×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اہرام مصر سے دستک
Dated: 09-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ارض پاک کی 65سالہ تاریخ میں متعدد بار قوم کو سرپرائز ملے ۔سوئی ہوئی قوم کو جگا جگا کر بتایا جاتا رہا کہ ان پر جمہوریت کے دروازے بند کرکے مارشل لاء مسلط کیا جا رہا ہے ۔اوریہ سب کچھ قوم کے بہترین مفاد میں ہے اور اس کا مقصد جمہوریت کو ڈی ریل کرنا نہیں بلکہ ایک بے لاگ احتساب مقصود ہے۔پھر اس احتساب کے نعرے کے پیچھے قوم کو بے وقوف بنایا جاتا رہا اور قوم کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا اور کئی طالع آزمائوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اسلام تک کو بھی استعمال کرنے سے اجتناب نہ کیا ۔65سال میں سے آدھے سے بھی زیادہ عرصہ اتنی طالع آزمائوں کے تجربات کی نذر ہو گیا ۔شومئی قسمت پورے عالم اسلام کے 66ممالک میں ان کے عوام کو کبھی اسلام کے نام پر ،کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی کیمونزم اور سوشلزم کے نام پر اس طرح دھوکہ دیا جاتا رہا ہے کہ اب پورے عالم عالم کا اعتماد اپنے صاحب اقتدار طبقات سے اٹھ چکا ہے ۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالاہے مصر ،تیونس، مراکش، اردن، الجزائر، ترکی، ایران، لیبیا،عراق،انڈونیشیا ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں مارشل لائوں کا لامتناہی تسلسل ہی دیکھاہے۔جب کہ سعودی عرب ،کویت، متحدہ عرب امارات اور مسلم افریقہ کا ایک بڑا حصہ ملوکیت کے زیر اثر دیکھتے آئے ہیں۔آج کا نوجوان مسلمان یہ سوچنے پر مجبورہے کہ کیا اسلامی ممالک اپنے لیے ایک نظام وضع نہیں کر سکے ؟گذشتہ چند سال سے میڈیا اور سوشل میڈیا تک ایک عام فرد کی اپروچ سے اویئرنس اس حد تک بڑھی کہ ایک عام آدمی بھی سسٹم اور نظام کی بحث میں حصہ لینے لگا ۔یہی وجہ ہے کہ تیونس، عراق ،لیبیا میں تقریباً تین دہائی پر مشتمل آمریت کا خاتمہ کرکے اپنے انجام تک پہنچایا گیاجب کہ مصر میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر مشتمل آمریت کو بھی جیل کی ہوا کھانی پڑی۔لیکن ان ممالک میں چونکہ جمہوریت کو کبھی بھی پنپنا نصیب نہیں ہوا تھا یا پھر ان ممالک کا سیاسی موسم جمہوریت کو راس نہ آیا کہ آج بھی ان ممالک میں ایک عجیب افراتفری کا عالم ہے جب کہ ترکی جس نے بعداز خلافت نیم عسکری قوتوں کے زیر سایہ مغربی جمہوریت کو پروان چڑھایا تھا وہ بھی موجودہ دور میں اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی اور آج طیب اردگان کی صورت میں نیم جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہے ۔ جب کہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں اس عرصہ اس میں کافی حد تک اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوششیں کی ہیں۔جب کہ پاکستان میں سیاسیدانوں نے سکندرمرزا، ایوب خاں،یحییٰ خاں، ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار میں لگائے گئے مارشل لائوں نے پاکستان کی تاریخ اور مستقبل پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کیا خوب کہا کرتے تھے کہ ’’جمہوریت کا پودا جب بھی کبھی پنپنے لگتا ہے تو اس کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھر سے گملے سے باہر رکھ دیا جاتا ہے۔‘‘مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے پیشہ ور سیاستدانوں نے ان اسباق سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔ میثاق جمہوریت میں ایک نہیں کئی خامیاں ہوں گی مگر یہ جمہوریت کے شجر کے پنپنے کے لیے کم از کم ایک موقع ضرور فراہم کر گیا ۔پیپلزپارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں متوقع طالع آزمائوں نے لاکھ جتن کیے کہ ان کو کوئی بہانہ مل سکے (جب کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان کو ایسے متعدد موقعے فراہم بھی کیے )مگر مستند اقتدار پر براجمان صدر مملکت نے کمال چالاکی سے ان قوتوں کو ترقیاں اور مدت ملازمت میں توسیع دے کر ان بلائوں کو ٹالنے میں کامیاب ہوئے۔مگر حکومت بدلنے کی دیر ہے کہ ہمارے عظیم سیاستدانوں نے پھر وہی انتقامی سیاست کے باب کھول دیئے ہیں لیکن اس دفعہ ان کا ہدف سیاستدانوں کے علاوہ عسکری قوتیں بھی ہے۔میرے سمیت پاکستان کا ہر صاحبِ فکر انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ ان تلخیٔ حالات میں جمہوریت کے پودے کو کب تک ناگہانی آفات سے بچایا جا سکے گا؟بالکل اسی طرح مصر میں اخوان المسلمین کی سالہا سالوں کی جدوجہد کے بعد ایک جمہوریت اور نیم اسلامی حکومت کا قیام ممکن ہوا تھا اور محمد مرسی 52فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے تھے مگر ایک سال کے عرصہ کے اندر اندر ہی سامراجی قوتوں کو یہ سب گوارا نہ ہوا اور علاقے میں موجود عرب لیڈرشپ کی دم پر یہ پائوں بھلا انہیں کیسے گوارا تھا کہ ان عرب ممالک میں گھِرا ہوا یہ مصر اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ ہمسایہ ملکوں کے سینوں پر موم دَل رہا تھا ۔ایک طرف تو عالم اسلام اس وقت مسلکی لڑائیوں الجھ کر اپنے آپ کو کمزور اور نحیف کر رہا ہے اور دوسری جانب استعماری قوتوں کو یہ مواقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اہداف کو ٹارگٹ کر سکیں۔ جیسے ہی امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو اپنی افواج بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے اسی دن اس خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے آثار ابھی سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اندرونی خلفشار کا نتیجہ کچھ یوں برآمد ہوگا کہ پاکستان کے حالات بھی مصر سے مختلف نہ ہوں گے۔کیونکہ مسلح لشکر کو آنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی اور مصر میں آنے والے اس فوجی انقلاب کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ خدانخواستہ مصر میں آنے والا مارشل لاء پاکستان کے سیاستدانوں کے لیے ایک دستک سے مشابہت رکھتا ہے۔3جولائی کی رات لگنے والا مارشل لاء 5جولائی 77ء کو لگنے والے مارشل لا ء سے مشابہت رکھتا ہے اور ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آج بھی یقینا عسکری قوتوں کے درمیان کچھ متوقع طالع آزما موجود ضرور ہوں گے جو سیاستدانوں کی کسی ایک غلطی کے انتظار میں ہوں گے۔موجودہ حکومت اور اپوزیشن کو ملک میں سیاسی استحکام کے لیے آپس میں مل بیٹھ کر کمپرومائز کرنا ہوگا وگرنہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus