×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ذوالفقار علی بھٹو کی برسی۔۔۔ اور آج کی پیپلزپارٹی
Dated: 04-Apr-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج دنیا میں جہاں بھی جیالے موجود ہیں، اپنے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی منا رہے ہیں۔قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو 4 اپریل 1928 ء کولاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپٹین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لاء کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔آپ مختلف اوقات میںصدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت وزیر اقلیتی امور ، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں کلین سویپ کیا۔دسمبر 1971ء میں جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کی عنان حکومت جناب بھٹو صاحب کو سونپ دی۔ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے مبینہ الزامات کے بعد ایک تحریک شروع جس سے ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں بھٹو صاحب نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔پھانسی کا یہ فیصلہ عدالتی تاریخ کے متنازعہ ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعدان کی پارٹی تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی تو ایک اچھا کام یہ کیا کہ بعد از مرگ بلکہ بعداز قتل بھٹو صاحب کو انصاف دلانے کیلئے صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا جس پر فیصلہ تو ابھی نہیں ہوا البتہ بھٹو کو انصاف ملنے کی ایک امید ضرورپیدا ہوئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو یقینا ایک طلسماتی شخصیت تھے۔ دسمبر 1971ء میں بھٹو صاحب اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے۔ ان کو کٹا پھٹا پاکستان ملا تھا،اس وقت معیشت ڈوبی ہوئی اور 93ہزار پاکستانی فوجی اور سویلین بھارت کی قید میں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بڑے سلیقے اور تدبر سے پاکستان کی تعمیر کی۔ جنگی قیدیوںکوواپس لائے وہ بھی بڑے آبرومندانہ طریقے سے ۔یہ جواز پیش کرنے والوں کو کہ بھارت نے اتنے قیدی رکھ کے کیا کرنا تھا شاید اس بات کا علم نہیں کہ جنگ عظیم کے بعد اتحادیوں نے سیکڑوں جاپانی اور جرمن جرنیلوں کو جنگی مجرم قرار دے کر سزائے موت سے ہمکنار کر دیا تھا۔93ہزار قیدیوں کو واپس لانا واقعی بھٹو کا کارنامہ تھا۔بھٹونے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، اسلامی بینک کی بنیاد رکھی،اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں اجلاس بلا کر مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر دیرینہ مسئلہ حل کر دیا جو فرقہ ورانہ فسادات کا مستقل سبب بن رہا تھا۔ مزدور کو اپنا حق مانگنے کا طریقہ سکھایا۔ عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا۔ بیرونی ممالک وسیع تر روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ تعلیمی شعبے میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارناموں کی فہرست طویل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آج تک تمام حکمرانوں کی کارکردگی ایک طرف ،بھٹو صاحب کی دوسری طرف، ان سب پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے ورکر کو اس کا صحیح مقام دیا۔ ورکر پر اعتماد کیا تو ورکر نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا اور ان کو تخت تک لے گئے۔ بالآخر وہ بھی جاگیرداروں کے نرغے میں آئے جو بھٹو صاحب کو تخت سے تختے تک لے گئے۔ پھانسی کے پھندے سے جھول جانے کے باوجود بھٹو اپنے چاہنے والوں کے دل میں زندہ رہا۔ آمریت کے بادل چھٹے ،جیالوں کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تو بھٹو کی تصویر دخترِ مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کو اقتدار میں لے آئے۔ ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ، لیکن آمرانہ ذہنیت نے محترمہ کو ایک بار بھی اپنی ٹرم پوری کرنے نہیں دی۔ بہرحال محترمہ کو جتنا بھی اقتدارمیں رہنے کا موقع ملا وہ جیالوں کو عزت سے نوازتی رہیں۔ جیالے کچھ نہیں مانگتے اپنی قربانیوں کا صلہ نہ اپنے بہائے گئے خون پسینے کا معاوضہ وہ صرف عزت چاہتے ہیں، وقار چاہتے ہیں جو محترمہ ان کو دیتی رہیں۔ پھر محترمہ کو بھی شہید کر دیا گیا تو ایک بار پھر جیالوں نے شہیدوں سے وفا کا حق ادا کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نامزدکردہ امیدواروں کو کامیاب کرانے میں دن رات ایک کر دیا، جس کے نتیجے میں 18فروری 2008ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی سب بڑی پارٹی بن کر ابھری اور اقتدار اس کی جھولی میں آ گرا۔ قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ آ گئی جس کی پالیسیوں کے باعث اسے پارٹی رہنما اسے جیالا کُش کہنے پر مجبور ہیں۔بے نظیر بھٹو کے بعد جائزہ لیا جائے کہ پارٹی نے کیا کھویا اور کیا پایا تو کھویا کھویا ہی نظر آتا ہے۔ اگر کسی چیز کی بہتات ہے تو سرِ فہرست کرپشن ہے۔ جس کے باعث بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ گئے۔ جو پارٹی میں موجود ہیں وہ کرپٹ ہو گئے یا خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئے۔ پارٹی کے نامہ اعمال میں سب سے بڑا کارنامہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے اس پر سالانہ 80ارب روپے خرچ ہوتے رہے۔ اس میں سے بہت بڑی رقم تو براہ راست جیبوں میں چلی گئی، باقی مستحقین کو ماہانہ ایک ہزار روپیہ دے کر حاتم طائی کی قبر پر ٹانگ رسید کی جاتی رہی۔ غریبوں کو باوقار روزگار دینے کے بجائے ان کو بھکاری ہونے کا احساس دلایا گیا۔ ایک ہزار روپے میں تو ایک من آٹا بھی نہیں آتا۔ بہتر تھا کہ اس پروگرام کی رقم سے ملک میں فیکٹریاں او رکارخانے قائم کر دیئے جاتے۔ جن میں 40لاکھ سے زائدمزدور اپنی روزی کما رہے ہوتے۔ شہیدوں کی پارٹی نے عوام کی فکر کی نہ جیالوں کے بارے میں سوچا۔ گیلانی صاحب اپنی فیملی کو ساتھ ملا کر 500ارب روپے کما کر سرخرو ٹھہرے، راجہ وزیراعظم بننے سے قبل واپڈا کے 40ارب پر ہاتھ صاف کرگئے۔ ایک نااہل ٹھہرے دوسرے کو ایسے یہ حالات کا سامنا ہے۔اتحادی بھی اپنی حیثیت کے مطابق وصولیاں کرتیرہے۔ شاید حکمران اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کو ہمیشہ کے لئے اقتدار مل گیا ۔ افسوس یہ پارٹی اقتدا رمیں آئی تو اقتدار میں لانے والوں کو بھلا دیا، نوازشیں دوسروں پر ہو تی ر ہیں۔ جسے قاتل لیگ قرار دیا وہ ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر پہنچا دیئے گئے۔ جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بلیک میل کرکے دو ایم پی ایز کے ساتھ پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کی اسے پنجاب کا گورو بنا دیا گیا۔صرف جیالوں کو ہی پارٹی قیادت کی پالیسیوں پر تحفظات نہیں تھے بلکہ ایم این اے اور ایم پی ایز بھی نالاں رہے۔جنہوں اب پارٹی ٹکٹ لینے سے معذرت کرلی ہے۔ پارٹی قیادت نے صحیح صورت حال کا بروقت ادراک نہ کیااور میرا وژن اور اندازہ درست ثابت ہوکہ بہت سے متوقع امیدوار الیکشن کا اعلان ہوتے ہی اپنی وفاداریاں تبدیل کر گئے۔ مجھے پی پی پی ایک بار پھر 97کے مقام پر نظر آتی ہے جب پنجاب میں اسے صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ ایسی بُری حکمرانی پہلے کبھی دیکھنے میں آئی نہ سننے میں آئی۔ رینٹل پاور منصوبے کرپشن سے شروع ہو کر کرپشن پہ ختم ہو گئے۔واپڈ بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل منافع بخش ادارے دیوالیہ کے قریب ہیں۔ عدلیہ اور فوج کی کریڈیبلٹی بُری طرح متاثر کی گئی۔ عدلیہ کے فیصلوں کا وقار بُری طرح مجروح کیا جا تا رہا۔ فوج کے خلاف ایسی میڈیا مہم چلائی گئی کہ جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج کو اغواکار کے روپ میں پیش کیا گیا اور اسے ایک بوجھ بھی قرار دیا جا تارہا۔ صوبوں کا پنڈورا بکس بھی میری پارٹی کی بصارت سے عاری قیادت نے کھولا او رکالاباغ ڈیم منصوبے کا باب بھی اسی نے بند کیا جو بہترین قومی مفاد میں ہے۔حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی تو خزانہ خالی جبکہ لیڈروں کے پیٹ اور بنک بھرے ہوئے تھے۔ ایسی حکمرانی پر جیالے بڑا کڑھتے ہیں۔ ان کو اپنی پروا نہیں وہ پارٹی کے خیرخواہ ہیں۔ جب پارٹی ان کی بات نہیں پوچھتی تو وہ مایوسی کی آگ میں جلتے ہیں۔ انتقام پر اس لیے آمادہ نہیں کہ نقصان شہیدوں کی پارٹی کو ہوگا آخر صبر کب تک؟ وہ صرف اپنی موجودگی اور عدم موجودگی کا احساس پولنگ کے دن گھروں میں بیٹھ کر دلا دیں گے۔ آج ایک طرف پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منا رہی ،اقتدار تو اس کے ہاتھ سے گیا۔انتخابات میں اترنا اس کی مجبوری ہے جس میں کامیابی کا دور دور تک بھی امکان نہیں۔ بھٹوز کی پارٹی ٹکڑوں میں بٹ رہی ہے البتہ بڑا گروپ بلاول کی سربراہی میں موجود ہے۔ بلاول سے جیالے اچھے کی امید رکھتے ہیں۔ وہ اصولی سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن پارٹی قیادت ان کو درس دیتی ہے کہ وہ ابھی سیاسی بالغ نہیں ہوئے۔ ان کے نزدیک سیاسی بلوغت شاید وہی ہے جو انکی پھوپھی صاحبہ، والد صاحب، گیلانی ،راجہ، مخدوم امین فہیم اور گیلانی صاحب کی پوری فیملی کرتی رہی۔ بلاول بھٹو زرداری سے پارٹی کے اندر لوگ بھی تنگ ہیں۔ اسی سبب وہ روٹھ کر ملک چھوڑ گئے تھے۔ ایک حلقے کے نزدیک وہ سکیورٹی کے باعث باہر گئے تھے۔ بلاول کو موجودہ حالات کا ادراک کرنا چاہیے۔ انتخابی مہم ان کی اولین ترجیح ہے جبکہ جان ہر چیز سے عزیز ہے۔ خود کو بہادر ثابت کرنے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں۔ اے این پی نے خیبر پی کے میں انتخابی مہم محدود کر دی ہے، وہ جلسے جلوس نہیں کریں گے۔ بلاول بھی محتاط رہیں البتہ پارٹی میں تطہیر ضرور کریں۔ پارٹی کو پستیوں کی گہرائی میں گرانے والوں کا محاسبہ کریں۔ اتفاق سے ہی سہی ان کو پارٹی کی قیادت ملی ہے تو خود کو اپنے نانا کا درست جاں نشین ثابت کریں۔ آج پارٹی کو واقعی جنگی بنیادوں پر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام صرف جیالے کر سکتے ہیں جو موجودہ قیادت سے نالاں ہیں۔ دیکھئے پارٹی قیادت ان کو منانے کی کوشش کرتی ہے یا اپنی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر لیتی ہے۔ بھٹو کے خودساختہ وارثوں کو بھٹو شہید کی 33ویں برسی پر یہ توفیق نہیں ہو رہی کہ وہ برسی کی مرکزی تقریب ہی منعقد کر سکیں جبکہ بیس کروڑ عوام بھٹو کے جیالے تو نہیں مگر چاہنے والے ضرور ہیں ۔ یہ ہم پاکستانیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اسلامی بم کے خالق کی یومِ شہادت تک نہیں منا سکتے اور یہ ایسا سب نالائق وارثوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus