×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا ہم صادق اور امین ہیں؟
Dated: 23-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ روز قومی اسمبلی میں انسدادِ دہشتگردی کا بل منظور کیا گیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کی املاک ضبط کی جا سکیں گی اور ان کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ عالمی سطح پر ابھی دہشتگردی کی متفقہ تعریف سامنے نہیں آ سکی۔ جس طرح ہر قوم کے ہیروز الگ الگ ہیں اسی طرح دہشتگرد بھی تمام اقوام کے لیے متفقہ نہیں ہیں۔اسامہ بن لادن کو پوری مغربی دنیا دہشتگرد قرار دیتی ہے۔ اسلامی ممالک میں اسامہ کی حیثیت متنازعہ ہے۔ امریکہ نواز حلقے کی نظر میں وہ دہشتگرد جبکہ اسلامی ممالک میں ایک بہت بڑا حلقہ اسامہ کو ہیرو قرار دیتا ہے۔ مقبول بٹ اور افضل گورو بھارت کی نظر میں دہشتگرد ٹھہرے تو دونوں کو پھانسی دے دی گئی۔ ہمارے نزدیک کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ دہشتگرد تھے۔ افضل گورو اور مقبول بٹ کی جو حیثیت کشمیریوں اور پاکستانیوں کے لیے ہے وہی کشمیر سنگھ اور سربجیت کی بھارتیوں کے لیے ہے۔ پاکستانی اگر ایک قوم ہیں تو یہ بھی فرقوں اور گروپوں میں تقسیم ہیں۔ ان فرقوں، گروہوں اور لسانی گروپ کے بھی ہیرو عموماً متفقہ نہیں ہیں۔ ایک تفرقہ دوسرے کو دہشگرد اور کافر تک قرار دے دیتا ہے۔ رحمن ملک کئی بار مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت پر دہشتگردوں کی سرپرستی اور ان کی پشت پناہی کرنے کے الزام لگا چکے ہیں۔ مذکورہ بل کو کیا مرکزی حکومت ن لیگ کی پنجاب حکومت پر لاگو کرے گی؟اس کا فیصلہ کس نے کرنا ہے کہ دہشتگرد کون ہے اور اس کی مالی معاونت کس نے کی؟رحمن ملک کی وزارت داخلہ کے دہشتگرد اور ہیں، پنجاب کی وزارت داخلہ کے اور، کراچی میں پیپلزپارٹی کی نظر میں دہشتگرد کوئی اور جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی نظر میں کوئی اور۔ پہلے مل بیٹھ کے دہشتگردی کی ایک تعریف پر کم از کم اندرونی سطح پر تو اتفاق کر لیا جائے اس کے بعد دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جائے۔موجودہ حالات میں مذکورہ بل لا کر پارلیمنٹ کا وقت اور قوم کا سرمایہ ضائع کیا گیا ہے۔ یہ بل قابل عمل نہیں ہے۔ اسی لیے اس بل کی منظوری کے موقع پر پارلیمنٹیرین نے کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ نہ جانے یہ کن کے مفادات کے لیے منظور کیا گیا ہے؟جس روز یہ بل منظورا ہوا پارلیمنٹیرین دیگر موضوعات پر پرجوش نظر آئے۔ اراکین پارلیمنٹ اس بات پر خفا ہیں کہ ان کو ڈگریوں کے متعلق خطوط کیوں لکھے جاتے ہیں۔اس چیز کو وہ اپنی بے عزتی خیال کرتے ہیں حالانکہ اگر آپ ٹھیک اورصحیح ہیں تو پھر آپ کو الیکشن کمیشن سے تعاون کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟دراصل پچھلے پانچ سالوں میں برسراقتدار اور حزب اقتدار دونوں ایک کام ہی کیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے پانچ سالہ ٹرم پوری کی ہے جبکہ عوام الناس کو ان پانچ سال کے عرصہ میں پانچ منٹ کے لیے بھی سانس لینا محال تھا۔ میرا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مسلم لیگ ن ا ور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین سیاسی اختلافات ذاتیات اور دشمنی کی نہج پر دکھائی دیتے ہیں لیکن جہاں مشترکہ مفاد کی بات ہوتی ہے تو تمام اختلافات ضمنی اور ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ انتخابات ہر صورت شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونے چاہئیں۔ جس کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور پارلیمنٹ میں موجودہ سیاسی جماعتوں کے مقرر کردہ چاروں ارکان پرعزم نظر آتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کی ایسی آنکھ لگی کہ جعلی ڈگریوں اور دہری شہریت والے پارلیمنٹ میں جا پہنچے۔ اب فعال الیکشن ایسے جعلسازوں، دھوکہ بازوں، ٹیکس چوروں اور بدعنوانوں کا راستہ روکنا چاہتا ہے تو سارے پارلیمنٹیرین الیکشن کمیشن کے خلاف متحد ہو گئے ہیں۔ جس کے پاس اصل ڈگری ہے اس کو چیک کرانے میں اعتراض کیوں؟ اگلی پارلیمنٹ میں جانے والوں کے لیے گریجوایشن کی شرط ختم ہو چکی ہے لیکن 2008ء اور قبل ازیں 2002ء کے انتخابات کے دوران جن لوگوں نے جعلی ڈگریاں اپنے کاغذات کے ساتھ لگائیں وہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔ لہٰذا وہ ہمیشہ کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہو گئے۔ الیکشن کمیشن نے تمام ارکان پارلیمنٹ کو اپنی ڈگریاں پیش کرنے کو کہا جس پر اکثر ارکان نے عمل کیا۔ واویلا کرنے والوں کی ڈگریاں کیسی ہیں اس حوالے سے انہوں نے خود شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں۔ نیب، ایف بی آراور سٹیٹ بینک جیسے ادارے بھی کہتے ہیں کہ 70فیصد پارلیمنٹیرین ٹیکس چوری کرتے اور غلط اثاثے جمع کراتے ہیں۔ کتنوں کی جعلی ڈگریاں پکڑی گئیں۔ دھوکہ بازی اور کس کو کہتے ہیں۔ یقینا نیک نام پارلیمنٹیرین بھی موجود ہیں لیکن چند گندی مچھلیاں پورے تالاب کو گدلا کر دیتی ہیں۔ ایسی کالی بھیڑوں کی سرپرستی کیوں؟ میں نے ایک دفعہ ایک پنجابی سٹیج ڈرامے کا ایک مکالمہ سنا جس میں ایک کامیڈین کہہ رہا تھا کہ اگر پاکستان میں چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہو گئی تو پورا پاکستان ’’ٹنڈھا‘‘ہو جائے گا۔اسی طرح اگر انتخابات میں صادق اور امین کی شرط لاگو کی گئی تو یقین جانیے چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے ہم پارلیمنٹ کا کورم پورا نہیں کر سکیں گے۔اور یہ سب باتیں محض اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے ہیں ۔ ملک میں ہر طرف لاقانونیت اور فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے۔ہمارا ازلی دشمن بھارت اور اسرائیل ہی کیا ہمارے مسلمان برادر اسلامی ممالک بھی اپنے اپنے ’’مسلکی‘‘ مفادات کے لیے ہماری جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں۔ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد کے احسن اقدامات کر رہا ہے۔ پارلیمنٹیرین اس کی راہ میں محض اپنے مفادات اور دو نمبر لوگوں کو ایک بار پھر پارلیمنٹ میں لانے کے لیے اس کے ہاتھ باندھنا چاہتے ہیں۔ سپیکر صاحبہ نے الیکشن کمیشن کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہیں ۔ فاروق نائیک اور چودھری نثار اس پر شادیانے بجا رہے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اب ان کی دال نہیں گلنے والی۔ نگران حکومت کے آتے ہی یہ بے بس ہوں گے اور الیکشن کمیشن اپنے کام میں بااختیار۔62اور 63پر عمل ہوا، جعلی ڈگریوں اور گذشتہ پانچ سالوں میں قومی سطح کے ڈاکوئوں کا پارلیمنٹ میں جانا ناممکن ہوگا ، ٹیکس چور بھی گھروں میں بیٹھا دیئے گئے تو حکومت اپوزیشن گٹھ جوڑ دم توڑ دے گا اور آج کے پارلیمنٹیرینز دس فیصد بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔لیکن یہ سب کچھ تب ہوگا جب الیکشن ہوں گے فی الحال تو پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اور ہمارے حکمران ’’نیرو ‘‘کی طرح طوالت اقتدار کے لیے بے سُری بانسری بجا رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus