×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آج پاکستان کو قائدو اقبال جیسے وژن والی قیادت کی ضرورت ہے
Dated: 30-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com الیکشن کی آمد آمد ہے، چند دنوں میں حکومت نگران سیٹ کا اعلان کر دے گی۔ کوئی بھی حکومت انتخابات کے قریب سخت فیصلے کرنے سے گریز کرتی ہے جس سے اس کا ووٹ بینک متاثر ہو، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ ہمارے حکمران انتخابات کی دہلیز پر بھی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے تکلیف دینے والے فیصلے کرتے ہیں۔ تیل ،گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جاتاہے حالانکہ گیس اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ بجلی کے بلوں میں پرانی مدات میں اضافے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ جس سے عوام حکومت سے سخت نالاں ہیں۔ رانا بھگوان داس رپورٹ میں کہا گیا کہ گیس پر لاگت 17روپے آتی ہے جبکہ یہ فروخت 90روپے کلو تک کی جاتی ہے کیسا اندھیرا ہے کہ ملکی پیداوار کو تیل کی قیمت کے ساتھ منسلک کرکے اس کی قیمت بھی بڑھا دی جاتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو گیس کی قیمت میں 31روپے فی کلو کمی کر دی گئی۔ یہ اب بھی 60روپے کلو ہے جو اصل لاگت سے تین گنا سے بھی زائد ہے۔ ادھر بیرون ممالک سے آنے والی کالوں پر حکومت نے 900 فیصد ٹیکس لگا کر پوری کمیونٹی کو ناراض کیا۔لاہور ہائیکورٹ نے یہ حکم واپس کرکے ریلیف دے دیا۔اگر حکومت نے یہ کمی اپنی طرف سے کی ہوتی تو اس کو بجا طور پر کریڈٹ ملتا۔ اب لوگوں کو عدلیہ نے ریلیف دیا ہے تو لوگ حکومتی ذہنیت سے مزید شاکی ہو گئے۔ حکومت بہت سے دیگر معاملات میں اب بھی عوام کو ریلیف دے سکتی ہے۔ اپنی بے بصیرتی کی وجہ سے حکومت نے ایک کریڈٹ کو ڈس کریڈٹ کر لیا۔ اب دیگر کریڈٹ اپنے حصے میں لے آئے یہی وژن اور یہی آج اس کے مفادات کا تقاضا بھی ہے۔ خلیجی ریاستیںتیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کو ادراک ہے کہ زمین سے تیل کی صورت میں نکلنے والا سونا قیامت تک یونہی نہیں ابلتا رہے گا۔ ان ریاستوں اور عرب ممالک میں تیل کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ اس لیے ان ممالک نے اپنی اکانومی کو مستقبل میں بھی محفوظ اور مضبوط رکھنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ خلیجی ریاستوں نے تو سیاحت کو اس درجہ فروغ دیا کہ ان کی معیشت صرف سیاحت کے باعث ہی مضبوط رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ریاستوں نے اپنے شہر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، تاجروں اور کاروباری لوگوں کے لیے کھول دیئے ہیں۔بہترین حکمت عملی کے ذریعے ان ریاستوں کے صحرا بھی گل و گلزار میں بدل رہے ہیں۔ اگر کسی نے وژن کا عملی روپ دیکھنا ہو تو وہ آپ کو یورپ اور عرب ممالک اور ریاستوں میں نظر آئے گا۔ میں ایک عرصہ تک سوئٹزرلینڈ میں مقیم رہا۔ اس دنیا کے محفوظ ترین اور خوبصورت ترین ملک کے پاس پاکستان کی طرح کے قدرتی وسائل نہیں ہیں۔ اس ملک کے باسیوں نے اتنی محنت کی کہ قدرت ان پر مہربان ہے۔ آپ کو پورا ملک سبزے ،ہریالی اور پھولوں سے لدا پھندا نظر آئے گا۔ پوری دنیا کے امراء اپنے سرمائے کو سوئٹزرلینڈ میں محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس ملک کی معیشت کی مضبوطی میں سیاحت بھی اہم ہے۔ یورپی ممالک میں بجلی کی کمی نہیں اس کے باوجود بھی وہاں بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے لگتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بجلی کی کھپت میں اضافے کے باوجود کبھی بجلی کی قلت نہیں ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تو زیر زمین پانی پینے کے قابل ہے نہ فصلوں کی آبیاری ہو سکتی ہے۔سمندر کا پانی ویسے ہی ناقابل استعمال ہے۔ ایسے میں ان لوگوں نے سمندر کے پانی کا ملٹی پرنپراستعمال نکالا ہے۔ سمندر کے پانی سے بھاپ بنا کر اس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس بھاپ کو بخارات میں نہیں اڑا دیاجاتا بلکہ اس کو پانی میں تبدیل کرکے شہریوں کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہیں پر بس نہیں اس پانی کو ٹریمنٹ پلانٹ کے ذریعے فصلوں کی افزائش کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے ونڈ اور سولر منصوبے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان ممالک نے اگلے بیس سال کے لیے بجلی کی وافر مقدار میں پیداوار کی منصوبہ بندی کر لی ہے جبکہ ہم پاکستانی اس میدان میں 20سال پیچھے ہیں۔ آج سے 20سال قبل بھی بجلی کی کمی تھی، آج بھی ہے ،گذشتہ دور کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر ہے۔اس کی وجہ حکمرانوں کی بے بصیرتی ہے۔ ایسی قیادتوں کو بے بصیرت یا وژن لیس قیادت کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ مجھے آج صدیوں پرانا امام شافعی کی وژن کا واقعہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔ ’’ امام شافعی جامع مسجد بغداد میں موجود اپنے دو شاگردوں ربیع بن سلمان اور اسمٰعیل بن یحییٰ مزنی کے ساتھ علمی گفتگو میں مصروف تھے۔ رواج کے مطابق کئی دوسرے مسافر، بے گھر اور نادار لوگ بھی ادھر ادھر سوئے پڑے تھے۔ اچانک امام نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور مشعل کی روشنی میں سوئے ہوئے لوگوں کو باری باری اس طرح دیکھنے لگا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔ فرزند مکہ امام شافعی کچھ دیر انتہائی انہماک سے اسے دیکھتے رہے اور پھر اپنے مخصوص دھیمے دھیرے اور نپے تلے لہجے میں ربیع بن سلمان سے کہا’’ربیع ! جاؤ اور کسی کے متلاشی اس آدمی سے پوچھو کہ تمہارا وہ حبشی غلام جس کی ایک آنکھ ناقص ہے کہیں غائب یا گم تو نہیں ہو گیا؟‘‘استاد کے حکم کی تعمیل میں ربیع اس اجنبی کے پاس گیا اور امام کا سوال دہرایا تو وہ شخص متعجب سا ہو کر ربیع کے ساتھ ہی امام کے حضور حاضر ہو گیا اور سلام کے بعد بولا ، ’’آپ کے علم میں ہے تو بتایئے میرا غلام کہاں ہے؟‘‘ ۔۔۔’’وہ تو کسی قید خانہ میں بند پڑا ہو گا‘‘ امام نے کچھ ایسے یقین کے ساتھ کہا کہ وہ اجنبی اور خود ان کے ہم نشین حیرت زدہ سا ہو کر امام کو دیکھنے لگے۔ وہ شخص اسی وقت عجلت میں مسجد سے رخصت ہو گیا تو امام دوبارہ اپنے شاگردوں کے ساتھ مکالمہ میں مصروف ہو گئے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص دوبارہ آیا اور عاجزی سے بولا، ’’حضرت! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرا گمشدہ غلام ڈھونڈنے میں میری مدد اور راہنمائی فرمائی‘‘۔۔۔امام کے شاگرد حیران و ششدر یہ سوچ رہے تھے کہ کیا امام کو غیب سے خبریں ملنے لگی ہیں۔ وہ شخص شکریہ کے بعد سلام کر کے رخصت ہوا تو اسمٰعیل مزنی سے رہا نہ گیا تو اس نے بیتاب ہو کر پوچھا ’’اے استاد محترم و مکرم! آپ کو اس شخص کے غلام سے کیا لینا دینا، مکہ سے تشریف لائے ہیں نہ جان نہ پہچان تو پھر یہ سب کیا ہے؟‘‘ امام شافعی ? ہلکا سا مسکرائے اور فرمایا’’یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو اس کی چال ڈھال اور تیور بتا رہے تھے کہ یہ کسی کی تلاش میں ہے‘‘۔۔۔’’درست لیکن آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ وہ کسی غلام کو ہی تلاش کر رہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے غلام کو جس کی ایک آنکھ میں نقص بھی ہو‘‘اس بار ربیع نے سوال کیا تو امام شافعی نے کہا ،’’وہ اس طرح کہ سوئے ہوئے لوگوں میں یہ شخص ادھر زیادہ متوجہ تھا جہاں سیاہ فام حبشی سوئے ہوئے تھے اور پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ ہر خوابیدہ حبشی کی بائیں آنکھ پر زیادہ روشنی اور توجہ دے رہا ہے اس لئے میں نے اندازہ لگا لیا کہ اس کا کوئی ایسا غلام غائب ہے جس کی ایک آنکھ میں کجی ہے۔‘‘ پر جوش شاگردوں نے اگلے سوال پوچھا ’’امام آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ اس شخص کا گمشدہ غلام کسی قید خانے میں ہو گا‘‘امام نے پوری متانت سے کہا ۔ ’’میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور اگر پیٹ بھرا ہو تو بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے سو میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ان دونوں میں سے ایک حالت کا شکار ہو گا جس کا منطقی انجام قید خانہ ہی ہو سکتا ہے۔‘‘ قارئین محترم! آپ کو پتہ چلا کہ وژن کس کو کہتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی اپنے ناک کے آگے سوچنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ صرف اپنی مدت پوری کرنے کی فکر اور اگلے انتخابات میں کامیابی اور اپنے خاندانوں کے مستقبل کو روشن بنانے پر پوری توجہ دیتی ہے۔ آج ہمیں پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اقبال اور قائد جیسے وژن کی حامل ہے۔ یہ قائد و اقبال کی بصیرت ہی تھی کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کو ممکن بنا دیا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus