غیوراور حوصلہ مند عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔بھارت کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ وہ ماضی میں کئی دفعہ پاک وطن کی افواج کے ہاتھوں اپنے دانت کھٹے کروا چکا ہے۔ ہم بھارت سے دوستی ضرور چاہتے ہیں مگر عزت،انا اور برابری کی سطح پر۔ آج بھارت کے ہٹ دھرم رویے نے دوستی کی باتوں کو گرداب میں پھنسا کر معاملات کو دشمنی کی انتہائی سطح پر لے جانے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔اور یہ مقاصد حاصل کرنا بھارت کے لیے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہو گیا ہے کہ وہ عالمی برادری میں آج کے اس جدید دور میں ہمیں رسوا کر سکے۔ بین الاقوامی برادری بھی زمینی حقائق کو سمجھتی ہے کہ پاکستان میں پچھلے 8سال سے مسلسل بین الاقوامی برادری کا اینٹی ٹیریرر وار میں ساتھ دے کر اپنے ملک کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا ہے اور آج پاکستان کے ہر شہر اور ہر گلی کوچے میں دہشت گردی، بم دھماکے اور خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ بھارت تو افغانستان میں روسی فوجوں اور طالبان دونوں کے جانے کے بعد پکی پکائی دیگ پر آ کر بیٹھ گیا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے درجنوں سینمائوں میں بھارتی فلموں کی نمائش جاری ہے یہ دراصل پاکستان کے محب وطن لوگوں کے سینوں پر مونگ دلنے کے برابر ہے۔اور کشیدگی کے ان دنوں میں پاکستان کی سرزمین پر بھارتی فلموں کی نمائش پاکستان کے محب وطن عوام کے منہ پر ایک طمانچے کے مترادف ہے۔بھارتی فلموں کے دلدادہ شائقین اور منتظمین اپنے کردار کا تعین کرلیں کیا یہ واقعی محب وطنی ہے؟ ایک طرف بھارت پورے پاکستان کو ’’رحمن چاچا‘‘ بنا کر بین الاقوامی برادری کو جو فلم دکھا رہا ہے اور دوسری طرف بھارتی کلچر اور اس کا زہر پاکستان کے سینمائوں میں ہماری نسل کو زہر آلود کر رہا ہے۔واہگہ بارڈر کھولنے اور آزاد تجارت کی باتیں اور بھارت سے دوستی کی خواہش رکھنے والے خارش زدہ طبقے سے میری درخواست ہے کہ یا تو وہ پاکستانی پاسپورٹ واپس کرکے بھارت چلے جائیں یا پھر اپنا جینا مرنا اس وطن کی عزت اور وقار سے وابستہ کر لیں۔کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ماں کی سہیلی اور بیٹی کی سوکن۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus