×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انتخابات ۔۔بلاول بھٹو زرداری پر بھاری ذمہ داری
Dated: 29-Dec-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تعلیم مکمل کر لی اور اب باقاعدہ سیاست کی وادی میں داخل ہو گئے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر نوڈیرو میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کو نوجوانوں کی امید قرار دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سیاست میں انٹری پر نوڈیرو ،گڑھی خدابخش میں اجتماع سے پرجوش اور ولولہ انگیز خطاب کیا۔ اس خطاب میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ ایسے اجتماع سے یہ بلاول کا پہلا خطاب تھا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ نکھار آتا چلا جائے گا۔بلاول بے مثال سیاستدان بن سکیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ مستقبل میں ان کی کارکردگی سے ہوگا۔ البتہ وہ لاجواب مقرر ضرور بن جائیں گے جسے سیاست میں کامیابی کا جزو سمجھا جاتا ہے۔گذشتہ برسوں کے برعکس آصف علی زرداری کا خطاب اپنے مخالفوں کے خلاف جولانیوں سے محروم رہا جس کو سیاست میں ان کی مفاہمت کی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں نوازشریف نے زرداری صاحب کے حوالے سے ہاتھ ہولا رکھا تو زرداری صاحب کی طرف سے بھی مثبت جواب برسی کے موقع طعن و تشنیع سے گریز کی صورت میں سامنے آیا۔ گذشتہ دنوں نوازشریف نے برملا کہا تھا کہ آصف علی زرداری سے وزارت عظمیٰ کا حلف لینے میں کوئی عار نہیں ہوگا۔ نوازشریف کا مثبت رویہ دیکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے سید خورشید شاہ نے اصغر خان کیس پر مٹی ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا اور یہ باور کرایا تھاکہ حکومت نہیں چاہتی کہ ایف آئی اے نوازشریف کو گھسیٹتی پھرے۔ جس طرح کی مفاہمت کا اظہار نوازشریف کی طرف سے زرداری صاحب کے لیے ہو رہا ہے شہبازشریف کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ عموماً آصف علی زرداری وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی کڑی تنقید اور تند و تیز بیانات کا جواب نہیں دیتے اور یہ فریضہ پارٹی کے رہنما بھی انجام دینے سے قاصر ہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل اور بابراعوان کو کھڈے لائن لگانے کے بعد سے پیپلزپارٹی کا یہ شعبہ ’’ڈھگا گروپ‘‘کے پاس ہے جس سے کبھی ڈھنگ کا جواب نہیں بن پایا۔ جب آپ جیالوں کے بجائے مفاد پرستوں کو آگے لائیں گے تو وہ ایسا ہی ہوگا۔ نئی آمد پارٹی کو تحفظ دینے کے بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں لگن رہتی ہے۔ پارٹی سے کئی جاں نثاروں اور جیالوں کو نکال دیا گیا کچھ مایوس ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔منظور وٹو تین چار سال پیپلزپارٹی میں رہے تو ان کو نیم جیالے بننے کااعزاز حاصل ہو گیا۔ ان پر اتنا اعتماد کیا گیا کہ پورا پنجاب ان کے آگے رکھ دیا۔ یہ جیالوں پر بے اعتمادی کا مظہر ہے۔ خالص جیالے، نیم جیالے کو کیسے برداشت کر لیں؟ نتیجہ ضمنی الیکشن کے دوران پنجاب میں تمام سیٹوں پر ناکامی کی صورت میں دیکھ لیا۔ لطیف کھوسہ کا شمار وفاداروں میں ہوتا ہے بظاہر ان کی کوئی غلطی بھی دکھائی نہیں دیتی ان کو ہٹا کر ایسے شخص کو گورنر بنا دیا گیا جس نے جیالوں کی صف میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ احمد محمود کا کہنا ہے وہ فنگشنل لیگ کو خود نہیں چھوڑیں گے دھکا دیا گیا تو سوچیں گے۔ ایسے سیاستدان سے نہ جانے پارٹی کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے شخص کو گورنر لگایا گیا ہے جس سے اس خطے کے عوام کی محرومیاں دور ہوں گی۔ لطیف کھوسہ بھی تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ان کی گورنری کے دوران محرومیاں کیوں دور نہ ہو سکیں؟ گذشتہ ساڑھے چار پونے پانچ سال سے جیالوں کی محرومیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ پہلے سید یوسف رضا گیلانی نے پارٹی کو یرغمال بنائے رکھا۔ جمہوریت کے ثمرات ان کے خاندان، عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان محدود رہے۔ اب جمہوریت کا پھل نئے وزیراعظم کے عزیزوں اور حواریوں تک محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے۔داماد کو ورلڈ بینک میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو لگا دیا گیا جس سے بدنامی پارٹی کی اور شرمندگی رہے سہے جیالوں کو اٹھانا پڑ رہی ہے۔ اب جبکہ الیکشن سر پر ہیں۔ پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ نے اپنی پالیسیوں اور کارکردگی سے پارٹی کا بیڑہ منجدھارمیں پھنسا دیا ہے۔ وہ کونسا بحران ہے جس میں ملک و قوم مبتلا نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت، انرجی بحران، اقرباپروری، کرپشن اور رشوت ستانی جیسے مسائل اور مصائب عوام کا مقدر بنا دیئے گئے۔ الیکشن مہم میں نہ جانے پارٹی قیادت کونسا نیا ایجنڈا، نعرے اور دعوے لے کر جائے گی؟ سیاسی کشتی منجدھار میں پھنسی ہے تو قیادت کا سہرہ بلاول بھٹوزرداری کے سر باندھ دیا گیا ہے۔ اس اکیلے کو پارٹی لیڈرشپ کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جوشیلی تقریر میں جہاں دہشتگردی کے خلاف لڑنے کا عزم ظاہر کیا،روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے کو عملی جامعہ پہنانے پر زور دیا وہیں اپنی شہید والدہ کے قاتلوں کو سزا نہ دینے کا ملبہ عدلیہ پر ڈال دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کے انکل چھوڑ گئے۔ بلاول بھٹو کو جو سبق ان کے انکل پڑھا رہے ہیں وہ ان کو سیاسی پٹڑی سے اتار سکتا ہے۔ ابھی تو محترمہ کے قاتل بے نقاب نہیں ہوئے عدلیہ سزا کیسے دے دے۔ محترمہ کے قاتلوں میں تو بلاول کے انکلوں کا بھی نام آتا ہے ان کو بلاول عدالت کے کٹہرے میں لے جائیں۔ اگر پھر بھی عدلیہ ان کو سزا نہ دے تو ان کا عدلیہ پر اعتراض بنتا ہے۔جب یہی انکل بلاول کی رہنمائی پر مامور ہوں گے تو ان کی اصلیت کیسے سامنے آئے گی؟ عین الیکشن کے موقع پر نحیف و نزار اور کرپشن کے الزامات اور نااہلی کے طعنوں کے نیچے دبی پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو کے ہاتھ آئی تو اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بلاول کو اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا ہوں گے۔ ان کو روایتی انکلوں پر اعتماد کے بجائے پارٹی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو آگے لانا ہوگا۔ ناراض جیالوں کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش کرنا ہو گی اور الیکشن سے قبل کے دو تین ماہ میں عوام کش پالیسیوں کو تیاگ کر عوام کو ریلیف دینے کا چارہ کرنا ہوگا۔ جمہوریت کے ثمرات اگر دو تین ماہ ہی عوام تک پہنچا دیئے جائیں تو آج بھی لڑکھڑاتی ہوئی پارٹی سنبھل سکتی ہے۔ یہی انتخابات کی آمد کا تقاضا بھی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus