×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یومِ یکجہتی کشمیر۔ شہید بھٹوز کی سوچ اور ان کے جاں نشینوںکا کردار
Dated: 05-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان اور بھارت کی دوستی کے بغیر جنوبی ایشیا میں کسی بھی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ جنوبی ایشیا میں امن اور بدامنی کے اثرات عالمی امن پر بھی پڑتے ہیں۔ اگر آج جنوبی ایشیا بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے تو اس کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جو ہندوستان کا پیدا کردہ ہے۔ تقسیمِ ہند کے تمام قواعد کے مطابق پوری وادیٔ کشمیر پاکستان کا حصہ بننا تھی لیکن اس پر بھارت نے جارحانہ قبضہ کر لیا جو بدستور جاری ہے۔پاکستان کی بقا براہ راست کشمیر سے وابستہ ہے۔ہماری رگوں میں کشمیر سے آنے والے دریائوں کا پانی خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کوئی بھی ذی روح شہ رگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر شہ رگ پر دشمن کا انگوٹھا ہو تو پھر زندگی اور موت کا فیصلہ امن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔آج پاکستان کی شہ رگ پر پاکستان کے بدترین دشمن کا انگوٹھا ہے۔ بھارت کی پاکستان سے دشمنی مسلمہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں ان جنگوں کی بنیادی وجہ متنازع کشمیر ہے جو ہنوز حل طلب ہے۔ 71ء کی جنگ میں تو بھارت نے اپنی سازشوں ،جارحیت اور پاکستان کے غداروں کو ساتھ ملا کر ایک آزاد، خودمختار اور سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ مشرقی بازو کو مغربی بازو سے کاٹ کر رکھ دیا۔ ایسے دشمن سے بھلائی کی توقع ، خام خیالی ہے۔ بدقسمتی سے قائداعظم کے بعد کسی حکمران نے کشمیر پر قائداعظم جیسی کمٹمنٹ نہیں دکھائی سوائے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے۔قائداعظم نے تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنرل گریسی کو کشمیر کی فوج کے ذریعے آزادی کا حکم دیا تھا۔ جنرل گریسی نے یہ جواز پیش کیا کہ اس کا کمانڈر فیلڈ مارشل ایکنلک ہے جو بھارتی فوج کا بھی سربراہ ہے۔ ایک ہی کمانڈر کی قیادت میں دو افواج کا برسرپیکار ہونا مناسب نہیں۔ بعدازاں مجاہدین نے کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیا تھا جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ قائداعظم کے جنرل گریسی کو کشمیر کو فوجی قوت کے ذریعے آزاد کرنے کے حکم سے قائداعظم کی کشمیر پر کمٹمنٹ کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ایسی ہی کمٹمنٹ ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے افعال اور کردار میں بھی نظر آتی ہے۔ 65ء میں وہ بطور وزیر خارجہ کشمیر کی آزدای کے لیے پرعزم نظر آتے تھے۔ انہوں نے ہی کشمیر پر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا برملا اعلان کیا تھا۔ ان پر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے، اس کا ان کو بھی ادراک تھا۔ وہ اس داغ کو کشمیر کی آزادی کی صورت میں دھونا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ ایسا طریقہ کار اپنانے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے جو مکمل طور پر کارگر ہو۔اس کے لیے ان کے ذہن میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا خیال آیا اس کو عملی شکل دینے کے لیے انہوں نے ایٹمی پروگرام شروع کیا جس کے لیے خود ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی خدمات پیش کی تو بھٹو صاحب نے ان کو کام کا آدمی سمجھ کر پوری ذمہ داری ان کے حوالے کر دی جس کو ڈاکٹر خان نے پوری ایمانداری سے نبھایا۔ لیکن پاکستان ایٹمی طاقت بنا تو طاغوتی اور استعماری قوتیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جان لے چکی تھی۔بھٹو صاحب نے جس کاز کے لیے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی وہ کاز ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔ آج پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے جان نشینوں کی حکومت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کشمیر کے لیے جو کچھ کیا ان کے جاں نشینوں کی پالیسی اس سے قطعی برعکس ہے۔آج پورے پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پورے پاکستان میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ یہ دن بنانے کا آغاز محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1990ء میں کیا تھا۔ اس کے بعد سے یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال پورے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے لیکن بات صرف یہ دن منانے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔حکمران پارٹی میں کشمیر کی آزادی کا کوئی عزم و حوصلہ نظر نہیں آتا۔ قائداعظم نے جس ملک کو دشمن سمجھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو آزادی کے لیے جو اہتمام کیا ان کے جاں نشین اس سوچ سے کہیں دور ہیں۔ معاملات اس نہج پر رہے تو کشمیر کی آزادی کبھی ممکن نہیں رہے گی۔ جس دشمن کے ساتھ آپ چار جنگیں لڑ چکے ہیں اس سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہندوستان آج بھی پاکستان کو آزادی کے پہلے دن کی طرح برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ کبڈی ٹیم، بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھارت میں معاندانہ رویہ رکھا گیا وہ ہندو کی پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ خواتین کی کرکٹ ٹیم کو ہوٹل تک نہیں دیاگیا۔ کنٹرول لائن پر جارحیت بھارت کا وطیرہ بن گیا ہے۔ پاکستان میں اس کی دہشت گردی کے مسلمہ ثبوت موجود ہیں۔ آپ اس دشمن کو تجارت کی سہولتیں دے رہے ہیں۔ دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ وزیر تجارت امین فہیم تو بھارت کے زیادہ ہی فین ہیں ان کے مشورے پر حکومت بھارت کو پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دینے پر تُلی ہوئی ہے۔ کیا ایسا کرنا شہید بھٹوز کے جاں نشینوں کے شایانِ شان ہے؟ یہ سراسرکشمیر کاز سے بے وفائی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus