×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میاںصاحب تصادم اور بلیک میلروں سے بچیں
Dated: 18-May-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حالیہ الیکشن 2013ء خدا خدا کرکے اپنے اہتمام پر پہنچا ۔ جس نے جو بویا تھا وہ کاٹا۔ لیکن اس الیکشن کے اثرات و مضمرات بڑی دیر تک پاکستانی سیاست کے لیے حاصل توجہ رہیں گے ۔الیکشن میں مسلم لیگ ن نے بظاہر تو بڑے بڑے سیاسی پہلوانوں کو بچھاڑ کر رکھ دیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن سے پہلے سیاسی فضا بھی کچھ اسی طرح سے تھی کہ تمام سیاسی تجزیہ نگار بھی یہی پیشن گوئی کر رہے تھے کہ اس دفعہ مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی میں سے کوئی ایک میدان مار لے گا۔ الیکشن میں جن جماعتوں کو شکست فاش ہوئی وہ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی اے این پی اور مسلم لیگ ق دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔بے شمار قربانیوں اور شہادتوں کے باوجود اے این پی کی شکست اس کے قائدین اور پارٹی نے خوش دلی سے نہ صرف قبول کر لیا بلکہ جیتنے والوں کو فوری مبارک باد بھی دے دی ۔اس طرح اے این پی نے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے ۔جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے پاس اپنے پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر نتائج کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔پھر بھی پارٹی کے ذمہ داران نے میڈیا اور کچھ سیاسی قوتوں کواپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔اور سندھ میں فتح کی نویدملنے کے بعد وہ ذہنی طور پر ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے مصداق ‘‘چپ ہو کر بیٹھ گئے۔جب کہ ایم کیو ایم جو الیکشن کے دن تک طالبان ،دہشت گردی ،بم بلاسٹ کا عذر پیش کرتی رہی کہ 12مئی کے دن نتائج آنے کے بعد جشن منانے اور بھنگڑے ڈالنے میں مصروف ہو گئے۔حالانکہ طالبان اور دہشت گردی کا خوف حقیقت میں تھا تو ان کے امیدوار دو ،دو لاکھ ووٹ حاصل نہ کرتے ۔جبکہ کراچی میں الیکشن کے روز ہونے والی دھندلی کا ایم کیو ایم کے سوا سبھی جماعتوں نے بائیکاٹ کیااور اکیلی ایم کیو ایم ہی ریس میں دوڑتی رہی۔اگر ایم کیو ایم کی قیادت یہ بیان دیتی ہے کہ کراچی کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا تو وہ کراچی کو پاکستان سے الگ کر لیں گے۔اس انتہائی مضحکہ خیز بیان جو اپنے اند ربے شمار خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اہل پاکستان کے لیے اس کو نظرانداز کرنا ملکی سلامتی پرضرب کے مترادف ہے ۔دنیا بھر پاکستانی تارکین وطن نے امریکہ ،کینیڈا، انگلینڈ اور یورپ بھر میں الطاف حسین کے خلاف پولیس روپوٹیں اور شکایات کروانا شروع کر دی ہیں۔تو موصوف لیڈر نے اگلے ہی دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کی صحافتی برادری اور الیکٹرانک میڈیا کو دھمکیاں دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ’’ جب تمہارا واسطہ ہم سے پڑے گا تو تم اور تمہارے مالکان کو بھاگنے کے لیے جگہ بھی نہیں ملے گی۔‘‘اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چاہے پاکستان میں جیسی بھی بددیانتی کرے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرے اور اسے کچھ نہ کہا جائے تو یہ ٹھیک ہے ، ورنہ سب قوتیں کہیں گی کہ ہمیں بلوچستان، پنجاب، خیبر پی کے ،سندھ، کشمیر اور گلگت علیحدہ کر دو۔پاکستانی سیاست میں ایسی بلیک میلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جبکہ ایم کیو ایم این اے حلقہ 250میں دوبارہ الیکشن پر بھی دھرنا دیئے بیٹھی ہے ۔مولانا فضل الرحمن کی جے یو آئی ایف بھی 9سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اور مولانا صاحب نے میاں صاحب کو اپروچ کیا اور کہا کہ خیبر پی کے میں انہیں حکومت بنانے کی اجازت دی جائے ۔ میاں صاحب کے انکار کے بعد مولانا صاحب نے بھی خیبر پی کے میں دھاندلیوں کے خلاف ریلیاں نکالنی شروع کر دی ہیں۔مولانا صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ اگر کہیں دھاندلی ہوئی ہے تو ان 9سیٹوں پر ہوئی ہو گی جو مولانا صاحب نے بظاہر جیتی ہیں؟یہ تو ایسے ہی ہے جیسے چور مچائے شور۔ پاکستان تحریک انصاف جس کا کہ ووٹر اور سپورٹرزتقریباً پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔الیکشن کی رات 12بجے تک تو وہ انتہائی مطمئن تھے لیکن اس کے بعد ایک بے یقینی کیفیت اور خوف نے ان کو دھرنوں اور ریلیوں پر مجبور کر دیا۔الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے درمیان ہائی ٹینشن تھی جس کی وجہ سے ملک بھر کے کئی حلقوں میں تصادم ہوا اور بعض جگہوں ہوتے ہوتے رہ گیا،جس کی وجہ سے آج بھی صورت حال گمبھیر ہے ۔میاں صاحب کی شوکت خانم آمد اور عمران کی عیادت کرنے کے بعد دوستانہ میچ کھیلنے کی توقع کے بعد عمران اور پی ٹی آئی کی طرف سے بیان آیا ہے کہ اگر تین دن میں ان کی شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو وہ ایک بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کر دیں گے۔اس متوقع تحریک میں یقینا انہیں شیخ الاسلام طاہر القادری کی مکمل حمایت اور مشاورت حاصل ہو گی۔اگر یہ سب کچھ ہوا تو یہ ملکی سلامتی کے لیے زہر قاتل کی طرح ہوگا۔اور اس کے اثرات برسوں تک پاکستانی سیاست پر دیکھے جا سکیں گے۔ میری میاں محمد نوازشریف صاحب سے اپیل ہے کہ وہ بھی ٹھنڈے دماغ سے کام لیں ۔یقینا میاں صاحب کی کریبیلٹی کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔لیکن جس طرح 1977 ء کے الیکشن میں واضع طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کلین سویپ کر رہی تھی لیکن شاہ سے زیادہ شاہ کے کچھ وفاداروں نے جن میں سرگودھا سے وزیر ریلوے عبدالحفیظ چیمہ اور حفیظ پیزادہ نے اپنے اپنے حلقوں میں پورے الیکشن کے نتائج کو مشکوک اور پراگندہ کر دیا ۔اور اس الیکشن کے اثرات نہ صرف پاکستانی سیاست پر بلکہ عالم اسلام اور تیسری دنیا کی سیاست پر بھی پڑے اور اسلامی دنیا ایک عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو سے محروم ہو گئی۔میاں صاحب بھی تھوڑی سی تحقیقات کروانے کی اجازت دے دیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ زخم ابھی ابتدائی مراحل میں اگر یہ ناسور بن گیا تو کوئی بڑے سے بڑا سورما بھی اسے روک نہیں پائے گا۔اور نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ پاکستان کے 18کروڑ عوام کی سیاسی و معاشی زندگیوں پر اس کے اثرات پڑیں گے۔میاں محمد نوازشریف صاحب ایک بڑے دل و گردے کے مالک ہیں اور ان کے حالیہ بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے جس میں انہوں نے تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی توقع ظاہر کی ہے۔یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور میاں صاحب کو عمران صاحب کی شکایات سنتے ہوئے جن حلقوں میں الیکشن کی شکایات ہیں ان میں دوبارہ انتخابی عمل کروا کر تصادم سے بچا جائے۔میاں صاحب نے لینڈ سلائڈ وکٹری حاصل کی ہے ، دو چار اور دس سیٹوں سے انہیں مرکز اور پنجاب میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔لیکن ملکی سلامتی پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔میرا میاں صاحب کو ایک یہ بھی مشورہ ہے کہ وہ پنجاب اور مرکز میں تن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے ۔جے یو آئی ایف جیسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مستقبل میں ہونے والی سیاسی بلیک میلنگ سے بچیں۔وگرنہ پھر حج کوٹے اور ڈیزل کوٹے کی خواہشات بڑھتی جائیں گی لیکن عوام کو جوابدہ صرف میاں محمد نوازشریف اور ان کی پارٹی ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus