×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں
Dated: 27-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج پاکستان ایک طرف دہشتگردی کے خلاف مسلح جنگ لڑ رہا تو دوسری طرف سرد جنگ کا شکار بھی ہے۔ دونوں قسم کی جنگوں نے پاکستان کی معیشت تباہ کر دی اور پاکستان میں کوئی بھی شخص کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پاک فوج بیرکوں تو کجا جی ایچ کیوں جیسی قلعہ بند ناقابل عبور فصیلوں میں بھی اپنے آپ کو خطروں میں گھِرا محسوس کرتی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سرد جنگ میں براہِ راست نشانہ پاک فوج کو بنایا جا رہاہے۔ عوام بھی اس جنگ کا ایندھن بنتے چلے آ رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی افغانستان پر یلغار میں پاکستان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہر ممکنہ حد تک ساتھ دیا۔پاکستان کی طرف سے دی گئی قربانیوں کے اعتراف میں امریکہ نے پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی تو قرار دیا لیکن اس کے خلوص نیت کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا۔ اس حوالے سے امریکہ جوائنٹ سروسز کے چیئرمین جنرل ڈیمپسی کی تازہ ترین سٹیٹ منٹ پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی میں پاکستان کا تعاون ہماری توقعات پر کبھی پورا نہیں اترا۔ اس جنگ میں پاکستان کو انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں 70ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ 5ہزار فوجیوں سمیت 50ہزار پاکستانی دہشتگردی کی جنگ کا ایندھن بن گئے۔ ملک کے کونے کونے میں پھیلی سرد جنگ نے بھی مسلح جنگ کے بطن سے ہی جنم لیا۔ جس سے ہر پاکستانی خود کو بارود کے ڈھیر پر بیٹھا محسوس کرتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو حالات نے جس جنگ کا پارٹنر بنا دیاہے اس میں کامیابی کے لیے دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ضروری ہے۔ بلاشبہ امریکہ اس جنگ میں جدید ترین اسلحہ استعمال کر رہا ہے۔ پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا جا رہاہے لیکن اس حقیقت کا خود امریکہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں سے بھی زیادہ اس جنگ میں پاکستان کا ان سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔مالی خسارہ تو پورا کیا جا سکتا ہے جانی نقصان کا کوئی مداوا اور ازالہ نہیں۔ بات دو سلطنتوں کی ہو تو وہ اپنے اپنے مفاد کو کسی طور نظرانداز نہیں کرتیں۔ امریکہ ہر ممکنہ حد تک ایسا کرتا ہے جبکہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے قومی مفادات پر وہ کمٹمنٹ دیکھنے میں نہیں جو حب الوطنی کا بنیادی تقاضا ہے۔ لیکن پاک فوج کسی بھی صورت قومی مفادات پر تساہل اور تغافل کا شکار نظر نہیں آتی۔ پاک فوج بھی مصلحتوں کا شکار ہو جاتی تو موجودہ پاکستان جو دشمنوں کی سازشوں کے باعث 1971ء میں آدھا رہ گیا تھا وہ کب کا بکھر چکا ہوتا۔ پاک فوج اندرونی محاذ پر دیدہ اور نادیدہ دشمن کے خلاف جس طرح برسرپیکار ہے وہ کب کا دشمن کا سر کچل چکی ہوتی لیکن سیاستدانوں، میڈیا اور این جی اوز کے مخصوص گروپ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر پاک فوج کو پوری دنیا میں بدنام کر رہے ہیں جس کا بالواسطہ اور بلاواسطہ فائدہ دہشتگردوں کو پہنچ رہا ہے۔ جس دن پوری قوم متحد ہو کر پاک فوج کی پشت پر کھڑ ی ہو گئی اس دن دہشتگردی کا ملک سے صفائے کا آغاز اور چند دن میں انجام اور خاتمہ ہو جائے گا۔قوم کو دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرامذکورہ گروپوں نے تقسیم کر رکھا ہے۔ کتنی شرمناک بات ہے کہ یہ لوگ پاک فوج کی قربانیوں اور شہادتوں پر کہتے ہیں کہ کیا فوج کو تنخواہ نہیں دی جاتی؟15،20لاکھ روپے عوضانہ پانی والی این جی اوز کے عہدیداروں پاک فوج کو طعنہ دینے والے سیاستدانوں اور اینکرز کیا ڈالروں کے انبار کے عوض اپنی جان دے دیں گے۔ میں ان کو پیش کش کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کے محاذ پر جائیں اور افغانستان میں جا کر اپنی مرضی سے جس فریق کے ساتھ بھی جائیں شامل ہو کر جنگ لڑیں میں ان کو ڈبل تنخواہ دوں گا۔ پاک فوج کے سپوت دس پندرہ ہزار تنخواہ کے لیے نہیں وطن کی محبت اور قوم کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ جب پوری قوم سو رہی ہوتی ہے تو پاک فوج جاگتی ہے۔ انسان خطائوں سے مبرا نہیں۔ آئی ایس آئی کے لوگوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن چند ایک غلطیوں کے باعث اس کی کارکردگی کو نظراندازنہیں کیا جا سکتا۔ جب سے پاک فوج اور آئی ایس آئی نے روس جیسی سُپرپاور کے بخرے ادھیڑکے رکھ دیئے ہیں اور سی آئی اے، موساد، را اور ایم آئی 6کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پاکستان کو اسلامی دنیا کا پہلا نیوکلیئر پاور بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی ایجنسیوں کے سینے پر یہ مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دنیا بھر میں حاسدین موجود ہیں۔ پاکستان جیسے کم وسائل رکھنے والے ملک اور مسائل سے دوچار مملکت کو ایٹمی اور نیوکلیئر پاور بنانا یہ ہماری پاک فوج اور آئی ایس آئی کا شاندار کارنامہ ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ مجھے ایک محب وطن پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور اپنی مسلح افواج کی خاطر اگر مجھے دشمن کے ایجنٹوں کے طعنے سننا پڑیں تو یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔پوری دنیا پاک فوج اور آئی ایس آئی کو بہترین افواج اور خفیہ ایجنسیوں میں شمار کرتی ہے۔ یہی پاکستان کے دشمنوں کو گوارہ نہیں وہ دونوں کو نقصان پہنچانا اور بدنام کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہیں پاکستان سے ہی آلہ کار مل گئے ہیں۔ یہ شوشے چھوڑتے ہیں کہ فلاں کو آئی ایس آئی نے پیسے دیئے۔ ایسے بے غیرتوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے کوئی بھی پاکستانی پاک فوج اور آئی ایس آئی کے لیے ملکی مفاد میں کام کرتا ہے تو یہ قابل فخر ہے ۔لعنت ہے ان پر جو ’’را‘‘، ’’موساد‘‘، اور ’’سی آئی اے‘‘ جیسی ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔ یہ لوگ معاشرے کا ناسور ہیں جو بے نقاب ہو چکے ہیں اب وقت آ گیا ہے عوام ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالے، عدلیہ بھی نوٹس لے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف آئین کا آرٹیکل 6لاگو کریں تاکہ پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے پاک فوج کی پشت پر ہو۔ پاک فوج ہی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے اس کے لیے قوم کا اس کے شانہ بشانہ ہونا ضروری ہے۔ہم نے 1965ء کی جنگ جس جذبے اور سرشاری سے لڑی اس پر پوری دنیا آج بھی حیران ہے۔ ہم آج اس وقت پھر حالتِ جنگ میں ہیں اور پاکستان کے ہر فرد کے لبوں پر یہ ترانہ ہونا چاہیے۔ میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں رب دیاں رکھاں سارے جگ دیا ں رکھاں
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus