×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کو کیا سلیمانی ٹوپی پہنا دی گئی
Dated: 18-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جب مفاد پرست بیوروکریسی حکمرانوں کے کان اور خوشامدی ماتحت سیاستدان آنکھیں بن جائیں تو ہر طرف سب اچھا اچھا کی صدائیں سنائی اور ہر سو سبزہ نظر آتا ہے۔ جہاز سے زمین پر بسنے والوں کا جائزہ لیں تو بجلی و پانی اور گیس کی قلت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے انہیں اپنے حق میں نعرے لگاتے محسوس ہوتے ہیں۔ فاقہ کشی سے تنگ خاندان اپنی اولاد کو برائے فروخت کا بورڈ لگائے بیٹھے ہوں تو جہازی حکمران سمجھتے ہیں کہ یہ پکنک منا رہے ہیں۔ اگر کبھی کبھار گاڑی پر سفر کا اتفاق ہو تو سڑکوں کو شیشے کی طرح چمکا دیا جاتا ہے۔ اردگرد کے درخت دھو دیئے جاتے ہیں ۔ رکی ٹریفک میں فراٹے بھرتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے گمان کرتے ہیں کہ سبزیوں کے لیے ان کی گورنمنٹ نے شاہراہیں کشادہ کر دی ہیں۔ اجلے درختوں اور لشکتی سڑکوں کو دیکھ کر بھی فخر سے گردن میں مزید اکڑ آ جاتی ہے۔ اگر انتظامیہ کی غفلت سے سڑک کے اردگرد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پڑے رہ جائیں تو ان پر بھی حکمران شاہی کی نظرالتفات ہی پڑتی ہے۔گاڑی کے رنگین شیشوں اور پھر ناک پر بیٹھی تحفہ میں ملی عینک سے کوڑے کے ڈھیر بھی آرٹ کا شاہکار نظر آتے ہیں۔ مصنوعی شان و شوکت اور بیوروکریسی و خوشامد پرستوں کی کاسہ لیسی و حاشیہ برداری کا عقدہ الیکشن کے موقع پر کھلتا ہے۔ جب ووٹ کی قلاش بوڑھی بیوہ کے گھر کی خالی ملتی ہیں۔ اس وقت حکمرانوں کی اپنی آنکھیں اور کان کھلتے ہیں، حقیقی صدائیں سنائی اور حقائق دکھائی دیتے ہیں تو اصلاح اور سدھار کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنی حکومت کی کامیابیوں کے کارنامے شمار کراتے کراتے گھر کو سدھار گئے اور وہی کام راجہ پرویز اشرف اپنے پیشرو سے ذرا بڑھ چڑھ کر انجام دے رہے۔ وزیراعظم ہائوس کی قلعہ نما فصیلوں کے اندر ویسے بھی عوام کی آواز نہیں پہنچ سکتی اور بیوروکریسی و خوشامدی مافیا کے علاوہ وہاں کوئی جاتا ہے تو عوام کے مسائل سنانے نہیں اپنے کام نکلوانے جاتا ہے۔وہ بھی وہی بھاشا بولتے ہیں جسے سننے کی ایوان کے اندر بیٹھے حکمران خود کو دیالو سمجھ کر خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے سامنے راجہ پرویز اشرف نے بڑے تفاخر سے کہا کہ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ گذشتہ 25سال کی حکومتوں سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ حکومت نے گذشتہ پونے پانچ سال میں جادو کی چھڑی یا الٰہ دین کے چراغ کے ذریعے اتنے ترقیاتی کام کرائے کہ 25سال کی تمام حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ لیکن عوام کو تو کوئی ایک بھی ایسا کارنامہ نظر نہیں آتا جسے حکومت کا کریڈٹ کہا جائے۔ حکمرانوں نے شاید ایسے ترقیاتی کاموں کو سلیمانی ٹوپی اوڑھا دی ہے جن کو دیکھنے کے لیے جادوئی بصارت یا آنکھوں کی ضرورت ہے۔ بے نظیر انکم سکیم کا بڑاچرچا ہوتا ہے جس کے ذریعے غریبوں،بیوائوں کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے۔ وہ سب کو نہیں، کسی کو ملا، کسی کو نہ ملا، البتہ اس پر قومی بجٹ سے ہر سال 80ارب روپے ضرور خرچ ہوتے ہیں جبکہ ایک ہزار میں ایک من آٹا بھی نہیں آتا ہے۔ یہ غریبوں، مسکینوں، بیوائوں اور یتیموں کی کفالت کی کوشش نہیں بلکہ ان کو بھکاری بنانے کی سکیم نظر آتی ہے۔آپ اس رقم سے ان کے لیے پوری زندگی کے سامان کا اہتمام کر سکتے تھے۔ ان کو گھر بنا کر دیئے جا سکتے تھے۔ فیکٹریاں، کارخانے اور صنعتیں لگا کر ان کو مستقل روزگار فراہم کیا جا سکتا تھا۔ آج ملک میں گیس ہے نہ بجلی، مہنگائی زوروں پر، بیروزگاری عروج پر، لوگوں کے کاروبار ٹھپ ،سرمایہ کاری آنے کے بجائے بڑے بزنس مین پاکستان سے کاروبار سمیٹ کر بیرونِ ممالک لے جا رہے ہیں۔کوئی بھی فرد گلی و بازار میں تو کیا گھروں اور عبادت گاہوں میں بھی محفوظ نہیں۔ ڈارون حملے قومی وقار اور سلامتی پر تازیانہ ہیں۔ آپ کن ترقیاتی کاموں کی بات کرتے ہیں؟ اگر عدلیہ کو آنکھیں دکھانا اور فوج کو للکار کر دھمکایا جانا ترقی کام کے زمرے میں آتے ہیں تو یقینا پی پی پی حکومت نے بڑے ترقیاتی کام کیے ہیں۔ صدر پاکستان نے دو سال قبل شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پرا پنے خطاب میں کہا تھا کہ فلاں فلاں صاحبان سیاست ہم سے سیکھیں۔ آج اسی لہر، لہجے اور فخر سے یہ بات راجہ نے کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہم سیاستدان ہیں، ہمیں کسی سے سبق لینے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے تو والدین، اساتذہ اور زمانے سے یہی سیکھا ہے۔ انسان مہد سے لحد تک سیکھتا ہے۔ سیکھنے کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ راجہ کو نہ جانے مزید سیکھنے کی ضرورت کیوں نہیں رہی۔ وہ پانچ سال کی مدت پوری کرنے کا کریڈٹ اپنے باس کی دانشوری کو دیتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے گذشتہ پانچ سال میں کئی بار دانستہ اور کئی بار نادانستہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی۔ وہ تو بھلا ہو فوج اور عدلیہ کا کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود جمہوریت کی ریل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا۔ باقی جو کارکردگی ہے وہ اس حکومت کے لاڈلے چیئرمین نیب نے یہ کہہ کر بے نقاب کر دی کہ سرکاری سطح پر روزانہ 12سے 14ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا اوڑھنا بچھونا ہی کرپشن ہے۔ کرپشن سے آج ہر پاکستانی نالاں ہے کیوں کہ کرپشن ہی بنیادی طور پر ہر مسئلے اور بحران کا سبب ہے۔ آج کرپشن ہمارے حکمرانوں کر طرئہ امتیاز اور سیاسی ورکرز کو نظرانداز کرکے خواص اور فصلی بٹیروں کو نوازنا اصول بن گیا ہے۔ جس کے تباہ کن اثرات آئندہ الیکشن میں دیکھنے کو ملیں گے۔ جب جیالے ٹی وی چینلز پر ووٹ کاسٹ ہوتے دیکھیں گے۔ اب جیالے پارٹی کو ذاتی مفادات او رمقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے جذباتی نعروں کے جھانسوں میں نہیں آئیں گے یہی نوشتہ دیوار ہے جو حکمران شاید اقتدار کے آسمان سے گر کر زمین پر آئیں تو پڑھیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus