×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا آج بھی شہید بی بی زندہ ہے ؟
Dated: 21-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن تاریخی دن تو ہے لیکن یہ ایسے موقع پر منایا جارہاہے جب پاکستان پیپلز پارٹی عوامی نفرت اور ناپسندیدگی کا نشانہ بن کے مقبولیت عمیق گہرائی میں گر چکی ہے۔شہید بے نظیر بھٹو قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ذہن ، سوچ او رسیاسی مہارت کی سچی ترجمان تھیں ۔وہ ایک پْر عزم سیاسی لیڈر تھیں۔ شہید نے کبھی خطرات کی پرواہ نہیں کی۔ ملک کے اندر ان کو سیاسی انتقام کا بدترین نشانہ بنایا گیا اور ملک سے باہر انتہائی نامساعدحالات میں وقت گزارا لیکن ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے کارکنان کو بہادری اور دلیری کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا۔ جمہوریت کی دل دادہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اعلیٰ پائے کی دانشمند تھیں۔ وہ ایک عالمی مدبر تھیں۔ وہ دنیا کی چند مقبول ترین شخصیات میں شامل تھیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت ایک سحر انگیز شخصیت تھیں وہ واحد پاکستانی خاتون تھیں جو کہ چاروں صوبوں کی زنجیر مانی جاتی تھیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بین الاقوامی سطح کی سیاسی تجزیہ نگار تھیں۔ وہ عالمی سیاست پر ایک مسلسل نظر رکھے ہوئے تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت میں تمام کاوشیں بروئے عمل لائے تھے اپریل1986ء میں جب وہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد لاہور پہنچیں تو ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا۔ شہید کا یہ عوامی استقبال درحقیقت جنرل ضیاء کی آمریت کے تابوت میں آخری کیل تھا۔کروڑوں کارکنوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا عہد جمہوری جدوجہد سے عبارت ہے۔ جرات و ہمت انہیں وراثت میں ملی تھی۔ ان سے سیاسی اختلاف توکیا جاسکتا ہے لیکن ان کی حب الوطنی ، جمہوریت پسندی، مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنا، جمہوریت کی بالادستی کے لیے جمہوری جدوجہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ساری عمر جمہوریت کی بالادستی کے لیے برسرپیکار رہیں اور اس کی بحالی کی جنگ لڑتی رہیں۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سے عشق تھا ، شہید نے اپنے شہید والد کے مشن کو اپنی زندگی مقصدبنالیا تھا۔جس کے باعث ان کو مصائب اور آلام اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا جو کہ تاریخ کا ایک حصہ بن چکے اور دردناک پہلو کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی وہ احساس اور درد تھا جس نے بھٹو خاندان کی سیاسی عظمت اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قومی و بین الاقوامی مقبولیت کا چراغ ہمیشہ روشن رکھا لیکن اب شہیدوں کی اس پارٹی کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے؟ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریب رہنے کا بہت سا وقت ملا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہیں تھیں اور ان کو سوئس عدالتوں میں مقدمات کا سامنا تھا۔ اس وقت محترمہ اور پاکستان پیپلزپارٹی پر بْرا وقت تھا۔ حسب سابق اور ہماری سیاست کے ابن الوقتوں کے بنائے ہوئے اصولوں کیمطابق اقتدار کے ادوار میں محترمہ کے اردگرد گھومنے اور اقتدار سے فیض یاب ہونیوالے محترمہ سے لاتعلق ہو گئے تھے۔ ستم بالائے ستم 2002ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ اور نام پر الیکشن جیتنے والوں کا ایک جتھہ آمریت کی آغوش میں جا بیٹھا تھا۔ پیپلزپارٹی کو جب بھی اقتدار ملا ابن الوقت ٹولہ اس اقتدار کے ثمرات کو سمیٹنے کیلئے خوشامد اور چاپلوسی کے پرچم لہراتا ہوا قیادت کے قریب تر ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ ان میں سے کچھ کامیاب ہوئے لیکن ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دونوں جہاندیدہ اور پارٹی کے خیرخواہوں اور مخلص کارکنوں کی قربانیوں کے معترف تھے۔گزشتہ پانچ سال میں سب کچھ پیپلزپارٹی کے بانی اور انکی صاحبزادی کی پالیسیوں کے برعکس پیپلزپارٹی پر ان لوگوں کا تسلط رہا جن کی اکثریت کسی نہ کسی دور میں پیپلزپارٹی کی مخالفت پر کمربستہ رہی تھی۔ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنا بااعتماد ساتھی اور پیپلزپارٹی اور اسکے بانیان کیلئے ہر وقت جانی و مالی قربانی کیلئے آمادہ رہنے والا جیالا سمجھ کر مجھے اپنے سوئس کیسوں کا نگران مقرر کیا تھا۔ آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر مجھے بیرونِ ملک گزارے ہوئے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب شہید محترمہ کی طرف سے اپنے خاندان سے والہانہ محبت کے شواہد برملا نظر آئے۔مصروفیت کے باعث محترمہ کو ذاتی معاملات تک کی نگرانی کا وقت کم کم ملتا تھا لیکن وہ اپنے عزیزوں کی سالگرہ منانا نہیں بھولتی تھیں۔ ایک دفعہ ہم سفر کے دوران تھے اور ہم نے محترمہ کو تھوڑا افسردہ پایا تو پوچھنے پر محترمہ نے بتایا کہ آج آصفہ کی سالگرہ ہے مجھے اسکے پاس ہونا چاہیے تھا تو محترمہ نے راستے میں آنیوالی ایک بیکری سے کیک خریدا اور ہم نے اس چھوٹے سے کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر آصفہ کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔ ایک مرتبہ نیویارک سے واشنگٹن کے بائی روڈ سفر کے دوران انہوں نے گاڑی میں کیک رکھوایا راستے میں بتایا کہ آج آصف علی زرداری کی سالگرہ ہے چنانچہ دورانِ سفر کیک کاٹا گیا۔ میں جن دنوں کی بات کرتا ہوں ان دنوں وہ واقعی اپنے شوہر کیلئے محبت اور احترام کے بھرپور جذبات رکھتی تھیں۔ لیکن آج محترمہ کے انکل اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور بھٹو دور میں پارٹی کے اہم رہنما ممتاز علی بھٹو الزام عائد کرتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو آصف علی زرداری نے ہی قتل کرایا۔ویسے تو پارٹی کے اندر سے بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ محترمہ کے قاتل پارٹی کے اندر موجود ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سال تو پورے کر لئے لیکن ان کے قاتلوںکی ہنوز نشاندہی نہیں ہو سکی۔ عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ پر کچھ لوگوں نے اس وقت تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا کہ تحقیقات پر سرکاری خزانے سے کیا گیا خرچ ایک بوجھ ہے۔ ہم نے اسکی شدید مخالفت کی تھی کہ یہ اس لیجینڈ اور جس سیاستدان کے قتل کی تحقیقات ہو رہی تھی جو اس ملک کے صدر اور وزیراعظم کی بیٹی، ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قائد اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم جو دو مرتبہ اس منصب پر فائز ہوئیں جس نے ملک کی دوسری بڑی جماعت سے مل کر میثاقِ جمہوریت کے معاہدے کو یقینی بنایا جو 73ء کے آئین کے بعد سب سے اہم دستاویز ہے۔ ایسی عظیم لیڈر کے بہیمانہ قتل جو دراصل قوم کے مستقبل کو قتل کرنے کی سازش تھی۔ اس قتل کے محرکات جاننے اور قاتلوں کی نشاندہی کیلئے کوئی رقم خرچ کی جاتی ہے تو اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دینا احمقانہ سوچ ہے۔ لیکن میں آج اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ اقوام متحدہ سے کرائی گئی وہ تحقیقات جس پر 5ملین ڈالر خرچ ہوئے نہ صر ف ایک ڈرامہ بلکہ محترمہ کے قتل کے محرکات کو پس پشت ڈالنے کی ایک کارروائی تھی۔ بعد میں سامنے آنیوالے حقائق کیمطابق حکمران اپنی قائد کے قتل کی تحقیقات اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کیلئے سنجیدہ نہیں تھے۔ اسی کے باعث آج پارٹی کی اہم لیڈر شپ پارٹی قیادت جسے قبضہ گروپ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔جس کا پارٹی پر قبضہ تو ہوا لیکن پارٹی پورے ملک سے سمٹ کر صرف سندھ تک محدود ہوگئی۔اگر یہی کرتوت رہے تو اگلے انتخاب میں اسے شاید لاڑکانہ کی سیٹ بھی نہ مل سکے۔ ہم جیالے بڑے فخر سے نعرہ لگایا کرتے تھے َ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘وہ اس لئے کہ بی بی نے اپنا خون دے کر پارٹی کو مضبوط کیا اور اپنی جان دے کر 2008ء کے انتخابات میں کامیابی کی راہ ہموار کردی۔لیکن ان کے جانشینوں نے بھٹوز کے مشن سے بے وفائی کی اور اقتدار میں آکر قومی خزانے کی لوٹ مار کو مشن بنا لیا۔فرنٹ لائن لیڈر شپ سے لے کر دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت نے بدترین لوٹ مار کی ۔آج بھی بدترین انرجی بحران اسی لوٹ مار کا شاخسانہ ہے۔جس کا عوام نے مئی کے الیکشن میں انتقام لے لیا۔ مستقبل میں پیپلز پارٹی کا دوبارہ پہلے جیسی مقبولیت حاصل کرنا ممکن نہیں ،نواز لیگ سے لوگ مایوس ہوئے تو عمران خان کی پی ٹی آئی کو آزمائیں گے ۔بھٹوز کے جانشینوں نے پیپلز پارٹی اور اس کے بانیان کو مئی کے انتخابات میں اپنے ہاتھوں دفن کردیا۔ آج صرف ہم جیالے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ زندہ ہے بی بی زندہ ہے ۔ پیاری شہید بی بی جب تک یہ سورج، چاند، ستارے سلامت رہیں گے ہم تمہاری سالگرہ اور یومِ شہادت عقیدت سے مناتے رہیں گے۔ قطع نظر اس کے کہ پیاری بی بی آپ کی وراثت کا دعوی کرنے والوں سے ہمیں بہت گلے ہیں۔میں یہاں شہید بی بی کی بیٹی آصفہ زرداری بھٹو کی طرف سے مجھے فیس بُک پر بھیجی گئی نظم قارئین نوائے وقت کے ساتھ شیئر کرتا ہوں: Mom, The day you died I kissed your face After you died I held you close to me Do you remember Mom how I held your hand and lay my head on your shoulder Even at that moment I couldn't imagine life without you Until that moment I had never known a true broken heart Over and over I thought "How can I live without you?" I watched you live, I watch you die Every day I look up at the sky I know you're waiting for me I miss you Mom
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus