×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صحت مند معاشرے کے دشمن
Dated: 22-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دنیا کے گلوبل ویلیج بننے کے بعد ہر ملک کا دوسرے ممالک پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ کوئی بھی ملک دنیا سے الگ تھلک رہ کر ترقی کی منزلیں طے نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے دنیا کے شانہ بشانہ ہو کر موذی امراض کوڑھ ،جزام اور چیچک سے نجات حاصل کی۔ اگر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ تعاون نہ کرتا تو مذکورہ موذی امراض کے چنگل میں جکڑا ہوا ہوتا۔ آج پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے دنیا میں صرف پاکستان ،افغانستان اور نائیجریا ایسے ممالک ہیں جہاں آج بھی پولیو کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ مرض گو دم توڑتا نظر آ رہا تھا لیکن کچھ ناعاقبت اندیش لوگ اس موذی مرض کے محافظ بن کر سامنے آئے ہیں۔ پہلے تو فاٹا میں پولیو ٹیموں کو قطرے پلانے کے عمل سے اسلحہ کے زور پر روکا گیا۔اب ایک باقاعدہ دہشتگردی کی مہم شروع کر دی ہے۔ دو دن میں کراچی اور خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں ایک درجن افراد کو اس جرم میں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر ان کو زندگی بھر کے لیے لولا، لنگڑا ہونے سے بچا رہے تھے۔ان مارے جانے والوں میں نصف سے زیادہ خاتون ورکرز تھیں وہ بھی رضاکارانہ کام کرنے والی این جی اوز سے وابستہ تھیں۔ اس ظالمانہ اقدام پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان میں پولیو مہم معطل کر دی۔ اگر دہشتگردوں کے خوف سے پولیو مہم کو منسوخ کر دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے کچھ لوگوں کی اس خواہش کی بجاآوری کر دی کہ معاشرے پر معذوروں کا بوجھ لاد دیا جائے۔کیا ہم قوم و ملک کی تقدیر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے سکتے ہیں جن کو اپنے اور معاشرے کے اچھے بُرے کی تمیز نہیں ہے؟ پاکستان کو بوجوہ دہشتگرد ریاست قرار دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ کسی ملک میں پاکستان کے جہازوں کا داخلہ بند ہے، کسی میں پاکستانیوں کا۔ کئی ممالک نے اپنے ہاں آنے والوں کے لیے کئی قسم کے میڈیکل ٹیسٹ لازم قرار دیئے ہوئے ہیں۔ اب پاکستانیوں کو پولیو سے کلیرنس کے سرٹیفکیٹ بھی دینا پڑا کریں گے۔ پولیو کے قطروں کی مخالفت بظاہر یہ کہہ کر کی جا رہی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یونیسف نے قطروں کے ذریعے نسل کشی کی سازش شروع کر رکھی ہے۔ قطرے تو پوری دنیا میں یکساں طریقے سے پلائے جاتے ہیں۔ جہاں امریکہ اور کینیڈا میں بھی وہی طریقہ کار ہے جو پاکستان میں ہے ۔یورپ اور نارتھ امریکہ کی آبادی بلکہ اطمینان طریقے سے بڑھ رہی ہے جبکہ یورپین معاشرے میں بھی وہی ویکسین استعمال ہوتی ہے جو پاکستان میں استعمال ہوتی ہے۔کیا یہ لوگ بھی اپنی نسلیں اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں؟ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے دیگر بہت سے طریقے اور قوانین نافذ ہیں۔ شدت پسند پہلے لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے تھے حالانکہ نبی کریمؐ نے تعلیم کی اہمیت پر یہ کہہ کر زور دیا ہے کہ اس کے لیے چین بھی جانا پڑے تو جائو۔ دین اسلام میں تعلیم کے حصول کے لیے مرد اور عورت کی کوئی تخصیص اور امتیاز نہیں ہے۔ تعلیم اور معاشرے کی صحت کے دشمن آخر وطن عزیز کو پستیوں کی کس گہرائی میں پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا وہ ایک جاہل اور بیمار معاشرے پر اپنی حکمرانی کو آسان سمجھتے ہیں؟ یہ قوم کی خیرخواہی نہیں چند عناصر کی خودغرضی ہے اور اپنے عمل میں وہ کامیاب اس لیے نظر آ رہے ہیں کہ ایک پرامن معاشرے کے اندر انہوں نے بندوق تھام رکھی ہے۔ یہ ملکی تعلیم و ترقی کی راہیں مسدود کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا مریخ اور چاند پہنچ گئی یہ ایک کنویں کو کائنات سمجھ رہے ہیں۔ یہ اسلام کا نام تو استعمال کر رہے ہیں لیکن عملاً اسلام پسند نہیں بلکہ جدت اور اعتدال کے دشمن ہیں۔ معاشرے کو پتھر کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ دین اسلام کے فروغ کے لیے جدید ذرائع بہترین معاون ثابت ہو رہے ہیں لائوڈ سپیکر، ریڈیو، ٹی وی ، وی سی آر اور کیبل کی مذہب کے نام پر پہلے پہل مخالفت کی گئی آج ان سب سے زیادہ استفادہ یہی لوگ حاصل کرتے ہیں۔ پولیو مخالفوں کو بھی شاید اپنی غلطی کا احساس ہر طرف معذور افراد کو دیکھ کر ہی ہو۔کیا کسی بھی گروپ یا گروہ کو اتنی چھو ٹ دی جا سکتی ہے کہ وہ گن پوائنٹ پر معاشرے میں جہالت اور معذوری کا بیج بونے میں کامیاب ہو سکے؟ ہرگز ہرگز نہیں ہم ایک مٹھی بھر اقلیت کے شامت اعمال کے باعث دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ دنیا سے الگ تھلگ ہو جانے کا خوف نہ ہو تو بھی ہم بطور معاشرہ ان پڑھ اور بیماریوں میں مبتلا ہونا برداشت کر سکتے ہیں نہ پسند۔ اس لیے پوری قوم کو متحد ہو کر آٹے میں نمک کے برابر تعداد کے حامل شرپسندوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو جاہل اور معذور معاشرے پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم مسلمان ایجادات میں ایک مقام رکھتے تھے۔ طب، جغرافیہ اور ریاضی میں لاثانی تھے۔ بحریہ کی بنیاد کے بانی تھے۔ جابر بن حیان کے بعد ساڑھے پانچ سو سال سے تہی دامن تھے۔ ہم پاکستانی تو اسپرین کی گولی بنانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ ہم نے خود اپنے اوپر علم اور جدت کے دروازے بند کر لیے ہیں، ان پر قفل اس دقیانوسی فلسفے نے لگا دیا جس کے تخلیق کار تعلیم اور صحت کے دشمن بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کو شکست دے کر ہی ہم اپنی نسلوں کا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح ملالہ یوسف زئی کے کیس میں اس مخصوص مائنڈ سیٹ اپ میں ملالہ کے برطانیہ منتقل کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا اور تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی کہ ملالہ یوسف زئی کا معاملہ ایک ڈرامے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔ کبھی کہا گیا کہ گولی ماتھے کے دائیں طرف لگی تھی پٹی بائیںطرف کیوں لگی ہوئی ہے اور ملالہ کے چہرے پر کوئی گولی کا نشان نظر کیوں نہیں آرہا۔ یوں سمجھئے کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ لیکن ہمارے مخصوص ذہن رکھنے والے احباب یہ نہیں سمجھتے کہ یورپین معاشرے میں انہوں نے ایسی کوئی بھی تصاویر جاری نہیں کرنی تھی جس میں کہ ملالہ یوسف زئی لاچار ،معذور ،بے بس اور ظلم کا نشان نظر آئے۔کیونکہ وہ ملالہ کو ایک بہادر بچی کے طور پر دنیا میں دکھانا چاہتے تھے ۔ ملالہ کی حیران کن صحت یابی اور ’’ریکوری ‘‘نے اس مخصوص ’’ذہن‘‘ کو بڑا اپ سیٹ کیا،جو یہ چاہتا تھا کہ ملالہ کی دنیا کے سامنے تڑپتی ،سسکتی تصویر پیش کرے اور اس طرح وہ دنیا بھر میں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو سکیں۔ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق تعلیم اور اویئرنس حاصل کرنا ہوگی وگرنہ ہم موجودہ دور میں بھی ترقی یافتہ اقوام سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus