×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدارتی الیکشن اور سیاسی قلابازیاں
Dated: 30-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج صدارتی الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ یہ صدارتی الیکشن اپنے پیچھے بے شمار سوالات چھوڑرہا ہے۔ گذشتہ روز جب میں ٹی وی چینل پر بریکنگ نیوز دیکھ رہا تھا تو یقینا میرے سمیت 18کروڑ پاکستانی بھی ششدر رہ گئے ہوں گے یہ ایک ایسا سیاسی شاک تھا جو ہر دردِ دل رکھنے والے سینے کے پار ہوا اس سے کچھ دیر پہلے پیپلزپارٹی اپنے صدارتی امیدوار اور اپنی انتخابی و اتحادی ق لیگ کے ساتھ پریس کانفرنس میں انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکے تھے وہ پیپلزپارٹی جس کی تاریخ رقم ہے کہ اس نے ن لیگ سمیت دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابی عمل میں شامل کیے رہنے کے لیے مجبور کیا۔27دسمبر 2007ء کو جب محترمہ کی شہادت ہوئی تب زمینی اور آسمانی حقائق بھی الیکشن مہم کے لیے موافق نہ تھے۔تب بھی پیپلزپارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو جو کہ متوقع نتائج سے مایوس تھی کو میثاق جمہوریت اور شہید محترمہ کے ساتھ عہدوپیما ن کا واسطہ دے کر دو دفعہ میاں برادران کو مجبور کیا کہ وہ الیکشن پروسس کا بائیکاٹ نہ کریں اور 2008ء کے الیکشن نتائج مسلم ن کے لیے ایک سرپرائز کی حیثیت رکھتے تھے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کا صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کوئی اچنبھے کی بات نہیں دراصل یہ ری ایکشن اور پہلا احتجاج ہے سپریم کورٹ اور ملک کی عدلیہ کے خلاف جس سے گذشتہ 5سال سے پیپلزپارٹی کی قیادت نالاں ہے۔ اسے اتفاق کہیے یا کسی پلان کا حصہ کہ گذشتہ 5سالوں کے دوران تمام سوموٹوز اور بند فائلیں صرف پیپلزپارٹی ہی کی کھلیں اور جب گذشتہ روز راجہ ظفرالحق نے سپریم کورٹ میں شیڈول صدارتی الیکشن کے خلاف درخواست دی کہ الیکشن مقررہ شیڈول سے 8دن پہلے کرائے جائیں اور پھر سپریم کورٹ نے بظاہر یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو ہمیشہ کی طرح فیور دیتے ہوئے صدارتی الیکشن کو ری شیڈول کرنے کا حکم دے دیا۔ پیپلزپارٹی جو کہ 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بائیکاٹ کے نتائج اب تک بھگت رہی ہے وہ باد ل نا خواستہ ایک اور بائیکاٹ پر مجبور کر دی گئی۔ پیپلزپارٹی کی پالیسیوں اور قیادت سے میرے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور گذشتہ 5سال سے میں نے پارٹی میں رہتے ہوئے اپوزیشن کا کردار نبھایا جبکہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہیں۔ مگر یقین جانیے سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو گورنر ہائوس اور بعدازاں نائن زیرو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ والہانہ استقبال کرتے ہوئے مہمانوں کے گلے میں پھولوں کی مالائیں پہنائیں اور جب ٹی وی یہ لمحات دکھا رہا تھا میری نظروں کے سامنے وہ مناظر گھوم رہے تھے اور خود میرا سر چکرا رہا تھا کہ سیاست میں ایسی قلابازیاں کیا اصولی سیاست کا حصہ ہیں۔ جبکہ وزیراعظم پاکستان چند ہفتے پیشتر تک یہ کہتے رہے ہیں کہ کراچی میں گرنے والی لاشوں ،بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ دار ایم کیو ایم سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا او رپھر برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی پاکستان آمد پر دیگر معاملات کے علاوہ ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کے دو اہم گواہوں کی برطانیہ کو حوالگی کا معاملہ بھی تقریباً طے پا گیا اور پاکستان کے 18کروڑ عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا کہ دیر سہی لیکن انصاف ہماری دہلیز سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہے مگر شاید اقتدار کے پنڈتوں نے کوئی اور ہی چال اور جال بچھا رکھا تھا۔ جب کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ الطاف حسین اس دفعہ بھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ہم سوچتے تھے کہ وہ کیسے؟ دراصل ایم کیو ایم پچھلے 5سال پیپلزپارٹی کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر اقتدار کے تاوان میں اپنا حصہ وصول کرتی رہی اور اب اقتدار اور پارٹی کی ڈوبتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے مسلم لیگ ن کی گاڑی میں سوار ہو گئی ہے۔ دراصل ایم کیو ایم کو کراچی اورحیدرآباد ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اور 2013کے الیکشن میں کچھ خفیہ ہاتھ متحرک نہ ہوتے تو پی ٹی آئی تقریباً کلین سویپ کرتی۔ اس لیے میاں برادران جو کہ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخواہ کے ساتھ کراچی اور شہری سندھ عمران خان کے حوالے کرنے کو تیار نہیں تھے اگر الطاف حسین کے خلاف لندن میں تحقیقات روک دی گئیں اور متحدہ قومی موومنٹ کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیا گیا تو میاں صاحب شاید 5سال پورے کر جائیں۔ مگر پاکستان کی سیاست اور پی ٹی آئی کو اس کا شدید نقصان ہوگا۔ اصولی سیاست کی بات کرنے والے میاں صاحب نے اپنے منشور کے کسی ایک حصے پر بھی عمل نہیں کیا نہ ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔ میاں صاحب نے جدہ واپسی سے لے کر اب تک خلاف اصول تمام لوٹے اپنے صفوں میں جمع کر لیے ہیں اور کل کے غدار قرار دیئے جانے والے اصحاب نہ صرف نئے اتحادی ہوں گے بلکہ کابینہ میں بھی دو تین وزارتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جب کہ ایم کیو ایم کی قیادت کو یہ ادراک ہے کہ مستقبل میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی آپس میں ٹھن جائے گی اور ممکنہ حد تک سندھ میں گورنر راج متوقع ہے اسی لیے متحدہ نے پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر میاں صاحب کے سنگ چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور بات صرف ماضی میں اکٹھے پکوڑے اور حلیم کھانے کی نہیں بلکہ یہ مفادات کی جنگ ہے جن میں متحدہ اورمسلم لیگ ن اپنا اپنا حصہ وصول کریں گی۔ اب آتے ہیں پی ٹی آئی کی طرف جس نے گذشتہ الیکشن کی ک مہم سے پہلے ہی اور بعد میں پیپلزپارٹی کو اپنا سیاسی حریف جان کر ٹارگٹ کیے رکھا۔ جبکہ حقیقت میں پی ٹی آئی غلطی پر تھی ۔ پی ٹی آئی کا نظریاتی اور سیاسی ہدف اگر صرف مسلم لیگ ن ہوتی تو آج عمران خان اقتدار کے ایوانوں میں بہتر پوزیشن میں ہوتے۔ عمران خان اپنے گذشتہ 17سالہ سیاسی کیریئر میں دو مرتبہ الیکشن کا بائیکاٹ کر چکے ہیں حالانکہ ان کے اس عمل سے پارٹی اور عمران خان کو شدید نقصان پہنچا اور اب جب مسلم لیگ ن کو ایک ٹف ٹائم دینے کا وقت آیا تو موصوف نے صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے سے انکار کر دیا اور عمران خان نے صحیح موقع پر غلط فیصلے کرکے سیاسی نا تجربہ کاری کا ثبوت دیاہے اور اسی طرح مولانا فضل الرحمن اور ان کی فیملی الیون جو کہ متحدہ قومی موومنٹ کی طرح اقتدار سے چند لمحے بھی باہر نہیں رہ سکتے اور اب بھی صدارتی الیکشن کو بنیاد بنا کر ایک آدھ وزارت اور حج کوٹے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایم کیو ایم اور جے یو آئی ایف دونوں ہی اقتدارکے بغیر ماہئی بے آب کی طرح ہیں۔ میرے سمیت کروڑوں پاکستانی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب میاں نوازشریف صاحب عددی حیثیت میں اس پوزیشن میں ہیں کہ ان کا امیدوار تنہا الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہے تو پھر انہوں نے موقع پرستوں ،سازشیوں، منافقوں اور بھتہ خوروں کے ٹولے ساتھ کیوں ملائے ہیں۔ میاں صاحب کے اس عمل سے عوام کے دل میں ان کا رہتا سہتا امیج بھی خراب ہو گیا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus