×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی طلسم ٹوٹ رہا ہے
Dated: 21-May-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص عوامی سوچ کو یرغمال بنانے کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں۔ لوگ مخصوص پارٹیوں کے طلسم سے باہر نکل کر اپنا ماضی الضمیر کھل کر بیان کر رہے ہیں۔11مئی 2013ء کے انتخابات میں عوام نے ووٹ کے ذریعے ثابت کر دیا کہ اس کے دل اور دماغ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ عوام نے آصف علی زرداری کے اس مقولے کو بھی سچ کر دکھایا جو وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرکے دہراتے رہتے ہیں کہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ اور اس انتقام کا گذشتہ الیکشن میں سب سے بڑا ٹارگٹ پیپلزپارٹی ہی ہوئی۔ عوام نے جس سوچ کا اظہار ووٹ کے ذریعے کیا پاکستان کے کئی علاقوں میں اس سوچ کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے زیادہ کوشش کراچی میںہوئی اور یہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہی۔ جب ایک اجارہ داری کا زعم رکھنے والی پارٹی عوامی سوچ کو بندوق کے زور پر اپنا ہمنوا نہ بنا سکی تو اس نے انتخابی عمل پر شب خون مار کر نتائج اپنے حق میں کر لیے۔ اس پر شدید ردعمل ہوا۔ جماعت اسلامی ،وحدت المسلمین، ایم کیو ایم حقیقی سمیت کئی پارٹیوں نے دوپہر کو ہی پولنگ سٹیشنوں پر اپنے ایجنٹوں اور ووٹرز کا داخلہ ممنوع پاتے دیکھ کر بائیکاٹ کر دیا۔ پی ٹی آئی نے شورشرابا کیا لیکن اس کی نہ سنی گئی تو انہوں نے دھرنے اور احتجاج کا راستہ اپنایا۔ حلقہ 250سے ہر پارٹی کو بشمول متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات تھے۔ الیکشن کمیشن نے 43پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے جہاں ری پولنگ کا حکم دیا۔ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم حقیقی اور دیگر کئی سیاسی جماعتیں کراچی میں تمام حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ متحدہ نے حلقہ 250کے تمام پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا۔ لیکن الیکشن کمیشن کے حتمی فیصلے کے مطابق 43پولنگ سٹیشنوں پر ہی پولنگ ہوئی۔ اس فیصلے پر متحدہ نے احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کر دیا۔ جمہوریت کے انتقام کا تازہ تازہ نشانہ بننے والی پیپلزپارٹی نے اس کا ساتھ دیا۔ حلقہ 250سے پی ٹی آئی کے عارف علوی 77ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں متحدہ کی خوش بخت شجاعت کو 30ہزار ووٹ ملے۔ کراچی کو اپنی مٹھی میں بند ہونے کے دعویداروں نے اپنی شکست کو بھانپتے ہی 50کے قریب پولنگ سٹیشنوں پر غنڈہ گردی کی اور الیکشن کمیشن کے نوٹس لینے پر بائیکاٹ کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ پی پی پی اور متحدہ کے بائیکاٹ کا براہ راست فائدہ پی ٹی آئی کو ہوا۔ اگر بائیکاٹ نہ ہوتا تو بھی کم و بیش یہی نتائج ہوتے۔ جس کا بائیکاٹ کرنے والوں کو ادراک تھا۔ مذکورہ پولنگ سٹیشنوں پر الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوا۔ اگر پورے کراچی میں ایسا ہوتا تو کراچی میں اکثریت کی دعویدار پارٹی بھی اے این پی اور پیپلزپارٹی کی طرح جمہوریت کے انتقام کا نشانہ بنی نظر آتی۔ کراچی میںا جارہ داری کے دعویداروں کو اپنی مقبولیت کا ادراک ہو گیا ہے۔ اس لیے وہ بوکھلاچکے ہیں۔ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔ اپنے حریفوں کو گالیاں اور میڈیا کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ لندن سے ایک بار پھر اپنے خطاب میں کیا گیا کہ ایک مکار شخص مجھ پر الزام عائد کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی رابطہ کمیٹی کی زبان اور ’’ہاتھ‘‘ سے بھی خبر لی اور درگت بنائی گئی۔ یہ لوگ تو خود کو مہذب اور متمدن بھی سمجھتے ہیں۔ ایسی زبان استعمال کرنے پر پوچھا جا سکتا ہے ع تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے انتخابات کے روز سے ہی کراچی میں اپنی سیاسی حیثیت دیکھ کر آگ بگولا ہونے کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ 12مئی کو تو پاکستان توڑنے کی بات بھی کی گئی۔ اس روز جو زبان استعمال ہوئی ملاحظہ فرمائیں: ’’اسٹیبلشمنٹ کو کراچی اور عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں تو پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔ کراچی اور اس کے عوام کو گالی دینے کی بجائے پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔ کراچی اور اس کے عوام سے نفرت بند نہ کی گئی تو یہ آگ پورے پاکستان کو جلا دے گی۔ الطاف حسین کے فلسفے پر یقین رکھنے والا گردن کٹا دے گا مگر ایسے پاکستان میں رہنا پسند نہ کرے گا۔ تین تلوار پر مظاہرہ کرنے والے ڈرامہ کر رہے ہیں، کارکنوں کو ابھی حکم کروں تو تین تلوار والوں کو چھلنی کر دیں گے۔ مخالفت بند نہ ہوئی تو اپنے ساتھیوں کی مٹھیاں کھولنے والا ہوں۔ صبر کی ایک حد ہوتی ہے، دیکھیں گے کہ کراچی میں کتنے سورما دادا گیری کرتے ہیں۔ کراچی کے لوگ تیار ہو جائیں ایک ہفتے میں کال دوں گا۔ کوئی ماں کی گالی دیتا ہے تو بہن کی گالیاں ہم بھی دیں گے۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دیانتداری سے فیصلہ کرنا، کہیں کمیشن کا حال وہ نہ ہو کہ انہیں رہنے کیلئے جگہ نہ ملے۔‘‘ پھر یہی نہیں دو روز بعد میڈیا پر بھی الطاف حسین برسے۔ اینکرز اور مالکان کو دھمکیاں دیں یہاں تک کہا گیا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں قافلے چلتے رہتے ہیں۔ اخلاقیات کا دامن تو قطعاً نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ سب کراچی میں ان کا بوریا بستر گول ہونے کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں نے اگر کھلے دل اور بازوئوں سے یو پی، سی پی اور بہار سے آنے والوں کو قبول کیا ہے تو ان کا ممنون رہیں دشمن نہ بنیں۔ اور خود کو پاکستان بنانے والوں کی اولادیں اور پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کی نسل قرار دینے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان صرف ان کے ہی آبائو اجداد نے نہیں بنایا بلکہ بلوچستان ،پنجاب ، خیبر پی کے اورسندھ کے باسیوں کی پاکستان بنانے میں مرضی اور عزم شامل تھا۔ برطانوی سفیر نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان توڑنے کی بات کرنے پر وہ نوٹس لے۔ برطانوی قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ نفرت اور تشدد پر ابھارنے پر بھی قید ہو سکتی ہے۔ لندن میں بیٹھ کر جو کچھ کہا جا رہا ہے کیا وہ اپنے لوگوں کو تشدد پر ابھارنے اور نفرتیں پیدا کرنے کا کافی ثبوت نہیں۔ دنیا بھر میں موجود پاکستانی برطانوی محکمہ داخلہ کو ہزاروں شکاتیں درج کرا چکے ہیں۔اس پر برطانوی حکومت کو نوٹس لینا ہوگا۔ ہزاروں پاکستانیوں کا سوال ہے کہ کیا برطانیہ اپنی سالمیت کے خلاف پاکستان میں بیٹھ کر کسی برطانوی کے اس طرح باتیں کرنے کو برداشت کرے گا۔ پاکستانی حکومت بھی جاگے اور نفرتیں اور تشدد پھیلانے کا نوٹس لے۔ عوام نے اپنا فرض ادا کر دیا اب یقینا مقبولیت اور طاقت کا طلسم ٹوٹ رہا ہے، اجارہ داری روبہ زوال ہے۔ اور یقینا یہی سوچ پنجاب میں بھی پروان چڑھ چکی ہے اور پنجاب کے عوام کو بھی برادریوں اور لسانی بنیاد پر ایک لمبے عرصے تک یرغمال بنایا نہیں جا سکے گا ۔سوچو ں پر اب قدغن لگانا ممکن نہیں رہا۔پنجاب کے طاقت کے ٹائیکون کو بھی اب عوامی خواہشات کا احترام کرنا ہوگا ۔اور ہمیں موجودہ نظام کو چلنے دینا ہے تو پھر ایک دوسرے کو برداشت بھی کرنا ہوگا ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus