×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
افواجِ پاکستان کے خلاف عالمی سازش
Dated: 03-Nov-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ سال کے اوائل میں ’’گوگل‘‘ میں یہ پڑھا کہ دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رینکنگ میں آئی ایس آئی کا معیار، کردار اور کریڈیبلٹی کے لحاظ سے پہلا نمبر ہے۔ گوگل پر یہ سب دیکھ کر اسی وقت میرا ماتھا ٹھنکا اور میری چھٹی حس یہ گواہی دینے لگی کہ آئی ایس آئی کی یہ اچھی شہرت اور تعریف کچھ قوتوں کو ایک آنکھ بھی نہ بھائے گی اور پاک فوج اور اس کے ذیلی اداروں کے خلاف جال نہ صرف بُنا جا رہا ہوگا بلکہ شاید بچھایا بھی جا چکا ہوگا(قارئین نوائے وقت کو میرا آئی ایس آئی کے متعلق لکھا ہوا کالم یاد ہوگا)اور پھر یہی کچھ ہوا میرے خدشات درست ثابت ہوئے اور دنیا بھر میں پاک فوج کو بدنام کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کا حملہ اور اس کے تسلسل میں سلالہ، کامرہ اور مہران بیس پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے اور یہ پیغام ہے کہ دشمن ہماری بَری، بحری اور فضائی صلاحیت کو کبھی بھی اور کسی بھی وقت مفلوج کر سکتا ہے۔ اس کے بعد سانحہ ایبٹ آباد رونما کرکے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو سخت پیغام دیا۔ گذشتہ روز آئندہ امریکی الیکشن سے پہلے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک امیدوار باراک اوباما اور مِٹ رومنی نے ایک مباحث کے دوران کہا کہ اگر ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کو پہلے مطلع کرتے تو اسامہ بن لادن ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا۔ امریکی حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار دونوں پاکستانی فوج اور اس کے کردار سے خوش نظر نہیں آتے جبکہ سانحہ ایبٹ آباد پر حکومت پاکستان امریکی سرکار کو مبارکباد دینے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے۔مگر اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے ایوانِ صدر کو تو شاید اس واردات کا پیشگی علم ہو مگر ہمارے انٹیلی جنس اور فوج کے اداروں کو اسامہ کی موجودگی یا امریکی حملے کا پیشگی علم نہیں تھا۔سانحہ ایبٹ آباد کے بعد آئی ایس آئی کو بطورِ خاص ضربِ مشق بنایا گیا۔ سی آئی اے، موساد ،را اور ایم فائیو سمیت ملک کے اندر بلیک واٹر اور امریکی ایجنٹوں نے پاک فوج کو بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نکلنے نہ دیا۔ دشمن کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ہمارے نام نہاد سیاست دان، اینکرپرسنز اور صحافیوں نے اپنے اپنے حصے کا نمک حلال کرنا شروع کر دیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان طبقات کو نوازنے کے لیے تقریباً18ارب روپے فوری طور پر جاری کیے گئے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ یہ ادارے سیاسی کارکنوں اور دینی طالب علموں کو اٹھاتے اور غائب کر دیتے ہیں جبکہ ہر دیدہ ور یہ سمجھتا ہے کہ شکیل آفریدی جیسے ’’رابن ہُڈ‘‘ کو لگام دینے کے لیے کیا ادارے حرکت میں نہ آئیں؟ کیا ان غدارانِ وطن کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ لارنس آف عریبیہ کا بدنامِ زمانہ کا کردار ادا کرتے رہیں؟ کیا بھارت، اسرائیل، امریکہ، روس اور برطانیہ میں انٹیلی جنس ادارے اپنے اپنے ملک کی سالمیت اور تحفظ کے لیے مشتبہ افراد کو کھلی چھٹی دے دیتے ہیں؟ کیا امریکہ نے گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ سیروتفریح و پکنک کے لیے بنایا ہوا ہے؟ پاک فوج پر دوسرا بڑا الزام جمہوریت کو ڈی ریل کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کا ہے اس الزام کی صداقت پر میرے سمیت ہر جمہوری جدوجہد کرنے والے پاکستانی کو یقین ہے مگر کیا ملک میں لگنے والے گذشتہ پانچ مارشل لائوں کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے آمروں کے ساتھ جہازی سائز کی جو کابینہ بنتی رہی ہیں کیا وہ صرف فوجی افسران ہوتے تھے؟ اب سولہ سال بعد اصغر خاں کیس کا فیصلہ سامنے آیا ہے مگر کیا عوام بھول گئے ہیں کہ یہ یہی اصغر خاں صاحب تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو خط لکھا کہ جمہوریت کا بستر گول کر دیا جائے اور ذوالفقار علی بھٹو کو سہالہ کے پُل سے لٹکا کر پھانسی دی جائے۔ کیا یہ وہی اصغر خاں صاحب نہ تھے جنہوں نے بعدازاں پیپلزپارٹی کے ساتھ شراکت داری کرکے لاہور سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا؟ اور بعدازاں انہی کے صاحبزادے مرحوم عمر اصغر خاں آمر مشرف کی کابینہ کے وزیر بنے اور کیا 1971ء،1988ء،1993ء، اور2008ء میں پیپلزپارٹی کو اقتدار کی منتقلی میں فوج کا کردار نہیں رہا؟ اور کیا 1947ء سے 2008ء تک دھاندلی کی تمام وارداتوں کی ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی ہے؟ کیا اس ملک کے مخدوم، نواب، سردار، چوہدری، لغاری، مزاری، ملک، کھوسہ اور خان اور اقتدارزدہ یہ سارے طبقات ان سازشوں میں کلیدی کردار ادا نہیں کرتے تھے؟ کہیں ایسا تو نہیں ’’ماڑے دی زنانی ہُندی بھابھی سبھ دی‘‘کے مصداق ہم نے ہر ستم کے لیے افواج پاکستان کو تختۂ مشق بنایا ہوا ہے؟ یاد رکھیے! اگر ہم نے اس ملک کی نظریاتی اور اساسی سرحدوں کی محافظ فوج کے ساتھ یہی غیروں کا سا رویہ اپنائے رکھا تو خدانخواستہ وہ دن دور نہیں جب ہمارے سر اغیار کے سامنے سربسجود ہوں گے۔ ہماری شناخت گم ہو چکی ہو گی کیا دنیا بھر میں قہر و غضب ڈھانے والی پینٹاگون اور امریکی فوج کے خلاف ان کا میڈیا زبان سے ایک لفظ بھی نکالتا ہے؟ اگر ہم نے اپنے محافظوں کو عزت دینا نہ سیکھی تو خدانخواستہ وہ دن دو رنہیں کہ جب ہماری مائوں، بہنوں کے سر ڈھانپنے والا بھی کوئی موجود نہ ہوگا اور یاد رکھیے ہر ایجنٹ اور غدار کو امریکہ ریمنڈڈیوس جیسا پروٹوکول بھی نہیں دیتا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus