×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدرصاحب! موت سے نہ ڈریں
Dated: 12-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھے آج بھی یاد ہے کہ اڈیالہ جیل میں، میں آج کے صدر مملکت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور اس دور کے قیدی جناب آصف علی زرداری کا ساتھی تھا۔ جیل میں آصف صاحب کی جراتِ رندانہ قابلِ دید تھی۔ ان کے چہرے سے قیدوبند کی تلخی کبھی عیاں نہیں ہوئی تھی۔ وہ جس طرح سے وزیراعظم ہائوس میں ہشاش باش اور خوش باش تھے جیل میں بھی اسی طرح ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔انہوں نے جیل کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ میرا حوصلہ بڑھایا کرتے تھے۔ وہ کہتے کہ منزل کی جستجو میں جیل اور قید جیسی مشکلوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ مشکلوں سے گزر کر ہی آسانیاں آتی ہیں۔ آپ کا دشمن جو بھی کر لے اوپر والے کی مرضی کے بغیر آپ کا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتا اور جو رات قبر میں آنی ہے پوری دنیا کے وسائل اور محافظ بھی آپ کے ساتھ ہوں تو بھی بچا نہیں سکتے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی یہی ایمان اور اعتقاد تھا۔ آصف علی زرداری 19دسمبر سے 10جنوری تک کراچی میں کسی جوتشی، جوگی اور پیر فقیر کے کہنے پر موجود رہے۔اس نے صدر مملکت کو باور کرایا تھا کہ ان کا پہاڑوں کے نزدیک رہنا خطرناک جبکہ ان دنوں میں سمندر کے قریب ہونا نیک شگون اور متبرک ہوگا۔ یہ جان کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا یہ وہی آصف علی زرداری ہیں جو مجھے منزل کے حصول کی خاطر موت سے بھی لڑ جانے کا درس دیا کرتے اور یقین دلایا کرتے تھے کہ زندگی اور موت صرف اور صرف وحدہٗ لاشریک کے ہاتھ میں ہے۔ جو پیر فقیر، جوگی اور جوتشی آپ کو زندگی کے خطرات سے آگاہ کرتے اور موت سے بھی محفوظ ہونے کا یقین دلاتے ہیں وہ خود ہزاروں سال کی زندگی جیتے۔ آج کیا کہیں بھی کوئی بنگالی بابا، سامری جادوگر کا چیلا یا کوئی گرو سو سال کا بھی نظر آتا ہے؟ زندگی اور موت کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے انبیاء کی حیات مشعلِ راہ ہے۔ سرورِ کائناتؐ، محبوبِ کبریاؐ جن کے لیے خدائے بزرگ و برتر نے پوری کائنات تخلیق کی وہ دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو خدا نے مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ رکھا اور حضرت ادریسؑ نے درخت سے پناہ طلب کی تو پناہ لینے کے باوجود وہ محفوظ نہ رہ سکے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس سے کسی کے لیے بھی فرار ممکن نہیں۔ آپ سمندر کی تہہ سے نکل کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ جائیں یا ہمالیہ سے اتر کر سمندروں کی تہہ میں اتر جائیں، پاکستان میں رہیں یا امریکہ و برطانیہ میں، کلیسا میں بسیرا کر لیں یا مسجد و مندر میں، موت ہر جگہ آئے گی اور جس طرح لکھی ہے اسی طرح آئے گی۔ آصف علی زرداری ایک منجھے سیاستدان اور جہاندیدہ بزنس مین ہیں۔ انہوں نے جس ہمت کے ساتھ جیل کاٹی اور جلاوطنی کی زندگی کو حقارت کی نظر سے دیکھا۔ اس کردار کی بدولت لوگ ان کی بہادری و جرأت مندی کی مثالیں دیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب کو انجوائے کیا۔ 18کروڑ عوام کی تقدیر ان کی مٹھی میں بند رہی۔ ان کی قیادت میں نامساعد حالات کے باوجود پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ اقتدار کو ایک دن زوال آنا ہے اور موت کا بھی ایک دن معین ہے ،دونوں کے جانے کا غم کیسا؟صدر مملکت تو شہیدوں کی پارٹی کے جاں نشیں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو استعماری قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔ انہوں نے اس وقت کی طاقت کے محور کے ہاتھوں موت قبول کرلی جبکہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ اہلیہ محترمہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو نے تو ان کے لیے کسی پیر فقیر کا بندوبست نہیں کیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شہادت کا رتبہ پا کر حیاتِ جاوداں پا گئیں۔ ان کو اپنی شہادت کا یقین تھا۔ انہوں نے تو اپنے قاتلوں کی نشاندہی بھی کر دی تھی۔ مشرف نے شہید محترمہ کو پاکستان آنے سے روکا پھر وہ پاکستان آئیں تو ان کو پاکستان چھوڑنے پر آمادہ کیا ۔ کراچی میں حملہ کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر غیر محفوظ تھی لیکن وہ عوامی حقوق کی علمبرداری کا فریضہ ادا کرنے کا عزم ظاہر کرتی رہیں کہ بالآخر ظالموں نے ان کی جان لے لی۔ ہم پارٹی کی پالیسیوں سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں۔ مجھے اپنی ہی پارٹی کے مقتدر ہوتے ہوئے جبری جلاوطنی کا سامنا ہے۔لیکن میرا دل آج بھی پارٹی کے لیے دھڑکتا ہے۔ شہید بھٹو کے جاں نشینوں سے بڑی بڑی توقعات وابستہ تھیں جو دم توڑتی چلی جا رہی ہیں۔ آج یہ بھٹوز کی پارٹی تو نظر نہیں آتی پھر بھی ایک اطمینان سا ہے کہ نام وہی ہے جو ایک شہید نے اسے دیا اور دوسرے نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی۔ میرے جیسے پارٹی کارکردگی سے مایوس جیالے پارٹی قیادت سے بھٹوز جیسے جذبے کی امید رکھتے ہیں۔ جیالا ہونا ایک اعزاز ہے اور پارٹی پر قربان ہو جانا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے۔ صدر مملکت موت سے نہ گھبرائیں۔ یہ خوفزدہ ہونے والوں اچک بستی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنا کرنے والوں سے کنی کتراتی ہے۔ صدر محترم اسلام آباد میں تشریف لے آئیں تاکہ امور مملکت میں خلل نہ آئے۔ اول تو وہ سنت سادھوئوں کو موت کا مداوا نہ سمجھیں، اگر ان کی ماننی ہے تو ان کو ساتھ اسلام آباد لے آئیں۔ پارٹی کے لیے طعنہ نہ بنیں کہ شہیدوں کی پارٹی کاوارث موت کے ڈر سے کراچی میں چھپا ہوا ہے۔موت آنی ہے تو زمین کی پاتال سے بھی عزرائیل روح قبض کر لے گا۔ نہیں آنی تو بم، گولی، بارود اور آگ بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus