×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انتخابات یا پُل صراط؟
Dated: 09-Apr-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک حضرت واعظ میں بڑے جوش و جذبے سے مجمع کو پُل صراط کے حوالے سے بتا رہے تھے۔ وہ جوں جوں بات آگے بڑھا رہے تھے حاضرین پر رقت طاری ہو رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جنت میں داخلے کے لیے پُل صراط سے گزرنا ضروری ہے۔ جنت کے فضائل یعنی پیکیج سن کر حاضرین عش عش کر اٹھے۔ دودھ شہید کی نہریں، حور و غلمان، ایسی نعمتیں جن کے سامنے دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔ لیکن جنت میں داخل ہونے کے لیے ایک پُل کو عبور کرنا پڑے گا جس کا نام پُل صراط ہے۔ یہ تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک اور اس پر سے گزرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔سامعین میں ایک شخص اٹھا اور گرہ لگائی کہ مولوی صاحب یہ تو پھر جنت میں نہ لے جانے والی بات ہوئی نا؟ آج ایسی ہی صورت حال انتخابات کی بنا دی گئی۔ سکروٹنی کا عمل اور آرٹیکل 62اور 63کا اطلاق پُل صراط سے کم نہیں۔ آرٹیکل 62اور 63تو کئی سال سے آئین کا حصہ ہے۔ یہ جنرل محمد ضیاء الحق کی 1985ء کے انتخابات کی بدعت ہے جو انہوں نے آئین میں شامل کرا دی۔ اس شق کے باوجود لوگ الیکشن لڑتے رہے اب اس کا کوئی زیادہ ہی شور وغوغا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے چند ماہ قبل اس آرٹیکل کی اس کی روح کے مطابق اطلاق کا شور برپا کیا تو اس پر سیاسی حلقوں میں بڑی لے دے ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ 28سال تک آرٹیکل 62 ،63 کے حوالے سے کیا بے روح ہوتے رہے ہیں؟پارلیمنٹیرین کا اہم ترین کام قانون سازی ہے۔ انہوں نے امام کرانی ہے نہ میتوں کو غسل دینے اور جنازے پڑھانے ہیں۔ ریٹرننگ آفسر اس طرح سکروٹنی اور کاغذات کی جانچ پڑتال کرتے رہے کہ ان کے سامنے پیش ہونے والے امیدوار سی ایس ایس کا امتحان اور انٹرویو دینے آئے ہیں۔ پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے گریجوایشن کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ جس فوجی آمر نے یہ شرط عائد کی وہ خود بھی گریجوایٹ نہیں ہے۔ ریٹرننگ افسر امیدوار سے مذہب کے حوالے سے واجبی معلومات پر مبنی سوال کرتے تو بہتر تھا۔ افسوس کہ بہت سے افسروں نے جس طرح سے اور جس طرح کے سوالات کیے وہ باقاعدہ امیدواروں کا ٹرائل تھا اور وہ بھی میڈیا کے کیمروں کے سامنے۔ ان افسران سے کون پوچھے کہ کیا ان کو بھی آیت الکرسی، دعائے قنوت، چوتھا کلمہ، ایمان مجمل اور ایمان مفصل یاد ہیں۔ اور مجھے قوی یقین ہے کہ ان جوڈیشنل افسران کوخود بھی نظریہ پاکستان کے اور اسلام کے متعلق ناکافی معلومات ہیں۔اچھا کیا کہ لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن نے نوٹس لے کر ریٹرننگ افسروں کو غیر ضروری سوال کرنے سے روک دیا۔ ہم نے اپنے گذشتہ کالموں میں بے رحم احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے احتساب کے بغیر معاشرہ سے برائیوں اور جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔ کڑے، بے لاگ اور بے رحم احتساب کے ساتھ ساتھ یہ بلاامیتاز بھی ہونا چاہیے۔ آج صرف سیاستدانوں کا احتساب ہو رہا ہے۔ کسی کی جعلی ڈگری پکڑی جا رہی ہے کسی کو آرٹیکل 62اور 63 کے شکنجے میں لایا جا رہا ہے۔ ملکی بربادی کے ذمہ دار صرف سیاستدان ہی نہیں جج ،جرنیل، جرنلسٹس اور دیگر طبقات بھی ہیں۔ جرنیل تو سب سے زیادہ ہیں جو قیام پاکستان کے بعد آدھے سے زیادہ عرصہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے، انہوں نے جمہوریت کی جڑیں کاٹیں اور جمہوریت کا پودا پنپ ہی نہ سکا۔ آج کی تمام تر خرافات کی ذمہ داری فوجی آمروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ہی عجیب و غریب قوانین کا مغلوبہ قوم کو دیا۔ ایوب خان نے ایبڈو متعارف کرا کے سیاستدانوں پر سیاست کے راستے بند کر دیئے۔ضیاء الحق نے آئین میں آرٹیکل 62اور 63گھسیڑ کر کئی سیاستدانوں کو سیاست سے دور کر دیااور غیر جماعتی انتخابی کا طریقہ متعارف کراکے بہت سے سینئر سیاستدانوں کا راستہ روکنے کی سازش کی، جس کی وجہ سے 85ء بہت سے سینئراور زیرک سیاستدان سیاست سے آئوٹ ہو گئے اور کرپٹ سیاستدانوں کا سیاست میں داخلہ شروع ہوا ۔ مشرف کو موقع ملا تو نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے اعلیٰ پائے کے سیاستدانوں سے خوفزدہ ہو کر گریجوایشن کی شرط عائد کر دی۔آج الیکشن کمیشن اپنی آزادی منوانے کے لیے آمرانہ اقدامات کر رہا ہے۔ جعلی ڈگری والے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں یہ کوئی نہیں سوچتا اور پوچھتا کہ اس شرط کے نفاذ کے پیچھے آمر کی کیا ذہنیت کارفرما تھی۔ کاغذات جمع کرائے جانے کے بعد کاغذات کی منظوری کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا۔ اب کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی۔ الیکشن کمیشن نے ایسے قوانین بنا دیئے کہ کسی بھی امیدوار کو نااہل کیا جا سکتا ہے۔ کسی کو بجلی، گیس اور فون کا نادہندہ قرار دے کر، کسی کو ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے اور NTNٹیکس نمبر نہ ہونے پر اور کسی کو اثاثوں میں ہیر پھیر کا الزام لگا کر۔ انتخابات کی راہ میں قوانین کی پُل صراط بنا دی گئی ہے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال میں اگر جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا تو کوئی بھی امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ اس لیے امید ہے کہ الیکشن کمیشن ہاتھ ہولا رکھے۔ ہم نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں تذکرہ کیا تھا کہ اگر پاکستان میں صادق اور امین کی تلاش کی جائے تو پورا پاکستان ہمیں ’’ٹُنڈا‘‘ کرنا پڑے گا۔ کرپٹ لوگوں کا راستہ واقعی روکا جانا چاہیے لیکن معمولی چیزوں کو جواز بنا کر کسی کو نااہل قرار دینا مناسب نہیں۔ جہاں تک احتساب کا تعلق ہے وہ بلاامتیاز ہونا چاہیے اس میں جج، جرنیل،جرنلسٹ ،جاگیردار، سرمایہ دار ،بیوروکریٹس اور ہر طبقہ ہائے عوام کو سب شامل کیا جائے یہ سلسلہ قیام پاکستان سے شروع کر لیا جائے تو مکمل تطہیر ہو سکتی ہے۔ مسئلہ احتساب کا نہیں احتساب کرنے والوں کے ذہنوں کے پیچھے چھپی نیتوں کا ہے۔یہ لوگ ہر آٹھ دس سال بعد احتساب کے نام پر ایک پنڈورا باکس کھول دیتے ہیں اور مجرموں کے ساتھ شرفاء کی بھی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں۔ان کا مقصد احتساب کرنا نہیں بلکہ سیاست کے پیشے کو داغدار کرنا مقصود ہوتا ہے۔آج سیاست جو کہ ایک مقدس پیشہ ہے اس کو پاکستانی عوام کے سامنے مجرموں کی طرح پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس کے نتائج سے وہ قوتیں جو اس طرح کر رہی ہیں بے خبر ہیں ۔ اگر عوام کا اپنے مستقبل کے راہبر سے اعتماد اٹھ جائے تو پھر ملک کی سیاسی باگ دوڑ کون سنبھالے گا۔ دراصل پاکستان کے بیس کروڑ عوام سول و ملٹری اور اسٹیبلشمنٹ کے پنجوں میں اس طرح جھکڑے ہوئے ہیں جو ان کو ہر چند سال بعد کسی نہ کسی مذموم طریقے سے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا ان چند نام نہاد سیاسی اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کے لیے اکھاڑ بچھاڑ کر دیتے ہیں۔اگر واقعی احتساب کرنے کا عمل جاری رکھنا ہے تو کم از کم الیکشن کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کرکے احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ احتساب اورانتخاب ایک ہی وقت میں شروع کریں،جس کے لیے ہماری قوم اور لیڈر ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ جس طرح آپ سالانہ امتحان لیتے ہیں تو اس سے پہلے طالب علموں کی مکمل تیاری کرائی جاتی ہے اگر آپ نے احتساب شروع کرنا ہے تو اوپر سے نیچے اورنیچے سے اوپر ہر مرحلہ پر احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جائے اور اس سے پہلے عوام کو ’’اویئرنس ‘‘دی جائے۔اگر یہ سارا عمل کرنا ضروری ہے تو پھر عوام کے پاس انتخابات کے لیے جانے کی کیا ضرورت ہے اور یہ انتخابات کا ڈھونک رچانے کی کیا ضرورت ہے ۔ سیدھا سیدھا امتحانی مراکز قائم کر دیئے جائیں جہاں پر امیدواروں کا ذہنی ،جسمانی اور تحریر ی امتحان لیا جائے اور انہیں پاس یا فیل ہونے کی صورت میں بتا دیا جائے کہ آپ اپنے حلقے کے لیے پارلمینٹیرین منتخب ہو چکے ہیں۔اگر فیصلہ عوام نے کرنا ہے جو کہ اصل جمہور کا طریقہ ہے تو پھر اس کے لیے سب سے بہتر ’’چھلنی‘‘ صرف عوام ہیںاور عوام فیصلے کرے کہ کون صادق اور امین ہے اور جہاں تک کرپٹ سیاستدانوں کا داخلہ روکنا یا احتساب ضروری ہے تو اس کے لیے پہلے سے عدالتیں موجود ہیں ۔وگرنہ اس کے بغیر یہ سارے معاملات صرف وقت کا زیاں ہے اور اس قوم کے ساتھ یہ گھنائونا کھیل جاری رہے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus