×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زناٹے دار تھپڑ
Dated: 03-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شدت پسندوں کے ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل پر حملے نے پورے ملک کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ حملہ آور اپنی مرضی سے آئے اور اپنا مشن مکمل کرکے چلتے بنے۔ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور فوج نے مخالف حریف کو سوئے اور بے خبری میں جا لیا۔ ایبٹ آبادآپریشن کو سامنے رکھا جائے تو اس حملہ شاہدین یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب تھے کہ ’’ایسا لگا جیسے امریکہ نے حملہ کر دیا ہو۔ڈیڑھ سو شدت پسندوں نے سو سالہ پرانی اہم جیل پر رات کو یلغار کی۔ رات بھی یہ کوئی پچھلا پر نہیں تھا۔ رات گیارہ بجے تک لوگ نماز تراویح سے فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے ہوتے ہیں۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل ملک کی سرحد پر واقع ہے نہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔ بہرحال وہ شہر کے باہر سے ایک لائو لشکر اور گاڑیوں پر اسلحہ لاد کر لائے تھے۔ ان کا ہدف اپنے حامی اور سزایافتہ 35شدت پسند قیدیوں کو چھڑانا تھا تاہم وہ 300قیدیوں کو فرار کرانے یا ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے ان میں 4دن دوسرے واپس جیل میں آ گئے جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ ان کو اس نے حراست میں لیا ہے۔ بہادر پولیس 35میں سے ایک کو بھی نہ پکڑ سکی۔ جیل پر حملہ میں 16افراد ہلاک ہوئے ان میں 6پولیس اہلکار شامل ہیں۔ حملہ آؤر سلیمانی ٹوپی پہن کر نہیں آئے تھے۔ انہوں نے شہر میں داخل ہو کر ایک پولیس چوک پر حملہ کیا۔ تین اطراف سے جیل گرائی۔ ان کے پاس 20بڑی گاڑیاں اور کئی موٹر سائیکلیں تھیں۔ پانچ خودکش دھماکوں کے علاوہ 50راکٹ میزائل دھماکوں اور فائرنگ سے پورا شہر گونج اٹھا۔ جیل کی پولیس چھپ گئی یا فرار ہو گئی جبکہ شہر کی پولیس اس ہنگامہ خیزی میں کہاں تھی۔ اس کا جواب ابھی دیا جانا باقی ہے۔ گذشتہ سال اپریل میں اسی طرح کا بنوں جیل پر حملہ ہوا تھا جس میں 384قیدی رہا کرائے گئے تھے۔ ڈی آئی خان کی جیل جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ ہمارے ہاں دہشتگردوں کی دست برد سے تھانہ اور جیلیں تو کیا جی ایچ کیو، آرمی، آئی ایس آئی، فضائیہ اور بحریہ کی تنصیبات تک محفوظ نہیں۔ آخر ان قیدیوں کو کہاں رکھا جائے۔ پاکستانی جیلوں میں امریکی مفادات کو ٹارگٹ بنانے والے دہشتگرد بھی قید ہیں جن کو ان کے ساتھی کسی بھی وقت حملہ کرکے رہا کرا سکتے ہیں۔ اگر امریکہ ان کو بگرام یا گوانتانامو میں لے جانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کو کیا جواب دینا چاہیے۔میرا خیال ہے کہ بگرام اور گوانتانامو میں ایک ایک سیل پاکستانی خطرناک قیدیوں کے لیے بھی بنا دیا جائے جس کی نگرانی پاکستانی ایجنسیوں کے پاس ہو۔ جہاں پھر سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان سکیورٹی والوں میں بھی شدت پسندوں کے ساتھی موجود ہوئے تو… بات اتنی سادہ سی بھی نہیں کہ کچھ قیدی جیل توڑ کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ۔دراصل یہ ایک پورا مائنڈ سیٹ ہے اور اس کے پیچھے عالمی سازش اور منصوبہ بندی کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔جب ہم پچھلے پانچ چھ سال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات ہر ذی ہوش کے ذہن کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے کہ گذشتہ دونوں ادوار میں ہماری عدلیہ دہشت پسندوں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔جب عدلیہ پہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو ان کی طرف سے ایک مخصوص جواب ہی دیا جاتا ہے کہ پراسیکیوٹر نے مقدمہ صحیح طریقے سے پیش نہیں کیااور ثبوت ناکافی ہونے کی وجہ سے عدالت مجبور ہے کہ ملزموں کو باعزت بری کرے۔ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ پچھلے دس سال میں مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے ہوں یا پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پر ہونے والا خودکش حملہ یا پھر پاکستان کے عسکری اداروں کے ہیڈکوارٹرز پر یلغار اور اس کے بعد واقعے میں ملوث بے شمار ملزمان گرفتار بھی کیے گئے جن سے بے شمار اسلحہ اور دہشتگردی کا سامان برآمد ہوا۔لیکن ان میں سے 90فیصد کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا گیا جن میں سے 30فیصد ملزمان دوبارہ کسی نئے دہشتگردی کے واقع میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ۔ان تمام حالات و واقعات کو ذہن میں رکھا جائے تو ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ شرپسندوں اور دہشتگردوں نے ہماری عدلیہ کے کمزور پہلو کو اپنا ہدف بنا لیا ہے یا تو عدلیہ ان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہی ہے یا پھر کچھ کالی بھیڑیں ہماری جوڈیشری کے اندر موجود ہیں۔پاک فوج، رینجرزاور پولیس سمیت لاانفورسمنٹ ایجنسیاں بے بس دکھائی دیتی ہیں اور واویلا کرتی ہیں کہ جن مجرموں کو وہ عدالتوں میں پیش کرتے ہیں وہ عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیئے جاتے ہیں۔اور جب ملک کی لاانفورسمنٹ قوتوں کو یہ ادراک ہو جائے کہ ہماری محنت ہمیشہ رائیگاں ہی کیوں جاتی ہے تو یقینا محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اب یہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ 50فیصد مجرموں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا جاتا ہے اور باقی 50فیصد کو ان کے ساتھی جیلوں سے چھڑا کر لے جاتے ہیں۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اٹھارہ کروڑ عوام نفسیاتی طور پر یہ جنگ ہار چکے ہیں کیونکہ عوام کو پتا ہے کہ جس قوم کے سکیورٹی ادارے اپنے مجرموں کی حفاظت نہ کر سکیں اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھتہ مافیا کراچی میں اپنے پائوں جمانے کے بعد اب تیزی سے لاہور ، راولپنڈی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی سرایت کر گیا ہے۔اور کھاتے پیتے گھرانے کے بزرگ پریشان ہیں کیونکہ ان کے بچے محفوظ نہیں ،اس ملک میں تاجر،کاروباری حضرات کو اغوا برائے تعاون کے لیے اغوا کرنا اتنا سادہ اور قابل عمل ہے کہ جس کا تصور بھی ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے میں محال ہے۔ہر دفعہ ایک نیا حادثہ اور سانحہ ہونے کے بعد حمود الرحمن اور ایبٹ آباد کمیشن کی طرز پر کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں، لمبے چوڑے فنڈز ان کو مہیا کیے جاتے ہیں لیکن یہ سب اٹھارہ کروڑ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا ہو گی۔ یہ معاشرہ جو ایک فیصد سے بھی کم طبقے نے یرغمال بنایا ہوا ہے آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔فرض کیجیے کہ ایک کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لے اور تصور کر لے کہ بلی مجھے نہیں دیکھ رہی لیکن کیا اس طرح وہ کبوتر اپنے انجام سے بچ سکتا ہے؟یہ جنگ ہم نے چھیڑی ہے یا مسلط کی گئی ہے اب یہ جنگ ہماری بن چکی ہے۔ ہمیں اب اپنے اہداف کا تعین کرنا ہوگا۔ وگرنہ اندر اور باہر کے دشمن ماس تو کیا ہماری ہڈیاں بھی نہیں چھوڑیں گے۔آج ہماری حالت ایتھوپیا،صومالیہ، روانڈا،یمن،افغانستان سے بے حد درجہ خطرناک ہو چکی ہے۔لیکن جب تک ہماری سیاسی اور عسکری قیادت سمیت ہماری عدلیہ کو ہوش نہیں آئے گا ہم اپنے دشمنوں پر حاوی نہیں ہو سکتے۔ دنیا بھر میں جب کوئی بھی مملکت ایسی صورتحال سے دوچار ہو تو وہ خصوصی قانون سازی کے ذریعے ایسی پالیسی اور فول پروف قوانین بناتے ہیں کہ جس سے مجرم باآسانی کھیل نہ سکے۔جیسے نائن الیون کے بعد امریکہ اورسیون سیون کے بعد برطانیہ نے ہوم لینڈ سکیورٹی جیسے سخت قوانین متعارف کروائے۔اور وہ آئندہ کسی ممکنہ حادثے سے بچے ہوئے ہیں۔کیا ہماری پارلیمنٹ اور سیاستدان اور پالیسی میکر پچھلے 13سال سے غفلت کی نیند سو رہے ہیں؟ ایک اطلاع کے مطابق بنوں جیل میں حملہ کے بعد سے معطل کیے گئے 145اہلکار اس سانحہ کے وقت ڈیرہ اسمٰعیل خان کی جیل میں تعینات تھے۔ یہ ہمارے نظام،سسٹم اور بیوروکریسی کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus