×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میری جنت کے دشمن
Dated: 25-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی کوئی لمحہ وطن کی محبت اور یاد سے خالی نہیں گزرتا۔ ہم تارکین وطن اپنے عظیم ملک کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ وطن سے دور تو وطن کی یاد کچھ زیاد ہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ستاتی ہے۔ ہم ارضِ پاک سے کسی خوشخبری کی توقع لیئے ہوتے ہیں کہ عموماً بدبختی دبوچے رہتی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک المناک خبر سنتے اور دیکھنے کو ملتی ہے۔دہشتگردی اور دہشتگردوں نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ دہشتگردی کی نئی لہر کا سلسلہ زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی پر راکٹوں کے حملے میں تباہی سے شروع ہوا پھر اسی روز کوئٹہ میں ایک میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات کو بم سے اڑا دیا گیا اور اس سے متصل بولان میڈیکل کمپلیکس پر بم برسائے اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس میں طالبات، نرسوں، ڈاکٹروں اور ڈپٹی کمشنر سمیت 24افراد مارے گئے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ درجنوں افراد لقمہ اجل بنتے ہیں گذشتہ روز ایم کیو ایم کے ایم پی اے اور ان کا صاحبزادہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوا۔ مروان میں تحریک انصاف کے ایم پی اے سمیت 34افراد دہشتگردی کا نشانہ بن گئے۔ فاٹا میں آئے روز دھماکے اور خودکش حملے دہشتگردوں کا خوفناک ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔ گذشتہ روز نانگا پربت میں 10سیاحوں کے قتل کی خبر دل پر بجلی بن کر گری ۔ زیارت ریذیڈنسی پر بمباری نظریہ پاکستان پر حملہ ہے تو سیاحوں کا قتل پاکستان کی سلامتی، سالمیت اور ترقی و خوشحالی پر حملہ ہے۔ پوری دنیا میں سیاحوں کو عزت و احترام کا مقام دیا جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی اور زیادتی کو قتل جیسا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ترکی، تیونس، دبئی، مالدیپ، مراکش اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی معیشت کا مکمل دارومدار سیاحتی انڈسٹری پر ہے۔ وہاں سیاحوں کے خلاف کوئی کارروائی یا حملہ ہو تو اس انڈسٹری کے ڈوبنے کا خدشہ ہوتا ہے اس سے بچنے کے لیے ہی وہاں سیاحوں کی فول پروف حفاظت کی جاتی اور ان کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا اور ان کے ساتھ درشت رویے کی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کراچی جیسا ملک ہے اور آبادی فیصل آباد سے بھی کم۔ وہاں سونا کیا لوہے کی کانیں بھی نہیں۔ اس کا مکمل انحصار سیاحت پر ہے۔ انہوں نے ملک کو مضبوطی طور پر خودساختہ طریقے سے سیاحوں کے لیے پرکشش بنایا ہے۔ مجھے سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاح کی یہ بات نہیں بھولتی کہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو پاکستان میں سیاحوں کی جنت بن سکتا ہے۔ وہاں سوئٹزرلینڈ جیسے پانچ قدرتی مقامات ہیں ان کو تھوڑا سا تراشنے کی ضرورت ہے۔ مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی جنت نظیر پاکستان کی جڑیں اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہے ہیں۔ سیاحتی مقامات کو فروغ تو کیا دیں سیاحوں کو بھگا رہے ہیں۔ ایک ہی کارروائی میں دس سیاحوں کا قتل معمولی بات نہیں، ملکی حالات تو پہلے ہی خراب ہیں ایسی المناک واقعہ کے بعد کون اپنی جان کو دائو پر لگا کر سیاحت کے لیے پاکستان آئے گا۔ پاکستان کو بدنام ،تنہا اور مصیبت میں ڈالنے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ان سے مذاکرات کے مشورے دینے والے بھی پاکستان کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کے ساتھ وہی ہتھیار استعمال کیا جائے جس کی یہ زبان سمجھتے ہیں۔ یہ میری جنت کے دشمن ہیں ان کو اس میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus