×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ٹورنٹو کینیڈا میں یومِ اقبال کی تقریب
Dated: 17-Nov-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پہلی بار جب میں کینیڈا آیا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ترقی کی اس چکاچوند دوڑ میں جہاں مشینوں ،کمپیوٹر اور روبوٹس کی بات دیکھی، سنی اور بولی جاتی ہے اور ترقی یافتہ یورپین معاشرہ جو تمام ترانسانی اقدار کو بھول کر چاند اور مریخ پر ڈیرے جما چکا ہے ،نام نہاد ترقی کی اس تلملاتی دھوپ میں کسی کی بھی شخص کے پاس تھوڑا سا وقت ہوگا کہ وہ فکرِ اقبال کو جاوداں رکھ سکے۔ میرے ایک دوست ملک آفتاب اعوان نے میرا تعارف ایک ایسے شخص سے کروایا جو نہ صرف اہل فکر کے طبقہ سے تعلق رکھتا ہے بلکہ پاکستان میں بھی بھرپور صحافتی جوانی کا بھرپور دور گزار کر آیا ہے اور اب پچھلے 30سال سے کینیڈا میں مسکن اختیار کیے ہوئے ہے اور یہاں بھی ایک عشرہ سے زائد عرصہ سے لاہور اور ٹورنٹو سے بہ یک وقت ماہنامہ ’’آفاق‘‘ شائع کر رہا ہے اور جس کی ہزاروں کاپیاں ہر ماہ کینیڈا میں بسنے والے پاکستانیوں کو مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ماہنامہ ’’آفاق‘‘ کے چیف ایڈیٹر سید سجاد حیدر پچھلے 30سال سے کینیڈا سمیت پورے ناتھ امریکہ میں قائم پہلی اقبال اکیڈمی کے بانی اور روحِ رواں بھی ہیں۔ اقبال اکیڈمی کے آفس کا وزٹ کیا تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیاکہ وہاں نہ صرف حضرت علامہ اقبال کی لکھی ہوئی تمام کتب کا ذخیرہ موجود تھا بلکہ حیاتِ اقبالؒ سے متعلق تصاویر کو دیواروں پر آویزاں کرکے ایک نایاب آرٹ گیلری کا روپ دیا گیا تھا اور نارتھ امریکہ کے سبھی ممالک کے پڑھے لکھے دانشور افراد کا رابطہ اور ممبرشپ اس اکیڈمی سے بتایا گیا۔ میرے جنوں کی جستجو نے اکسایا تو سید سجاد حیدر سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ فلسفۂ اقبال کو ہماری نئی و پرانی نسل تقریباً فراموش کر چکی ہے جبکہ آپ نے دیارِ غیر میں علم کی یہ شمع روشن کر رکھی ہے تو سجاد صاحب نے مجھے بتایاکہ میں نے اوائل جوانی میں ہی روزگار کی تلاش میں کینیڈا آ کر سکونت اختیار کر لی اور جیسے ہی میں اپنے پائوں پر کھڑا ہوا اور اردگرد پاکستانیوں کا ماحول دیکھا تو مجھے شدید احساس ہوا کہ وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر آ جانے والے پاکستانیوں کی روحانی تربیت کے لیے اقبال اکیڈمی جیسے ادارے کی شدت سے ضرورت ہے جس پر میں نے چند ساتھیوں سے مل کر اقبال اکیڈمی نارتھ امریکہ کا اجرا ء کیا۔ سجاد صاحب نے بتایا کہ یہ کام کوئی آسانی نہیں تھا ایک ادارے کو چلانے کے لیے نہ صرف زربلکہ یقین کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ایک محنت کش کے لیے یہ کام کوئی آسان کام نہیں تھا۔ شروع شروع میں مجھے نہ صرف نام نہاد پاکستانی لیبرل طبقہ کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا بلکہ 9/11کے بعد نارتھ امریکہ میں اس کو جاری رکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا کیونکہ 9/11کے بعد یورپ اور نارتھ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کا امیج بُری طرح متاثر ہوا تھا۔ سجاد صاحب نے مجھے بتایا کہ فکر اقبال سے گہری وابستگی ہی کی وجہ تھی کہ میں نے خود کو بُک پبلشنگ کے رشتے سے جوڑ لیا اور میں اب تک سینکڑوں پاکستانی ہم وطنوں کی تصانیف اور کتب اپنے ادارے کے زیرِ سایہ شائع کر چکا ہوں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ پڑھا لکھا پاکستانی طبقہ نہ صرف آپس میں رابطے میں رہتا ہے بلکہ ان کو گرائونڈ بھی میسرآ جاتی ہے۔ جہاں اسلامی و پاکستانی کلچر اور پاکستان میں بسنے والے اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح فلسفۂ اقبال سے دوری محسوس نہیں کرتے۔ گذشتہ روز 9نومبر کو میں اقبال اکیڈمی کے آفس گیا تو وہاں پر جشن کا سماں تھا۔ درجنوں لوگ شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کی 135ویں سالگرہ کا کیک کاٹنے کے لیے بے قرار تھے۔ اس موقع پر راقم کے علاوہ ملک آفتاب اعوان، سجاد حسین گجر، سرفراز احمد گہوٹی، ڈاکٹر شاہد، سید رضا اور سید سجاد حیدر نے اس موقع پر فلسفۂ اقبال کو اجاگر کرنے کے لیے اور حضرت علامہ اقبالؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقاریر میں کلام اقبال بھی پیش کیا۔ اس روح پرور اور باوقار تقریب کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو میں بہت دیر بیٹھ کر سوچتا رہا کہ آج اقبال کے پاکستان کی جو درگت ہم نے بنائی ہے اور فلسفۂ اقبال سے ہماری دوری اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات و فرمودات کو فراموش کر دینے کے بعد ہماری آج جو حالت ہے یہ ہماری انہیں غلطیوں کا نتیجہ ہے کیونکہ اللہ خود فرماتا ہے’’جیسی قوم ہو گی میں اس پر ویسے حکمران مسلط کرتا ہوں‘‘ آج وطن عزیز میں چہار سو کرپشن، بددیانتی ،لوٹ مار، بدامنی، اقرباء پروری، قتل و غارت، بے ایمانی، دھوکہ فریب، اغوا کی وارداتیں اور چادرو چاردیواری کی پامالی اس بات کے شواہد ہیں کہ ہم سے ایک نہیں کئی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ اگر ہر پاکستانی امیر صحافت جناب مجید نظامی صاحب کی طرح اپنی زندگی فکر اقبال اور فرمودات قائداعظم محمد علی جناح کے لیے وقف کر دے تو کوئی وجہ نہیںکہ اگلے چند سالوں میں ہم بھی ترقی یافتہ اور مہذب قوم کہلاوائیں گے۔ سید سجاد حیدر صاحب اور مجید نظامی صاحب کی طرح چراغ روشن کرنے والے کے لیے میں صرف اتنا کہوں گا: شکوئہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus