×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکی صدارتی انتخابات ،ہمارے لیے مثال
Dated: 12-Nov-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہم پاکستانی جمہوریت میںمغرب کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کے ہاں جمہوریت، سسٹم خواہ امریکہ کی طرح صدارتی ہو یا برطانیہ کی طرح پارلیمانی ،بڑی کامیابی سے چل رہی ہے۔ہمارے ہاں اُسی جمہوریت میں کیڑے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ ہم نے صدارتی نظام آزما کے دیکھ لیا اور پارلیمانی سسٹم بھی اپنا لیا دونوں بانجھ ہی ثابت ہوئے۔ مروجہ جمہوریت کو دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں فوج کا ہمیشہ سے کبھی پس آئینہ اور کبھی سرِ آئینہ کردار رہا ہے۔ اگر فوج کا پس پردہ کردار نہ ہوتا تو ہمارے سیاستدان ہو سکتا ہے کہ ایٹمی پروگرام کا بھی وہی حشر کرتے جو ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل کا کیا ہے۔ میں لائوس میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور روسی وزیراعظم دتری کے مابین سٹیل مل میں توسیع پر اتفاق رائے کی خبر پڑھ کر بڑا حیران ہوا۔ سٹیل مل کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ اسے کرپٹ انتظامیہ نے گدِھوں کی طرح نوچ کھایا ہے۔ کیا آپ جس رقبے پر سٹیل مل قائم ہے اس میں توسیع کرنا چاہتے ہیں؟سٹیل مل کو پہلے سٹیل مل تو بنا لیں پھر اس میں توسیع کر لیں۔ روس کے ساتھ پاکستان کے 60دہائیوں سے تعلقات میں نہ صرف سردمہری بلکہ تلخی پائی جاتی ہے توسیع کے نام پر کمیشن بٹورنے کے ہتھکنڈوں سے کیا روس کے ساتھ ٹریک پر آتے ہوئے تعلقات کو پھر تشویشناک حالت میں لانا ہے۔ جمہوریت میں عوامی فلاح کے منصوبے بنائے جاتے ہیں لوٹ مار کے راستے نہیں ڈھونڈے جاتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت نما آمریت ہویا آمریت طرز کی جمہوریت ہو، ہر دور میں کرپشن ،لوٹ مار اور اقربا پروری کا بازار گرم رہتا ہے۔ الیکشن ہوتے ہیں تو عوام پرانے لٹیروں کو بھول کر نئے عزم سے قومی خزانے کو نقب لگانے والوں کو منتخب کر لیتے ہیں۔ وجہ ایک ہی کہ شرح خواندگی شرمناک حد تک کم ہے۔ محض پندرہ بیس فیصد اور پھر پڑھا لکھا طبقہ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ رہ سہہ کر میرے خیال میں صرف تین چار فیصد باشعور ووٹر پولنگ سٹیشن پر جاتے ہیںباقی جانے والے جس طرح کے ہوتے ہیں ان کا عکس پارلیمنٹ میں پہنچنے والوں کی اکثریت کو دیکھ کر ہو جاتاہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ آپ جب تک ملک میں ان ملکوں جیسا ماحول پیدا نہیں کریں گے جن ملکوں سے آپ نے جمہوریت کی نقل ماری ہے آپ کے ہاں جمہوریت پنپ ہی نہیں سکتی۔ اس کے لیے اکثر ووٹر کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت نیچے سے اوپر جاتی ہے اوپر سے نیچے نہیں آتی۔ کوئی بھی معاشرہ دیانتداری ،انسانیت اور محنت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمارے ہاں ان کا فقدان ہے۔ اس کو صرف تعلیم سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ ہم امریکہ پر لاکھ تنقید کریں لیکن ان کا جمہوری سسٹم ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ 6نومبر کو ہوئے انتخابات میں پورے امریکہ میں کوئی ہلاکت تو دور کی بات ہے کسی کے جسم سے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔ یہ امریکی الیکشن یوں بھی تاریخ ساز ہیں کہ گوروں نے ایک کالے کو دوسری بار منتخب کر لیا۔اس کو ہم اپنے ہاں برادری ازم کے تناظر میں دیکھیں۔ لسانیت کے سانچے سے پرکھیں، قومیت کے حوالے سے جانچیں تو واضح ہوتا ہے کہ امریکیوں نے نسل پرستی کا منہ کالا کر دیا۔ امریکی صدارتی الیکشن میں ہمارے لیے مزید بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے لیے تقلید کا باعث بھی ثابت ہو سکتی ہیں کیوں کہ ہم بھی الیکشن کے عمل سے گزرنے والے ہیں۔ مٹ رومنی نے ابھی انتخابی نتائج مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ اپنی شکست کو بھانپتے ہوئے تسلیم کیا اور اوباما کو مبارک باددی ۔ اوباما نے بھی جواب میں کہا کہ وہ رومنی کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ہمارے ہاں نتائج آتے ہیں ہارنے والی پارٹی صبر اور بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے فوری طور پر دھاندلی دھاندلی کا واویلا شروع کر دیتی ہے اور یہ بھی دیکھیے سابق صدر بش نے اوباما کی پالیسیوں کی تحسین کرتے ہوئے اپنا ووٹ ان کو دیا۔ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے بش کے خلاف کوئی ریفرنس داخل نہیں کرایا گیا۔ ہمارے ہاں سینیٹ اور اسمبلیوں میں مخالف پارٹی کی حمایت میں چند الفاظ بولنے پر نااہلی کی تلوار لٹکا دی جاتی ہے۔ یہ ترمیم تو ہارس ٹریڈنگ کو رونے کے لیے کی گئی جس کے بعد یار لوگ غول اور طویلوں کی صورت میں خود کو بیچ رہے ہیں۔ امریکہ میں سینڈی طوفان نے 11ریاستوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ یہ الیکشن سے ہفتہ قبل کا سانحہ تھا۔ امریکہ میں تو کسی نے الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا حالانکہ ان کے قانون میں ایسی گنجائش موجود ہے۔ ہمارے ہاں مزید ایک سال حکمرانی کے چائو پورے کرنے کے لیے حالات کی ناسازگاری کے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ 18نومبر کو اصولی طور پر نگران حکومت قائم ہو جانی چاہیے لیکن حکومت کی طرف سے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں۔ وزیراطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ فرماتے ہیں کہ نگران حکومت پر اتفاق رائے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ خدایا جیسی بھی ہے جمہوریت تو ہے یہ کن لوگوں کے ہاتھ میںآ گئی ہے جیسے طوائف تماشبینوں کے چنگل میں پھنس گئی ہو۔ آپ معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانے پر آمادہ نہیں خود تو تعلیم یافتہ ہیں۔اس تعلیم کو ہی بروئے کار لے آئیں اور امریکہ و برطانیہ کی جمہوریت سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔ ان جیسا بننے کی جستجو کریں جن کی جمہوریت کی نقل کی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus